اسلام آباد مذاکرات تو ناکام ہوگئے، سوال یہ ہے کہ اب آگے کیا ہوگا؟ دنیا کس طرف جائے گی؟ امریکہ کہاں کھڑا ہے؟ ایران کیا سوچ رہا ہے؟ ان کا ٹکراو اس پورے خطے پر کس طرح اثرانداز ہوگا۔ اس سب پر بات کرتے ہیں، مگر پہلے مذاکرات پر ایک طائرانہ نظر ڈال لیں۔
اکیس گھنٹے۔ یہ وہ وقت ہے جو امریکی نائب صدر جے ڈی وینس اور ایرانی وفد نے اسلام آباد کے سرینا ہوٹل میں ایک دوسرے کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر گزارا۔ انیس سو اناسی کے بعد پہلی بار دونوں ملکوں کے اعلیٰ ترین نمائندے براہ راست ایک ہی میز پر بیٹھے۔ سوچیں تو لگتا ہے یہ تاریخ کا ایک بڑا لمحہ تھا۔ مگر اکیس گھنٹے گزرے، سورج ڈوبا، پھر اگلے دن طلوع ہوا اور دونوں وفد خالی ہاتھ اٹھ گئے۔
کیا یہ مذاکرات واقعی ناکام ہوئے؟ یا یہ بھی عالمی سیاست کا وہ کھیل تھا جس میں اصل فیصلہ میز پر نہیں، اس کے پیچھے ہوتا ہے؟خاکسار کی رائے میں اس سوال کا جواب سمجھنا بہت ضروری ہے، ورنہ ہم اس پوری کہانی کا صرف اوپری خول یا چھلکا دیکھتے رہیں گے، اندر کی تہیں نظر نہیں آئیں گی۔ چلیں فلم کو تھوڑا سا ریورس کرتےہیں۔
وہ چند ہفتے جو تاریخ بدل سکتے تھے۔
چھ فروری دو ہزار چھبیس کو پہلی بار ایران اور امریکہ نے عمان کی ثالثی میں بات کی۔ پھر جنیوا میں دوسرا اور تیسرا دور ہوا۔ عمانی وزیر خارجہ نے کہا کہ سمجھوتہ “ہاتھ کی پہنچ میں ہے”، ایرانی وزیر خارجہ عراقچی نے کہا “تاریخی معاہدہ ممکن ہے”۔ ماحول سازگار لگ رہا تھا۔ مگر اٹھائیس فروری کو کیا ہوا؟
اچانک امریکہ اور اسرائیل نے بڑی سٹرائیک کر دی۔ ان کے فضائی حملوں نے خامنہ ای صاحب کو شہید کر دیا۔ ایران کی اہم تنصیبات تباہ ہوئیں اور پورا خطہ جنگ کی لپیٹ میں آ گیا۔ آرمز کنٹرول ایسوسی ایشن کے ماہرین نے بعد میں لکھا کہ جنیوا مذاکرات کے ختم ہوتے ہوتے ٹرمپ نے غالباً جنگ کا فیصلہ پہلے ہی کر لیا تھا، مذاکرات محض وقت گزاری تھے۔ اگر یہ سچ ہے تو یہ سفارت کاری کی تاریخ کا ایک سیاہ باب ہے۔
پھر وہی ہوا جو بڑی طاقتوں کے ٹکرائو میں ہمیشہ ہوتا ہے۔ جنگ شروع ہوتی ہے، عام لوگ مرتے ہیں، معیشتیں تباہ ہوتی ہیں اور پھر آخر میں وہی بات چیت شروع ہوتی ہے جو پہلے ہو سکتی تھی۔ دو ہزار تین میں عراق پر بھی یہی ہوا تھا۔ تباہی پہلے، پھر مذاکرات۔ کیا انسان نے تاریخ سے کچھ سیکھا ہے؟ سوچتا ہوں تو جواب مایوس کن ہی لگتا ہے۔
اسلام آباد میں ناکامی کیوں ہوئی؟
اسلام آباد مذاکرات کی ناکامی کی اصل وجہ وہ نہیں جو دونوں طرف کے بیانات میں بتائی گئی۔ وینس نے کہا ایران جوہری ہتھیار نہ بنانے کا وعدہ نہیں دیتا، یہ سچ ہے۔ ایران نے کہا امریکہ ضرورت سے زیادہ مطالبات کر رہا ہے ، یہ بھی سچ ہے۔ مگر اصل بات دونوں کے پیچھے چھپی ہے۔
