پاک افغان سرحد پر جاری حالیہ کشیدگی کے سائے میں دونوں ممالک کے درمیان ایک بار پھر ‘سفارت کاری’ کا آغاز ہو گیا ہے۔ چین کی سہولت کاری سے ارمچی میں ہونے والے ان مذاکرات اور افغان وزیرِ خارجہ امیر خان متقی کے حالیہ بیانات نے کابل کے رویے میں ایک محتاط لیکن مثبت تبدیلی کی نشاندہی کی ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق مذاکرات کو میڈیا کی نظروں سے دور رکھنا اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ دونوں فریق اب سنجیدہ اور نتیجہ خیز نتائج حاصل کرنے کے لیے کوشاں ہیں۔
پاکستان نے ہمیشہ اس اصولی مؤقف کی حمایت کی ہے کہ پاک افغان سرحد پر جاری کشیدگی کا حل صرف اور صرف مکالمے میں موجود ہے۔ سرحد پر تناؤ کے باوجود پاکستان نے کبھی بھی بات چیت کا راستہ بند نہیں کیا۔ تاہم ماضی کا ریکارڈ شاہد ہے کہ افغان فریق کی جانب سے مسلسل سفارتی روابط میں ہچکچاہٹ اور تاخیری حربوں کے باعث بامعنی پیش رفت ہمیشہ تعطل کا شکار رہی۔ کابل کی جانب سے مذاکرات کے لیے موجودہ آمادگی بلاشبہ ایک خوش آئند قدم ہے، لیکن اس لچک کو اب زمین پر نظر آنے والے عملی اقدامات میں بدلنا ہوگا۔
د «افغانستان – منځنۍ اسيا مشورتي خبرو اترو» غونډې په پای کې د هېواد د بهرنیو چارو وزیر پايليزه وينا
— حافظ ضياء احمد تکل (@ZiaAhmadtkl) April 8, 2026
Closing Remarks by IEA-Foreign Minister at the “Afghanistan–Central Asia Consultative Dialogue” pic.twitter.com/v6zQG5NKJ6
ٹی ٹی پی اور محفوظ پناہ گاہیں: اصل چیلنج
سفارتی حلقوں کا کہنا ہے کہ پاک افغان تعلقات میں بہتری کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ افغانستان کے اندر دہشت گردوں کی محفوظ پناہ گاہیں، خصوصاً تحریک طالبان پاکستان جیسے گروہوں کی موجودگی ہے۔ پاکستان نے ارمچی مذاکرات میں بھی یہ واضح کر دیا ہے کہ سکیورٹی خدشات کا حل ہی وہ واحد راستہ ہے جو اعتماد سازی اور دیرپا استحکام کی طرف جاتا ہے۔ جب تک افغانستان کی سرزمین سے ہونے والی دہشت گردی کے خلاف ٹھوس کارروائی نہیں کی جاتی، تب تک کسی بھی معاہدے کا عملی طور پر کامیاب ہونا مشکل نظر آتا ہے۔
سنجیدگی اور جوابدہی کی ضرورت
ماہرینِ سیاسیات کے مطابق سفارت کاری ہی آگے بڑھنے کا واحد راستہ ہے، مگر اس کے لیے دونوں اطراف سے غیر معمولی سنجیدگی اور جوابدہی کی ضرورت ہے۔ اگر کابل واقعی تعلقات کو نئی نہج پر استوار کرنا چاہتا ہے تو اسے عسکریت پسندی کے خلاف ایسے اقدامات کرنا ہوں گے جو محض علامتی نہ ہوں بلکہ زمینی حقائق کو تبدیل کر سکیں۔
ارمچی میں ہونے والے ان مشاورتی مذاکرات کی کامیابی کا تمام تر دارومدار اس بات پر ہے کہ افغانستان پاکستان کے سکیورٹی تحفظات کو کس حد تک دور کرتا ہے۔ پاکستان اب بھی ایک برادر ملک کے طور پر افغانستان کے ساتھ کھڑا ہے، لیکن دیرپا امن کے لیے کابل کو اپنی سرزمین سے ہونے والی شدت پسندی کے خاتمے کے لیے فیصلہ کن اقدامات کرنا ہوں گے۔