سابق افغان نائب صدر امراللہ صالح کے انکشاف کے مطابق امریکہ نے جنوری 2026 میں طالبان حکومت کو 45 ملین ڈالر (4.5 کروڑ ڈالر) کی ادائیگی کی ہے، جو 13 جنوری کو کابل میں عمل میں لائی گئی۔ اس وصولی سے قبل طالبان حکومت کے پاس پہلے ہی 23 ملین ڈالر (2.3 کروڑ ڈالر) موجود تھے، سابق افغان نائب صدر کے انکشاف کے بعد مالیاتی ضرورت اور شفافیت پر سوالات کھڑے ہوئے ہیں۔ نیز ادائیگی کے اوقات میں بھی تبدیلی آئی ہے، جو پہلے صبح کے وقت ہوتی تھی لیکن اب دوپہر کے وقت کی گئی، جس کے پیچھے سکیورٹی تحفظات، آپریشنل تبدیلی یا بین الاقوامی نگرانی سے بچنے کی کوشش جیسے عوامل بتائے جا رہے ہیں۔
مالیاتی صورت حال
رپورٹس سے کے مطابق طالبان حکومت کے پاس سابقہ امریکی ادائیگیوں سے 2 کروڑ 30 لاکھ ڈالر (23 ملین ڈالر) پہلے سے موجود تھے۔ اس کے باوجود نئی ادائیگی کی گئی، جس سے مالیاتی انتظام اور شفافیت کے حوالے سے اہم سوالات پیدا ہوئے ہیں۔ بین الاقوامی مالیاتی ماہرین کے مطابق جب کسی حکومت کے پاس پہلے ہی کافی فنڈز موجود ہوں تو اضافی ادائیگیوں کے جواز اور ان کے استعمال کے طریقہ کار پر سوال اٹھنا فطری ہے۔
امریکی وعدے
رپورٹ کے مطابق امریکہ نے طالبان حکومت کو جنوری 2026 میں کُل 9 کروڑ ڈالر (90 ملین ڈالر) فراہم کرنے کا وعدہ کیا ہے، جس میں یہ تازہ ترین ادائیگی بھی شامل ہے۔ یہ رقم بنیادی طور پر انسانی امداد، بنیادی ڈھانچے کی مرمت، اور عوامی خدمات کو برقرار رکھنے کے لیے مختص کی گئی ہے۔
بین الاقوامی اداروں کا کردار
بین الاقوامی ادارے افغانستان کی صورت حال پر مختلف زاویوں سے ردعمل ظاہر کر رہے ہیں۔ اقوام متحدہ افغانستان میں انسانی امداد کے لیے فوری فنڈز کی ضرورت پر زور دے رہا ہے، جبکہ عالمی بینک اقتصادی استحکام کے لیے مشروط امداد کی پالیسی پر کاربند ہے۔ یورپی یونین نے شفافیت اور احتساب کے ساتھ امداد دینے کے اصول کو اپنایا ہے، جو فنڈز کے مناسب استعمال کو یقینی بنانے پر مرکوز ہے۔
بین الاقوامی سیاسی تناظر
یہ ادائیگی ایسے وقت میں کی گئی ہے جب ٹرمپ انتظامیہ کینیڈا سمیت قریبی اتحادی ممالک پر تجارتی پابندیاں عائد کر رہی ہے۔ اس تضاد نے بین الاقوامی مبصرین میں تجسس پیدا کیا ہے اور سوالات اٹھائے ہیں کہ آیا یہ ادائیگیاں محض انسانی ہمدردی پر مبنی ہیں یا پھر خطے میں امریکی مفادات کے تحفظ کی کوئی وسیع تر حکمت عملی کارفرما ہے۔
افغان عوام کی موجودہ صورت حال
افغانستان میں انسانی صورت حال انتہائی نازک ہے، جہاں 24 ملین سے زائد افراد انسانی امداد پر منحصر ہیں۔ ملک کی معیشت میں 30 فیصد تک کی کمی واقع ہوئی ہے، جبکہ روزگار کے مواقع شدید محدود ہو چکے ہیں۔ بنیادی صحت اور تعلیمی سہولیات کی شدید قلت کا سامنا ہے، جس نے عوامی صحت اور نسل نو کی تعلیم دونوں پر منفی اثرات مرتب کیے ہیں۔
مستقبل کے امکانات
ماہرین کے مطابق اس طرح کی ادائیگیوں کے تناظر میں متعدد امکانات ہیں۔ طالبان حکومت کی معاشی حیثیت میں بہتری آنے کا امکان ہے، جس سے بین الاقوامی سطح پر ان کے ساتھ تعلقات میں نرمی پیدا ہو سکتی ہے۔ خطے میں امریکی اثر و رسوخ میں اضافہ ہونے کے امکانات بھی ہیں، جبکہ افغان عوام کی معاشی حالت میں بہتری کی امید کی جا سکتی ہے۔ تاہم، یہ سب کچھ فنڈز کے مناسب استعمال اور شفاف انتظام پر منحصر ہے۔
On January 13th, at 1400 hrs Kabul time, the United States hand-delivered $45,000,000 (forty-five million dollars) to the Taliban in Kabul. They used to make these deliveries in the morning, but after our revelations, they changed the time. This happened while the Taliban had not… https://t.co/WCiN0kR71s
— Amrullah Saleh (@AmrullahSaleh2) January 27, 2026
طالبان حکومت اور امریکہ کا مؤقف
طالبان حکومت نے اب تک ان ادائیگیوں کے بارے میں باقاعدہ بیان جاری نہیں کیا ہے، حالانکہ امارت اسلامیہ افغانستان کے ترجمان نے گزشتہ ہفتے ایک پریس کانفرنس میں بین الاقوامی برادری سے افغان عوام کی مدد کی اہمیت پر زور دیا تھا۔ امریکی محکمہ خارجہ اور خزانہ نے اب تک ان ادائیگیوں کی باقاعدہ تصدیق یا تردید نہیں کی ہے، تاہم ایک غیر نامزد امریکی عہدے دار نے افغانستان میں انسانی صورت حال کی نزاکت اور امریکی ذمہ داریوں کے نبھانے کی بات کی ہے۔
مستقبل کے چیلنجز
امریکہ کی طالبان حکومت کو ادائیگی ایک پیچیدہ بین الاقوامی معاملہ ہے جو مالیاتی انتظام، بین الاقوامی تعلقات، علاقائی استحکام، اور انسانی ہمدردی کے متعدد پہلوؤں کو سامنے لاتی ہے۔ آنے والے دنوں میں اس معاملے پر مزید وضاحت اور بین الاقوامی بحث کی توقع ہے، جس میں فنڈز کے استعمال کی شفافیت، افغان عوام کی بہبود اور خطے میں استحکام جیسے اہم موضوعات شامل ہوں گے۔ افغانستان کے مستقبل کے لیے یہ نہایت اہم ہے کہ بین الاقوامی امداد کا صحیح استعمال ہو اور ملک میں پائیدار ترقی کے راستے ہموار ہوں۔
دیکھیں: افغانستان میں تاپی منصوبے کی پیش رفت، 91 کلومیٹر مکمل