ایران نے آبنائے ہرمز پر مکمل خودمختاری مانگی۔ جنگی تاوان مانگا۔ خطے سے امریکی اڈوں کی بندش مانگی۔ لبنان میں حزب اللہ کے خلاف جنگ بندی مانگی۔ یہ چار مطالبات انہوں نے “غیر قابل مذاکرہ” قرار دیے۔ سوال پوچھا جانا چاہیے کہ کوئی فاتح ملک، چاہے وہ امریکہ ہو یا کوئی اور، کیا یہ سب مان سکتا ہے؟ یہ مطالبات جائز تو ہیں، مگر حقیقت پسندانہ نہیں۔ مذاکرات کی میز پر جانے والا شخص اپنے ساتھ اوپننگ بِڈ لے کر جاتا ہے، “تمام یا کچھ نہیں” والی ضد نہیں لے کر جاتا۔
دوسری طرف امریکہ نے بھی ابتدا ہی سے سخت موقف رکھا۔ مطالبہ کیا کہ ایران ملک کے اندر یورینیم افزودگی مکمل بند کرے، تمام تنصیبات ختم کرے، تمام پراکسیز سے تعلق توڑ دے اور سب سے اہم کہ آبنائے ہرمز فوری کھولے، میزائل پروگرام محدود کرے۔ان میں سے کسی پر بھی ایران فوری عمل کرنے کی پوزیشن میں نہیں تھا۔ ایرانی عوام سوال کرتے کہ یہ سب پھر پہلے کر دینا تھا، اتنا نقصان کیوں اٹھانا پڑا؟
مسئلہ یہ بھی تھا کہ امریکی مذاکراتی ٹیم اس کام کی اہل ہی نہیں تھی۔ اسٹیو وِٹکاف جائیداد کے کاروبار سے آئے ہیں، جوہری ماہر نہیں۔ کشنر داماد ہیں،لکی سن آن لا، مگر وہ سفارت کار نہیں۔ ایسے ناتجربہ کار لوگوں کو سب سے پیچیدہ جوہری مذاکرات پر بھیج دیا گیا۔ یہ ایسا ہی ہے جیسے کسی میچ میں اوپننگ بیٹسمین کی جگہ ٹیل اینڈر کو نئی گیند سے کھیلنے بھیج دیا جائے ۔
ایک اور پیچیدگی بھی تھی۔ ایران نے اپنے دس نکات کا ڈرافٹ فارسی اور انگریزی دونوں میں جاری کیا، مگر دلچسپ بات یہ تھی کہ دس نکاتی منصوبے کا فارسی نسخہ اور انگریزی نسخہ ایک جیسا نہیں تھا۔ فارسی میں یورینیم افزودگی کا حق اور جنگی تاوان لینے کا واضح طور پر درج تھا ، انگریزی نسخے میں یہ دونوں باتیں غائب تھیں۔ یعنی ایران نے اپنے عوام کو ایک پیغام دیا اور امریکہ کو دوسرا۔
کیا ٹرمپ “طاقت کا غرور”سنڈروم کا شکار ہوئے ؟
معروف مغربی تجزیہ کار پروفیسر ول والڈرف نے مذاکرات کی ناکامی کے فوراً بعد ایک دلچسپ نکتہ اٹھایا ہے جو سوچنے پر مجبور کرتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ٹرمپ کے سامنے دو راستے تھے۔ پہلا یہ کہ اپنے عملی مزاج کے مطابق جنگ کو اس وقت روک لیں جب واضح ہو جائے کہ یہ مہنگی پڑ رہی ہے جیسا انہوں نے گزشتہ سال یمن میں حوثیوں کے خلاف جنگ روک کر کیا تھا۔ دوسرا راستہ وہ ہے جسے والڈرف “طاقت کا غرور” کہتے ہیں ، یعنی یہ سوچنا کہ تھوڑا سا اور دباؤ ڈالا جائے تو سامنے والا جھک جائے گا۔
