امریکی سینٹرل کمانڈ نے ایران کے خلاف فوجی کارروائیوں کا ایک اور مرحلہ مکمل کرنے کا اعلان کیا ہے۔ ترجمان کے مطابق ان حملوں کا بنیادی مقصد شہری اور تجارتی بحری جہازوں پر حملہ کرنے کی ایرانی صلاحیت کو مزید ناکارہ بنانا تھا۔
سینٹکام کy بیان میں بتایا گیا ہے کہ مسلسل 12 ویں روز کی گئی کارروائی کے دوران متعدد اہم ایرانی فوجی اہداف کو نشانہ بنایا گیا۔ ان میں بحری عسکری تنصیبات، میزائل و ڈرون ذخیرہ گاہیں، ساحلی نگرانی کے مراکز اور فضائی دفاعی نظام شامل ہیں۔
ترجمان نے مزید انکشاف کیا کہ امریکی افواج نے رواں ماہ کے دوران ایران کے درجنوں زمینی فوجی مقامات کو بھی نشانہ بنایا ہے۔ اس کے ساتھ ہی خطے میں سمندری ناکہ بندی پر عمل درآمد کی حکمت عملی بھی سخت کر دی گئی ہے۔
بیان کے مطابق سینٹکام کی جانب سے اب تک 9 تجارتی بحری جہازوں کا رخ تبدیل کروایا جا چکا ہے، جبکہ ایک جہاز کو مکمل طور پر غیر فعال کر دیا گیا ہے تاکہ وہ ایرانی بندرگاہوں میں داخل ہو سکے اور نہ ہی وہاں سے روانہ ہو سکے۔
امریکی حکام نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ اس وقت مشرقِ وسطیٰ کے خطے میں 50 ہزار سے زائد امریکی فوجی اہلکار تعینات ہیں۔ تمام فورسز مکمل چوکسی کے ساتھ ذمے داریاں انجام دے رہی ہیں اور کسی بھی ہنگامی صورتِ حال یا کارروائی کے لیے تمام تر تیاریاں مکمل ہیں۔