امریکی کمیشن برائے عالمی مذہبی آزادی نے افغانستان میں انسانی حقوق اور مذہبی آزادی کی صورتحال کو “منظم، مسلسل اور بدترین” قرار دیتے ہوئے طالبان حکومت کو ‘خصوصی تشویش والے ممالک’ (سی پی سی) کی فہرست میں شامل کرنے کی باقاعدہ سفارش کر دی ہے۔ کمیشن کی تازہ ترین رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ طالبان حکومت تقویٰ اور مذہب کے لبادے میں ایک ایسا آمرانہ نظام چلا رہی ہے جہاں عقیدے کو سماج کو دبانے اور اختلافِ رائے کو کچلنے کے لیے بطور ہتھیار استعمال کیا جا رہا ہے۔
رپورٹ کے مطابق طالبان کی طرزِ حکمرانی شریعت کی ایک مخصوص اور مسخ شدہ تشریح پر مبنی ہے، جو نہ صرف مذہبی اقلیتوں بلکہ ان مسلمانوں کو بھی نشانہ بناتی ہے جو ان کے سخت گیر نظریات سے اتفاق نہیں کرتے۔ طالبان کے نئے ضابطہ فوجداری نے فقہ حنفی کی پیروی نہ کرنے والوں کو دائرہ اسلام سے خارج کرنے کے مترادف ایک نئی قانونی درجہ بندی پیدا کر دی ہے، جسے عالمی سطح پر اسلامی تعلیمات کی آفاقیت کے منافی قرار دیا جا رہا ہے۔ رپورٹ میں طالبان کے اس ڈھانچے کو قرونِ وسطیٰ کے قبائلی تصورات کا مجموعہ قرار دیا گیا ہے، جہاں سرِ عام سزائیں اور پھانسیاں بغیر کسی شفاف قانونی عمل کے دی جا رہی ہیں۔
رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ طالبان نے نجی زندگی کی نگرانی اور سخت سماجی پابندیوں کے ذریعے روزمرہ کے معمولات کو بھی جرم بنا دیا ہے۔ شیعہ، احمدیہ، ہندو، سکھ اور عیسائی برادریوں کو منظم جبر کا نشانہ بنایا جا رہا ہے، جبکہ مدارس کو انتہا پسندانہ نظریات کی ترویج اور نئی نسل کی ذہن سازی کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔ اس کے ساتھ ہی، طالبان کے نام نہاد “اخلاقی قوانین” نے عوام کے بولنے اور چلنے پھرنے کی آزادی کو بھی سلب کر لیا ہے۔
خواتین اور لڑکیاں اس نظام کا سب سے بڑا نشانہ ہیں۔ طالبان کے احکامات کے تحت خواتین کے عوامی سطح پر آواز اٹھانے پر پابندی ہے اور 12 سال سے زائد عمر کی لڑکیوں کو تعلیم کے حق سے محروم کر دیا گیا ہے۔ رپورٹ میں واضح کیا گیا ہے کہ اسلام خواتین کو تعلیم، کام اور سماجی زندگی میں شرکت کے برابر حقوق فراہم کرتا ہے، مگر طالبان ان اصولوں کو مسخ کر کے مذہب کو خواتین کی غلامی اور ان کے حقوق کی پامالی کے بہانے کے طور پر استعمال کر رہے ہیں۔ افغانستان کو ‘سی پی سی’ لسٹ میں شامل کرنے کی یہ سفارش عالمی سطح پر اس حقیقت کا اعتراف ہے کہ وہاں مذہب کے نام پر انسانی حقوق کا بدترین استحصال جاری ہے۔
دیکھیے: نئے قانون کا کمال ، جنسی بلیک میلنگ کا مجرم طالبان ضلعی گورنر گینگ سمیت بری