یہ رجحان عموماً اُن جنگوں میں طاقتور فریق میں پیدا ہوتا ہے جہاں مقابلہ غیر متوازن ہو،جیسا کہ آج ایران کے ساتھ صورتحال ہے۔ ایسے میں طاقتور فریق اس غلط فہمی میں مبتلا ہو جاتا ہے کہ تھوڑا سا مزید دباؤ یا طاقت کا استعمال مخالف کو جھکانے کے لیے کافی ہوگا۔ منطق یہ ہوتی ہے کہ جب ہم اتنا کچھ تباہ کر چکے ہیں اور ہمارے پاس مزید طاقت بھی موجود ہے تو سامنے والا کیسے نہ جھکے گا؟
ایسے حالات میں قیادت عموماً حکمتِ عملی کے بجائے وقتی عسکری کامیابیوں یعنی صرف تباہی پھیلانے پر مرکوز ہو جاتی ہے اور یہ سمجھنے لگتی ہے کہ اس کے پاس درحقیقت موجود سے کہیں زیادہ دباؤ ڈالنے کی صلاحیت ہے۔ اسلام آباد مذاکرات کی ناکامی کے بعد یہ واضح ہو گیا ہے کہ ٹرمپ اب بھی اسی “طاقت کے غرور” میں مبتلا ہیں۔
پروفیسر والڈرف کے مطابق اسلام آباد مذاکرات کی ناکامی کے فوری بعد ٹرمپ کا آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی کا اعلان کرنا اسی دوسرے راستے کی علامت ہے۔ وہ لکھتے ہیں کہ یہ ناکہ بندی امریکی عوام کے لیے ایندھن مہنگا کرے گی اور ٹرمپ کی سیاسی پوزیشن کمزور کرے گی ، پھر بھی یہ فیصلہ ہوا۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ٹرمپ کو یقین ہے کہ مزید دباؤ کام کرے گا۔
مذاکراتی حکمت عملی پر بھی والڈرف کی بات وزنی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ جے ڈی وینس کا یہ جملہ کہ “ایران نے ہماری شرائط قبول نہیں کیں” اصل مذاکراتی ذہنیت نہیں ہے ۔ حقیقی مذاکرات میں لین دین ہوتا ہے، صرف ہتھیار ڈالنے کی شرائط نہیں رکھی جاتیں۔ والڈرف یاد دلاتے ہیں کہ یہی “طاقت کا غرور” امریکہ کو ویتنام، عراق اور افغانستان میں طویل دلدلوں میں لے گیا تھا۔
میری ذاتی رائے میں امریکی تجزیہ کار پروفیسر والڈرف کا یہ تجزیہ صرف ٹرمپ پر نہیں، پوری عالمی سیاست پر لاگو ہوتا ہے۔ طاقت کے نشے میں چور قوم کو یہ سمجھنا مشکل ہو جاتا ہے کہ دنیا میں کچھ مسائل بموں سے نہیں، بات چیت سے حل ہوتے ہیں۔
پاکستان کا کردار اہم اور شاندار رہا
اس پوری ملی جلی نیم تاریک، نیم روشن کہانی میں پاکستان کا کردار ایک بہت روشن جگمگاتا استثنا ہے۔ جب دنیا سوچ رہی تھی کہ امریکہ اور ایران کو ایک چھت تلے کون لا سکتا ہے، تو جواب اسلام آباد سے آیا۔ یہ اتفاق نہیں تھا، یہ ہفتوں کی خاموش، صبر آزما اور انتہائی نازک سفارتی محنت کا نتیجہ تھا۔
وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر نے مل کر جو کردار ادا کیا، وہ پاکستانی سول ملٹری قیادت کے بہترین تعاون کی مثال ہے۔ یہ وہی تعاون ہے جس کی ہمیں ہمیشہ ضرورت رہی ہے اور جو ہمیشہ کم نظر آیا۔ اس بار دونوں نے مل کر کام کیا ۔ سیاسی قیادت نے سفارتی راستہ کھولا، فوجی قیادت نے اعتماد کی ضمانت دی۔
