ممتاز تجزیہ کار رینا شاہ نے کہا ہے کہ اقوام متحدہ کی حالیہ مانیٹرنگ رپورٹس نے ان حقائق کی عالمی سطح پر تصدیق کر دی ہے جو پاکستان برسوں سے دنیا کے سامنے پیش کر رہا ہے۔ سماء ٹی وی کے پروگرام ‘ریڈ لائن’ میں معروف صحافی طلعت حسین کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ افغان سرزمین پر دہشت گرد گروہوں کی موجودگی اب فقط الزامات نہیں بلکہ ایک بین الاقوامی مسلمہ حقیقت بن چکی ہے۔
رینا شاہ نے انکشاف کیا کہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی 37 ویں مانیٹرنگ رپورٹ میں کسی شک و شبہ کی گنجائش نہیں چھوڑی گئی۔ رپورٹ کے مطابق ٹی ٹی پی افغانستان میں موجود بڑے دہشت گرد گروہوں میں سے ایک ہے، جسے افغان طالبان کی جانب سے تربیت، لاجسٹکس اور نقل و حرکت کی مکمل آزادی حاصل ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ افغان حکام کا دہشت گرد گروہوں کی عدم موجودگی کا دعویٰ اب اپنی ساکھ کھو چکا ہے اور عالمی برادری اس پر توجہ مرکوز کر رہی ہے۔
امریکی تناظر پر بات کرتے ہوئے رینا شاہ نے بتایا کہ واشنگٹن میں پاکستان کی اہمیت ایک بار پھر اجاگر ہو رہی ہے۔ امریکہ اب پاکستان کو دہشت گردی کے خلاف صفِ اول کے شراکت دار اور ایک ایسی ‘فرنٹ لائن اسٹیٹ’ کے طور پر دیکھ رہا ہے جو مشترکہ عالمی خطرے کو روکنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی جانب سے دی جانے والی ہزاروں جانوں کی قربانی اور اربوں ڈالر کے اخراجات اب عالمی سطح پر تسلیم کیے جا رہے ہیں۔
مستقبل کے لائحہ عمل کے حوالے سے رینا شاہ کا کہنا تھا کہ پاکستان کو کشیدگی سے بچتے ہوئے اپنے دستیاب آپشنز استعمال کرنے چاہئیں۔ انہوں نے سرحدوں کی نگرانی میں اضافے، درانداز عناصر کے خلاف ٹارگٹڈ آپریشنز اور اقوام متحدہ و او آئی سی جیسے کثیرالجہتی فورمز پر سفارتی دباؤ برقرار رکھنے کی ضرورت پر زور دیا۔ ان کے مطابق عالمی برادری کو چاہیے کہ وہ کابل پر دباؤ بڑھانے کے لیے احتسابی میکانزم اور پابندیوں جیسے اقدامات کرے تاکہ افغانستان کو اپنی ذمہ داریوں کا احساس دلایا جا سکے۔