آسٹریلیا کی ریاست وکٹوریا میں ایک امام اور ان کی بیوی پر سفید فام برتری کی نظریات پر مبنی حملہ نے نہ صرف مذہبی تشدد کی نئی حدیں عبور کی ہیں، بلکہ ملکی سطح پر اسلاموفوبیا کے بڑھتے ہوئے بحران کو بھی بے نقاب کر دیا ہے۔ آسٹریلین نیشنل امامز کونسل (اے این آئی سی) کی شدید مذمت کے باوجود مذکورہ واقعہ اس سنگین حقیقت کی عکاسی کرتا ہے کہ مسلم شہریوں کے خلاف منظمم مذہبی نفرت خطرناک سطح تک پہنچ چکی ہے۔
واقعے کی تفصیل
دس جنوری کی شام ساڑھے سات بجے ساؤتھ گپسلینڈ ہائی وے پر سفر کرنے والے ایک امام اور ان کی اہلیہ کو سفید فام اینگلو نما حملہ آوروں نے گھیر لیا۔ ان کی مسلم شناخت کو ہدف بنا کر شروع ہونے والا یہ سلسلہ تشدد، گاڑی پر پتھراؤ، خطرناک ڈرائیونگ سے ہوتا ہوا اس نہج پر پہنچا کہ امام کو شدید زدو کوب کیا اور بیوی کو کھلے عام چاقو دکھا کر دھمکی دی گئی۔ مقامی شہریوں کی بروقت مداخلت کے باعث ممکنہ قتل تک کے منظر کو روک دیا۔
قانونی نظام کا دوہرا معیار
یہ المناک واقعہ قانون کے زیرِ سایہ تحفظ کے دعوؤں پر سوالیہ نشان ثبت کرتا ہے۔ قابلِ حیرت امر یہ ہے کہ اسلاموفوبیا کو نفرت انگیز جرائم کی فہرست میں وہی قانونی مقام حاصل نہیں جو دیگر مذہبی یا نسلی گروہوں کے خلاف جرائم کو دیا جاتا ہے۔ قانونی مساوات کا یہ فقدان نہ صرف آئینی اصولوں سے متصادم ہے بلکہ ایک خطرناک قانونی خلا بھی پیدا کرتا ہے جس کا فائدہ انتہا پسند عناصر اٹھاتے ہیں۔
میڈیا کا کردار
اے این آئی سی نے درست طور پر اس حقیقت کی طرف توجہ دلائی ہے کہ بعض سیاسی حلقوں اور میڈیا کے مخصوص بیانیے نے مسلمانوں کے خلاف تشدد کو قانونی جواز فراہم کرنے کا کام کیا ہے۔ پُرامن فلسطینی حمایت کو دہشت گردی کے ساتھ منسلک کرنا نہ صرف تاریخی حقائق کی توہین ہے، بلکہ یہ مسلم شہریوں کو سماجی طور پر غیر محفوظ بنا کر ان کے خلاف تشدد کو ہوا دیتا ہے۔
مسلم برادری غیر محفوظ
اس واقعے کے اثرات محض محدود اجسام و اذہان تک محدود نہیں رہے۔ بلکہ متاثرین اور ان کے اہل خانہ پر پڑنے والے نفسیاتی صدمے کا دائرہ وسیع تر مسلم برادری تک پھیل چکا ہے، جس میں ایک مستقل خوف اور عدمِ تحفظ کی کیفیت نمایاں ہے۔ یہ اجتماعی نفسیاتی زخم سماجی ہم آہنگی کے لیے دور رس خطرات کا باعث بن سکتے ہیں۔
قانونی ناکامیوں کی تاریخ
اسکنلون فاؤنڈیشن کی حالیہ تحقیق کے مطابق آسٹریلیا میں اسلاموفوبیا مذہبی امتیاز کی سب سے عام شکل بن چکی ہے۔ المیہ یہ ہے کہ اس کے باوجود مؤثر قانونی اقدامات کی کمی نے مجرموں کے لیے ایک سازگار ماحول پیدا کر دیا ہے۔
تعلیمی اور ثقافتی بحالی کی اشد ضرورت
فقط قانونی اقدامات اس گہرے مسئلے کا حل نہیں ہو سکتے۔ بلکہ تعلیمی اداروں، میڈیا اور ثقافتی میدان میں وسیع پیمانے پر اصلاحات کی اشد ضرورت ہے جو باہمی احترام، رواداری اور مذہبی تنوّع کی قدر کو فروغ دے سکیں۔
ڈیٹا اور شفافیت کا فقدان
اسلاموفوبک واقعات کے مربوط ڈیٹا بیس اور شفاف رپورٹنگ نظام کا عدمِ وجود اس مسئلے کی سنگینی کو سمجھنے میں رکاوٹ ہے۔ معیاری ڈیٹا کے بغیر مؤثر پالیسی سازی ناممکن ہے۔
اے این آئی سی کا کردار
اے این آئی سی کا بروقت اور تاریخی ردعمل شہری ذمہ داری کی ایک روشن مثال ہے۔ مذہبی رہنماؤں کی یہ اجتماعی آواز نہ صرف متاثرین کے ساتھ مضبوط یکجہتی کے مترادف ہے بلکہ حکام کے لیے ایک واضح انتباہ بھی ہے۔
عالمی سطح پر دوہرا معیار
عالمی برادری کا رویہ جہاں دیگر تعصبات کے خلاف فوری ردعمل ظاہر کرتا ہے وہیں اسلاموفوبک واقعات کے معاملے میں خاموشی یا نرمی کا مظاہرہ کیا جاتا ہے۔ اس دوہرے معیار کے خاتمے کی فوری ضرورت ہے۔
مستقبل راہ
ماہرین کے مطابق فوری اقدامات میں مجرموں کی گرفتاری، قانونی اصلاحات، تعلیمی نصاب میں تبدیلی اور میڈیا کی ذمہ داری شامل ہونی چاہئیں۔ طویل المدتی حکمت عملی میں ثقافتی تبدیلی اور بین المذاہب ہم آہنگی کے پروگرام شامل ہونے چاہئیں۔
یہ المناک واقعہ محض ایک انفرادی حادثہ نہیں بلکہ ایک گہرے سماجی مرض کی علامت ہے جس کا علاج جامع اور مستقل حکمت عملی کے بغیر ممکن نہیں۔ اے این آئی سی کی آواز نہ صرف آسٹریلیا بلکہ پوری انسانی برادری کے لیے ایک احتیاطی انتباہ ہے کہ مذہبی تعصب کے خلاف جنگ انسانی وقار اور جمہوری اقدار کی بقا کی جنگ ہے۔
دیکھیں: افغان مہاجرین کو روزگار کے شدید مسائل کا سامنا: اقوامِ متحدہ