امریکی وزارتِ محنت نے 8 بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کی ملازمت سے منسلک مستقل رہائش (گرین کارڈ) کے تصدیقی عمل میں شرکت معطل کر دی ہے۔ اس فیصلے کے تحت ان اداروں کی نئی درخواستیں قبول نہیں کی جائیں گی جبکہ زیرِ التوا درخواستوں پر کارروائی بھی روک دی گئی ہے۔
متاثرہ اداروں میں بھارتی ٹیکنالوجی کمپنیاں ٹاٹا، انفوسس، وپرو اور ایچ سی ایل شامل ہیں۔ ان کے علاوہ مائیکروسافٹ، ایڈوب، کاگنیزنٹ اور کیپ جیمینی کے خلاف بھی یہ کارروائی کی گئی ہے۔
امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے بعض کمپنیوں پر مقامی ملازمین کو نکال کر غیر ملکی کارکنوں کو بھرتی کرنے کا الزام عائد کیا ہے۔ تاہم حکام کا کہنا ہے کہ ان الزامات کو ابھی ثابت شدہ جرم نہ سمجھا جائے۔
مائیکروسافٹ نے الزامات کا جواب دیتے ہوئے کہا ہے کہ گزشتہ مالی سال میں اس کی بیشتر درخواستیں موجودہ ملازمین کی ویزا توسیع سے متعلق تھیں۔ دوسری جانب بھارتی ٹیکنالوجی صنعت کی تنظیم کا کہنا ہے کہ انہوں نے امریکا میں مقامی بھرتیاں بڑھائی ہیں اور غیر ملکی ویزوں پر انحصار کم کیا ہے۔
اسی سلسلے میں امریکی حکام نے تعلیمی اداروں کے ضوابط کی بھی جانچ شروع کر دی ہے۔ ہارورڈ، ییل اور اسٹینفورڈ سمیت 9 بڑی جامعات کے غیر ملکی تبادلہ پروگرام اور اجرت کے ضابطے اب تحقیقات کی فہرست میں شامل ہیں۔
دوسری طرف، ایلون مسک نے بھارت میں اسٹارلنک کی تجارتی خدمات کی منظوری میں تاخیر پر سخت اعتراضات اٹھائے ہیں۔ انہوں نے الزام لگایا ہے کہ بااثر شخصیات مواصلاتی منڈی پر اپنی اجارہ داری قائم رکھنے کے لیے رکاوٹیں ڈال رہی ہیں۔
ایلون مسک نے مکیش امبانی کا نام لیتے ہوئے سوال اٹھایا کہ کیا وہی بھارت کے اصل فیصلہ ساز ہیں؟ اس بیان کے بعد نئی دہلی کی سیاسی اور کاروباری فضا میں ایک نیا بحث کا آغاز ہو گیا ہے۔
اس تنازع پر بھارتی اپوزیشن رہنما راہول گاندھی نے بھی ردِعمل دیا ہے۔ انہوں نے مسک سے کہا کہ ابھی آپ نے دوسرے شخص کو نہیں دیکھا، جس پر ایلون مسک نے ان کا شکریہ ادا کرتے ہوئے صورتِ حال کو تشویش ناک قرار دیا۔
بھارتی حکومت نے کاروباری اثرورسوخ کے الزامات کی تردید کی ہے، تاہم اس پر بحث جاری ہے۔ اس وقت امریکی ویزا قوانین میں سختی اور بھارت میں انٹرنیٹ سروسز کی منظوری کے تنازعات عالمی سطح پر توجہ کا مرکز بنے ہوئے ہیں۔