پاکستان نے ایرانی وفد کو اسلام آباد لانے کے لیے اپنے جے ایف سترہ اور ایف سولہ طیارے ایرانی فضاء پر اسکارٹ کے لیے بھیجے ۔ ایک جنگ زدہ ملک کے نمائندوں کو محفوظ گزرگاہ فراہم کرنا، یہ عملی ضمانت کی سب سے بڑی شکل تھی۔ پھر دونوں وفود کو ایک چھت تلے لانا، تین دور کی بات چیت کرانا ، ایوب خان کے بعد پاکستانی سفارت کاری کا یہ شاید سب سے بڑا لمحہ تھا۔
ایک باریک مگر بہت معنی خیز بات بھی ہوئی جو شاید کچھ لوگ نوٹس نہیں کر پائے ہوں گے۔ فیلڈ مارشل عاصم منیر جب ایرانی وفد کے استقبال کے لیے گئے تو فوجی وردی میں تھے اور جب امریکی نائب صدر وینس آئے تو انہوں نے سوٹ پہن رکھا تھا۔ یہ محض لباس کا فرق نہیں تھا۔ ایران کو پیغام تھا کہ ہم آپ کو ایک فوجی ریاست کے طور پر عزت دیتے ہیں، آپ کے ساتھ ہماری پہچان قوت اور وقار کی ہے۔ امریکہ کو پیغام تھا کہ ہم آپ کے ساتھ برابری کی سطح پر سول حیثیت میں بیٹھتے ہیں۔ سفارت کاری میں علامتیں اہم ہوتی ہیں، پاکستان نے بھی یہ علامت بہت سوچ کر چنی تھی۔
ایک اور کام جو پاکستان نے بہت سلیقے سے کیا، وہ میڈیا کا معاملہ تھا۔ اسلام آباد میں میڈیا سرکس نہیں لگنے دی گئی۔ سرینا ہوٹل کے گرد تین کلومیٹر کا ریڈ زون، ہوٹل کے مہمانوں کو باہر منتقل کیا گیا، ہزاروں فوجی اور نیم فوجی اہلکار تعینات مگر ساتھ ہی میڈیا کو ایسی جگہ رکھا گیا کہ جہاں وہ میڈیا سرکس نہ لگا سکیں، ان تک اصل خبر نہ پہنچے اور یوں مذاکرات کی حساسیت بھی متاثر نہ ہو۔ دنیا کے بڑے مذاکرات کیمروں کی چمک میں نہیں، خاموشی میں ہوتے ہیں ۔ یہ بات پاکستانی منتظمین نے سمجھی اور اس پر عمل کیا۔
کچھ لوگ پوچھ رہے ہیں کہ مذاکرات ناکام ہوئے تو پاکستان کا کردار بھی ناکام ہوا۔ میں اس رائے سے اتفاق نہیں کرتا۔ پاکستان نے ثالث کا کام کیا، فیصلہ ساز کا نہیں۔ پاکستانی سابق سفارت کار منیر اکرم نے ٹھیک کہا کہ “ہم انہیں میز پر لے آئے، اب فیصلہ ان کا کام ہے۔” وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے صاف کہا ہے کہ پاکستان آنے والے دنوں میں بھی ثالثی جاری رکھے گا۔ یہ بھروسے کی بات ہے۔
ہمارے ہاں پاکستان کی سفارتی کامیابیوں کو گھٹانے کا رواج ہے۔ کچھ حلقے ہر اچھے کام میں بھی نقص نکالنا ضروری سمجھتے ہیں۔ انہیں یاد دلانا چاہتا ہوں کہ دنیا کی دو سب سے بڑی متحارب طاقتوں کو جن میں سے ایک نے صرف چند ہفتے قبل دوسرے کے مقبول سپریم لیڈر کو قتل کیا ہو ، ایک ہی کمرے میں بٹھانا کوئی معمولی کام نہیں۔ ناکامی وہاں ہوئی جہاں ہونی تھی ، مذاکرات کرنے والوں کے دلوں میں۔ پاکستان نے اپنا حصہ پوری دیانت سے ادا کیا۔
