امریکی انتظامیہ نے طالبان کی جانب سے غیر ملکی شہریوں کو قید کرنے کی پالیسی کے خلاف سخت ترین مؤقف اپناتے ہوئے افغانستان کو سرکاری طور پر ‘ناجائز حراست میں رکھنے والا ملک’ (اسٹیٹ اسپانسر آف رانگ فل ڈیٹینشن) نامزد کر دیا ہے۔ یہ فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکی حکام نے طالبان کو اپنے شہریوں کی رہائی کے لیے آخری وارننگ جاری کی ہے۔
وزیرِ خارجہ مارکو روبیو نے اپنے بیان میں واضح کیا کہ طالبان سیاسی و پالیسی مراعات حاصل کرنے کے لیے دہشت گردانہ حربے استعمال کر رہے ہیں، تاہم موجودہ امریکی انتظامیہ اس ‘یرغمالی سفارت کاری’ کو کسی صورت برداشت نہیں کرے گی۔ انہوں نے ڈینس کوائل، محمود حبیبی اور افغانستان میں قید دیگر امریکی شہریوں کی فوری اور بلا شرط رہائی کا مطالبہ کیا ہے۔
Today, I am designating Afghanistan as a State Sponsor of Wrongful Detention. The Taliban continue to use terrorist tactics to seek policy concessions, but it won’t work under this administration. The Taliban must release Dennis Coyle, Mahmood Habibi, and all Americans unjustly…
— Secretary Marco Rubio (@SecRubio) March 9, 2026
اس پیش رفت کے ساتھ ہی امریکی خصوصی مندوب برائے امورِ یرغمالیان ایڈم بوہلر نے طالبان کو سخت انتباہ جاری کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر طالبان نے ان شہریوں کو رہا نہ کیا تو افغانستان کو ایران اور وینزویلا جیسی عالمی تنہائی اور کڑی اقتصادی پابندیوں کا سامنا کرنا پڑے گا۔ ایڈم بوہلر نے طالبان پر زور دیا کہ وہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ، وزیرِ خارجہ مارکو روبیو اور انسدادِ دہشت گردی کے عہدیدار سیبسٹین گورکا کے عزم کا امتحان لینے کی غلطی نہ کریں۔
واشنگٹن کے ان اقدامات سے واضح ہوتا ہے کہ امریکہ اپنی خارجہ پالیسی میں ‘ناجائز حراست’ کے خلاف صفر برداشت کی پالیسی پر عمل پیرا ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق اس نامزدگی کے بعد افغانستان پر سفارتی اور اقتصادی دباؤ میں مزید اضافہ متوقع ہے، جس کا مقصد قیدیوں کی بحفاظت واپسی اور طالبان کو انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں سے باز رکھنا ہے۔
دیکھیے: ایران امریکہ جنگ: کیا پاکستان کی خارجہ پالیسی درست ہے؟