ازبکستان کے صدر شوکت مرزایوف دو روزہ سرکاری دورے پر پاکستان پہنچ گئے، جہاں صدر آصف علی زرداری اور وزیراعظم شہباز شریف نے ان کا نور خان ایئر بیس پر گرمجوشی سے خیرمقدم کیا۔ استقبال کے موقع پر صدر مرزایوف کو قومی سلامی کے طور پر 21 توپوں کی سلامی دی گئی، جبکہ روایتی پاکستانی لباس میں ملبوس بچوں نے انہیں پھولوں کے گلدستے پیش کیے۔ وفاقی وزیر اطلاعات عطاء تارڑ اور وزیر اعظم کے معاون خصوصی ہارون اختر خان بھی اس موقع پر موجود تھے۔
صدر مرزایوف کے ہمراہ ایک اعلیٰ سطحی ازبک وفد بھی پاکستان پہنچا ہے۔ وزارت خارجہ کے مطابق ازبک صدر کی صدر زرداری اور وزیراعظم شریف سے علیحدہ ملاقاتیں طے ہیں، جبکہ دونوں ممالک کے وفود کے مابین مذاکرات میں باہمی تجارت، توانائی، دفاعی شعبے میں تعاون، تعلیمی تبادلے، عوامی روابط اور علاقائی رابطہ کاری کے منصوبوں پر جامع گفت و شنید ہوگی۔
صدر مرزایوف پاک۔ ازبک بزنس فورم سے خطاب بھی کریں گے، جو دونوں ملکوں کے اقتصادی تعاون کو نئی بلندیوں تک لے جانے کے لیے اہم سمجھا جا رہا ہے۔ یہ ان کا پاکستان کا دوسرا دورہ ہے، جو دونوں ممالک کے تاریخی اور برادرانہ تعلقات میں مسلسل اضافے اور مستقبل میں جامع شراکت داری کی عکاسی کرتا ہے۔