ہمارے ہاں ایک سیاسی حلقے کو موجودہ رجیم،موجودہ حکومت سے شدید اختلاف اور تحفظات ہیں۔ وہ بھی اس پورے عمل پر بلاجواز تنقید کر رہے ہیں۔ اختلاف اپنی جگہ مگر جو بات جیسے ہوئی ہے، ویسی کہنی چاہیے۔ اگر اس پورے معاملے میں پاکستانی، پاکستانی قیادت اچھا کھیلی ہے تو اسے مان لیں۔ ویسے بھی کسی کے نہ ماننے سے حقیقت تبدیل تو نہیں ہوجائے گی۔
آگے کیا ہوگا؟
ٹرمپ نے مذاکرات ناکام ہوتے ہی آبنائے ہرمز کی بحری ناکہ بندی کا اعلان کر دیا۔ انہوں نے کہا کہ ایران کو ٹیکس دے کر گزرنے والے چین، بھارت اور پاکستان کے جہازوں کو بھی کھلے سمندر میں روکا جائے گا۔ یہ نئی آگ ہے۔ ہرمز تو ایران کے قبضے میں ہے ۔ اب امریکہ نے کہا ہم باہر سے بھی روکیں گے۔ یعنی ایک طرف سے ایران کی ناکہ بندی، دوسری طرف سے امریکہ کی ناکہ بندی اور درمیان میں دنیا کا بیس فیصد تیل۔ صدر ٹرمپ شائد ایران پر مالی دباو ڈال کر اسے امریکی شرائط ماننے پر مجبور کرنا چاہ رہے ہیں۔ مقصد یہی ہے کہ ایران جو تیل بیچ رہا ہے، وہ رک جائے، اسے ٹول ٹیکس بھی کوئی نہ دے اور یوں وہ مالی بحران کا شکار ہوجائے۔ ایران ظاہر ہے یہ حربہ ناکام بنانا چاہے گا۔
ادھر یمن کے حوثی ابھی تک خاموش ہیں کیونکہ ایران نے روک رکھا ہے مگر اگر مذاکرات مکمل ٹوٹ گئے اور ایران نے اشارہ دیا تو ینبو/یانبو والا راستہ بھی بند ہو سکتا ہے۔ تب ہرمز بھی بند، باب المندب بھی بند۔دنیا کو تیل کا راستہ صرف افریقہ کے گرد سے ملے گا جو مہینوں پر مشتمل ہے۔
پاکستان کے لیے یہ سب سے تشویشناک پہلو ہے۔ ہمارا ننانوے فیصد گیس قطر اور امارات سے آتا ہے۔ سعودی عرب کی مہربانی سے ہمارا تیل ینبو سے آنے لگا تھا۔ باب المندب بند ہوا تو یہ راستہ بھی ختم۔ توانائی کا جو بحران ابھی چل رہا ہے، وہ کئی گنا بڑھ سکتا ہے۔
ایران کے وزیر خارجہ عراقچی نے کہا ہے کہ وہ برلن، پیرس اور لندن سے بات کرنا چاہتے ہیں۔ یہ ایک اشارہ ہے کہ بات چیت کا دروازہ مکمل بند نہیں ہوا۔ ایران کی وزارت خارجہ نے کہا “سفارت کاری کبھی ختم نہیں ہوتی۔” یہ ایک امید کی کرن ہے کمزور سہی، مگر ہے تو سہی۔
دعا اور امید
تاریخ گواہ ہے کہ سرد جنگ کے دور میں امریکہ اور سوویت یونین بھی ایٹمی تصادم کے کنارے پہنچ گئے تھے ۔ پھر انیس سو باسٹھ میں کیوبا بحران کے وقت دونوں نے عین آخری لمحے پر پیچھے ہٹنا پسند کیا۔ شاید آج بھی دونوں طرف کوئی عقل کی آواز سنائی دے جو ضد کو کچل کر مفادات کی بات کرے۔
دعا ہے کہ پاکستانی ثالثی کا یہ سفر ابھی ختم نہ ہو۔ جس قوم نے ایٹمی ہتھیاروں کے سائے میں بھارت سے جنگ بندی کرائی، وہ یہ بھی کر سکتی ہے۔ دعا ہے کہ آبنائے ہرمز کھلے، باب المندب محفوظ رہے، پاکستانی گھروں میں گیس بھی جلے اور روشنی بھی ہو۔ اور دعا ہے کہ وہ لوگ جو میدان جنگ میں نہیں، صرف اس کی آگ میں جل رہے ہیں ، وہ عام لوگ، وہ بچے، وہ ماں باپم انہیں کوئی امن کا سایہ ملے آمین۔’