مشرقِ وسطیٰ میں امن قائم کرنے کے لیے پاکستان کی تاریخ ساز سفارتی کامیابی اور امریکہ و ایران کے درمیان دو ہفتوں کی جنگ بندی نے جہاں پوری دنیا کو راحت پہنچائی ہے، وہیں خطے میں انتشار اور خونریزی چاہنے والے عناصر بری طرح تلملا اٹھے ہیں۔ صیہونی ایجنٹ اور شدید متنازع تجزیہ کار امجد طہٰ نے پاکستان کی ان مخلصانہ کوششوں کو ‘غداری’ اور ‘دہشت گردوں کی حمایت’ قرار دے کر اپنی بوکھلاہٹ کا ثبوت دیا ہے۔
دو روز قبل اپنے بیان میں امجد طہٰ نے پاکستان اور ترکیہ کی جانب سے کی جانے والی ثالثی کی کوششوں کی سخت مخالفت کی تھی۔ ماہرینِ سیاسیات کے مطابق امجد طہٰ کا امن کے بجائے جنگ کو وسعت دینے کی وکالت کرنا خالصتاً ایک صیہونی منصوبہ ہے، جس کا مقصد مسلمان ممالک کو آپس میں لڑا کر کمزور کرنا ہے تاکہ اسرائیل کے لیے خطے میں غلبہ پانے کا راستہ صاف ہو سکے۔
امجد طہٰ کا زہریلا پراپیگنڈہ اور حقیقت
امجد طہٰ نے اپنے حالیہ ٹویٹ میں پاکستان پر الزام عائد کیا ہے کہ اسلام آباد نے ایران کی حکومت کو ‘زندگی’ فراہم کی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ جب دنیا ایک ہولناک ایٹمی تصادم کے دہانے پر کھڑی تھی، تب پاکستان نے ایک ذمہ دار ایٹمی قوت کے طور پر اپنا کردار ادا کیا۔ امجد طہٰ جیسے لوگ جو شاید معصوم انسانوں کے خون کی ہولی دیکھنے کے عادی ہیں، انہیں امن کی ٹھنڈی فضائیں’ ہضم نہیں ہو رہی رہیں۔
اسلام آباد: عالمی امن کا نیا مرکز
جس ریاست کو امجد طہٰ ‘پسماندہ’ قرار دے رہے ہیں، آج دنیا کی واحد سپر پاور امریکہ اور خطے کی اہم طاقت ایران اسی کی دہلیز پر امن کے طلبگار ہیں۔ یہ پاکستان کی وہ اخلاقی اور سفارتی برتری ہے جس کا اعتراف صدر ڈونلڈ ٹرمپ جیسے سخت گیر لیڈر نے بھی کیا ہے۔ پاکستان نے ایران کے دس نکاتی امن ایجنڈے کو واشنگٹن کے لیے قابلِ قبول بنا کر ثابت کر دیا ہے کہ بندوق کی گولی سے بہتر الفاظ کی قوت ہے۔
پاکستان کا کردار: پُل یا دیوار؟
امجد طہٰ کا پاکستان پر خلیجی ممالک کے خلاف جارحیت کو نہ روکنے کا الزام سراسر لغو ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اگر پاکستان مداخلت نہ کرتا تو تہران کے ساتھ ساتھ پورا خطہ، بشمول سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور اردن، ایک ایسی آگ کی لپیٹ میں ہوتا جس کا ایندھن صرف مسلمان بنتے۔ پاکستان نے سعودی عرب کا تزویراتی حلیف ہونے کے باوجود تہران کا اعتماد برقرار رکھ کر ایک ایسے پُل کا کردار ادا کیا ہے جس نے مشرق اور مغرب کو جوڑ دیا ہے۔
تجزیہ کاروں کی رائے
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ امجد طہٰ جیسے عناصر دراصل ان قوتوں کے آلہ کار ہیں جو مشرقِ وسطیٰ کو تقسیم در تقسیم دیکھنا چاہتی ہیں۔ پاکستان کا ‘امن مشن’ ان تمام صیہونی سازشوں کے خلاف ایک مضبوط آہنی دیوار ثابت ہوا ہے۔ اسلام آباد اب محض ایک شہر نہیں بلکہ عالمی امن کا وہ نیا مرکز بن چکا ہے جہاں اب بارود نہیں بلکہ مذاکرات کی زبان چلے گی۔