اسلام آباد: سندھ طاس معاہدہ کو بھارت کی جانب سے معطل کیے ایک سال مکمل ہونے پر ماہرین اور سفارتی حلقوں نے خبردار کیا ہے کہ یہ اقدام بین الاقوامی قوانین، خطے کے استحکام اور پاکستان کی آبی سلامتی کیلئے سنگین خطرات پیدا کر رہا ہے۔ یہ پیش رفت پہلگام واقعے کے بعد بڑھتی کشیدگی کے تناظر میں سامنے آئی تھی۔
تجزیہ کاروں کے مطابق سندھ طاس معاہدہ ماضی میں جنوبی ایشیا میں استحکام کی علامت سمجھا جاتا رہا، جو کئی سیاسی تنازعات کے باوجود پانی کی منصفانہ تقسیم اور تنازعات کے حل کا ایک مؤثر نظام فراہم کرتا تھا۔ تاہم بھارت کی جانب سے اسے یکطرفہ طور پر معطل کرنا بین الاقوامی معاہدوں کی پاسداری سے انحراف قرار دیا جا رہا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اس اقدام سے “معاہدوں کی پابندی لازم ہے” جیسے بنیادی اصول کو نقصان پہنچا ہے، جبکہ تنازعات کے حل کیلئے قائم طریقہ کار کو نظر انداز کرنے سے تکنیکی معاملات اب اسٹریٹجک تنازعات میں تبدیل ہو رہے ہیں، جس سے خطے میں عدم اعتماد بڑھ رہا ہے۔
آبی ماہرین کے مطابق ڈیٹا شیئرنگ کے نظام میں خلل سے پاکستان کی سیلابی پیشگوئی، آبپاشی منصوبہ بندی اور خشک سالی سے نمٹنے کی صلاحیت متاثر ہو رہی ہے۔ پانی کے بہاؤ میں غیر یقینی صورتحال زرعی پیداوار، غذائی تحفظ اور دیہی معیشت کیلئے براہ راست خطرہ بن سکتی ہے۔
معاشی و توانائی ماہرین کے مطابق اس صورتحال سے پن بجلی کے منصوبے، توانائی کی پیداوار اور مجموعی معاشی استحکام بھی متاثر ہو سکتا ہے، جبکہ انسانی سطح پر صاف پانی، صحت اور غذائیت جیسے بنیادی مسائل مزید سنگین ہو سکتے ہیں۔
سفارتی ذرائع کے مطابق بھارت کی جانب سے تنازعات کے حل کے عالمی طریقہ کار، جیسے ثالثی اور غیر جانبدار فورمز، کو نظر انداز کرنا قواعد پر مبنی عالمی نظام کیلئے بھی سوالیہ نشان ہے۔ اس کے برعکس پاکستان کی جانب سے معاہدے کی مسلسل پاسداری کو اقوام متحدہ اور دیگر بین الاقوامی اداروں کی حمایت حاصل رہی ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق اگر اس صورتحال کا بروقت حل نہ نکالا گیا تو پانی جیسے اہم وسیلے کو جغرافیائی دباؤ کے آلے کے طور پر استعمال کیے جانے کا خدشہ بڑھ سکتا ہے، جو پہلے ہی کشیدہ خطے میں مزید عدم استحکام کا باعث بن سکتا ہے، جبکہ پاکستان کا مؤقف ایک ذمہ دار اور قانون پسند ریاست کے طور پر مزید مضبوط ہو کر سامنے آیا ہے۔