واشنگٹن: امریکا کے نیشنل کاؤنٹر ٹیررازم سینٹر کے ڈائریکٹر جو کینٹ نے ایران کے خلاف جاری جنگ کی مخالفت کرتے ہوئے اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا، انہوں نے کہا کہ وہ ضمیر کے مطابق اس جنگ کی حمایت نہیں کر سکتے، جسے وہ امریکا کے مفاد کے خلاف قرار دیتے ہیں
جو کینٹ نے سوشل میڈیا پر جاری بیان میں مؤقف اختیار کیا کہ ایران امریکا کے لیے فوری خطرہ نہیں تھا، جبکہ یہ جنگ مبینہ طور پر اسرائیل اور اس کی بااثر امریکی لابی کے دباؤ کے نتیجے میں شروع کی گئی۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ ایسی پالیسی کا حصہ نہیں بن سکتے جس سے مزید انسانی جانوں کا نقصان ہو۔
After much reflection, I have decided to resign from my position as Director of the National Counterterrorism Center, effective today.
— Joe Kent (@joekent16jan19) March 17, 2026
I cannot in good conscience support the ongoing war in Iran. Iran posed no imminent threat to our nation, and it is clear that we started this… pic.twitter.com/prtu86DpEr
ان کے مطابق ایران کے خلاف کارروائی کے حق میں پیش کیے جانے والے دلائل اور فوری کامیابی کے دعوے 2003 کی عراق جنگ سے قبل کی صورتحال سے مشابہت رکھتے ہیں۔
جو کینٹ نے کہا کہ وہ خود عراق جنگ میں حصہ لے چکے ہیں اور جنگ کے نتائج کو قریب سے دیکھ چکے ہیں۔ ان کی اہلیہ شینن کینٹ بھی شام میں ایک کارروائی کے دوران ہلاک ہوئی تھیں، جس کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جنگوں کی اصل قیمت انسانی جانوں کی صورت میں ادا کرنا پڑتی ہے۔
انہوں نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ ایک ایسے شخص کے طور پر جس نے متعدد بار جنگی خدمات انجام دیں اور ذاتی نقصان بھی اٹھایا، وہ نئی نسل کو ایسی جنگ میں بھیجنے کی حمایت نہیں کر سکتے جو ان کے بقول امریکی عوام کے مفاد میں نہیں۔
دیکھئیے:مشرقِ وسطیٰ میں جنگ کے باوجود پاک ایران تجارت بلا تعطل جاری