اقوام متحدہ کے مشن برائے امداد افغانستان (یوناما) نے اکتوبر تا دسمبر 2025 کے دوران پاکستان کی سرحد پار کارروائیوں کے نتیجے میں افغان شہریوں کے ہلاکتوں اور زخمی ہونے کی رپورٹ جاری کی ہے، جس میں 70 ہلاکتیں اور 478 زخمی ہونے کی اطلاعات دی گئی ہیں۔ رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا کہ پاکستانی فوجی کارروائیوں میں شہری متاثر ہوئے اور گھروں، خواتین اور بچوں کو نشانہ بنایا گیا، یہاں تک کہ 15 اکتوبر کو جنگ بندی کے اعلان کے بعد بھی حملے جاری رہے۔
تاہم، رپورٹ میں بنیادی اور اہم پہلوؤں کو نظر انداز کیا گیا ہے۔ یوناما نے اپنی حد بندی صرف افغان شہریوں تک رکھی، جبکہ پاکستان میں دہشت گردانہ کارروائیوں اور شہری ہلاکتوں کو خارج کر دیا، حالانکہ یہ واقعات بھی اسی سرحد پار کشیدگی اور دہشت گردانہ حملوں سے متعلق ہیں۔ اس سے رپورٹ کے نتائج جزوی اور غیر متوازن دکھائی دیتے ہیں۔
Released today (in English, Dari & Pashto):
— UNAMA News (@UNAMAnews) February 8, 2026
– Update on the human rights situation in Afghanistan: October–December 2025
– Cross-border civilian casualties in Afghanistan: October–December 2025
Download here: https://t.co/hwhsb3rVbU pic.twitter.com/7iBc4f0Izi
پاکستان بارہا اقوام متحدہ، چین، ایران، روس اور دیگر ممالک کے ذریعے طالبان حکومت کو انتباہ کر چکا ہے کہ افغانستان میں دہشت گرد نیٹ ورکس کو پناہ دینا اور ان کے لیے آزادانہ کام کرنے کی اجازت دینا پاکستان کی سکیورٹی کے لیے براہ راست خطرہ ہے۔ طالبان حکومت کی پالیسی کی بدولت دہشت گرد شہری علاقوں میں چھپ جاتے ہیں، جس سے شہری نقصان ایک متوقع اور ناگزیر نتیجہ بن جاتا ہے۔
پاکستان مسلسل دہشت گردانہ حملوں کی زد میں ہے۔ 2025 میں پاکستان میں دہشت گردی کے نتیجے میں 1,957 افراد ہلاک اور 3,603 زخمی ہوئے، جب کہ اسی دوران 3,079 دہشت گرد ناکارہ بنائے گئے، جن میں 245 افغان شہری بھی شامل تھے۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ پاکستان کی کارروائیاں دفاعی اور محدود تھیں، نہ کہ بلاوجہ جارحیت۔
یوناما نے طالبان حکومت سے حاصل کردہ ڈیٹا پر زیادہ انحصار کیا ہے، جو عموماً پروپیگنڈہ پر مبنی اور غیر معتبر ہوتا ہے۔ دہشت گرد ٹھکانوں پر کارروائی کے بعد طالبان حکام اکثر شہری ہلاکتوں کا دعویٰ کرتے ہیں، جسے یوناما نے بغیر آزاد تصدیق کے رپورٹ میں شامل کیا۔ یہ طریقہ کار رپورٹ کے معروضی اور حقیقی تجزیے میں رکاوٹ پیدا کرتا ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ افغان شہری خود پاکستان کے خلاف دہشت گردانہ کارروائیوں میں شامل ہیں۔ مارچ 2022 تا ستمبر 2025 کے دوران متعدد خودکش حملے اور گاڑی بم دھماکے افغان شہریوں نے کیے، جیسے اسلام آباد امام بارگاہ دھماکہ، بنوں اور دیگر مقامات پر حملے، جو افغان علاقوں سے منصوبہ بندی اور سہولت کاری کے ذریعے انجام پائے۔
رپورٹ میں دہشت گردوں کے سوشل اور مذہبی مظاہر، جیسے جنازے اور تعزیتی اجتماعات، بالکل نظر انداز کیے گئے ہیں، حالانکہ یہ دہشت گردانہ نظریات کی بین الاقوامی سطح پر ترویج اور معمول بن جانے کا ثبوت ہیں۔ مثال کے طور پر، اکتوبر میں مولوی صدام کے تعزیتی اجتماع کا انعقاد نہ صرف قندوز بلکہ فرانس میں بھی ہوا، جس میں افغان مہاجرین نے شرکت کی۔
پاکستان نے طالبان کے اقتدار کے بعد بھی ہر ممکن سفارتی کوشش کی، جس میں چار وزرائے خارجہ کے دورے، دو وزیر دفاع/آئی ایس آئی کے مشن، پانچ خصوصی نمائندوں کے دورے، پانچ سیکریٹری سطح کی میٹنگز، ایک این ایس اے دورہ، آٹھ مشترکہ اجلاس اور 836 سرحدی فلیگ میٹنگز شامل ہیں۔ ان کوششوں کے باوجود دہشت گردانہ حملے جاری رہے، جس کے بعد پاکستان نے صرف تصدیق شدہ ٹی ٹی پی ٹھکانوں کے خلاف محدود اور ہدفی کارروائیاں کیں۔
نتیجتاً، یوناما کی رپورٹ پاکستانی دفاعی اقدامات کی حقیقت کو نظر انداز کرتی ہے اور طالبان حکومت کی جانب سے دہشت گردوں کو پناہ دینے کی ذمہ داری کو چھپا دیتی ہے۔ رپورٹ کے تجزیے میں سبب اور نتیجہ کے تسلسل کو نظرانداز کیا گیا، جس سے پاکستانی کارروائیوں کو غیر مناسب اور بلاوجہ دکھایا گیا۔
یہ رپورٹ اس بات کی ضرورت کو اجاگر کرتی ہے کہ اقوام متحدہ کی تمام رپورٹس میں طالبان کی دہشت گردی کی حمایت اور سرحد پار دہشت گردانہ حملوں کے پس منظر کو شفاف طور پر شامل کیا جائے، تاکہ افغان شہری نقصان کے حقائق اور دہشت گردانہ خطرات کا مکمل اور معروضی تجزیہ سامنے آ سکے۔