"> وانا حملہ: افغان خودکش حملہ آور کی شناخت پر یوناما کی مجرمانہ خاموشی
مولانا فضل الرحمان کی سیاست، مذہب کا سیاسی استعمال

اصولوں کی سیاست یا مفادات کا کھیل

مذہب، عسکری پالیسی اور جمہوریت کو اقتدار کی سیڑھی بنانے والے مولانا فضل الرحمان کی سیاست میں دوہرے معیار، سیاسی یوٹرنز اور مفاد پرستی کے تضادات نمایاں ہیں۔

کیڈٹ کالج وانا حملہ: افغان حملہ آور کی شناخت کے بعد یوناما کی خاموشی پر سنگین سوالات

وانا کیڈٹ کالج حملے میں ملوث افغان خودکش حملہ آور زاہد ایوبی کی شناخت اور افغانستان میں اس کی پذیرائی پر یوناما کی خاموشی نے اس کے دہرے معیار کو بے نقاب کر دیا ہے۔
وانا حملہ: افغان خودکش حملہ آور کی شناخت پر یوناما کی مجرمانہ خاموشی

وانا حملے کے افغان خودکش حملہ آور کی شناخت اور طالبان کی زیرِ سرپرستی تعزیتی تقریب پر یوناما کی مجرمانہ خاموشی پر سنگین سوالات کیے گئے ہیں۔

July 2, 2026

جنوبی وزیرستان میں کیڈٹ کالج وانا پر ہونے والے بزدلانہ حملے میں افغان سر زمین اور افغان شہریوں کے ملوث ہونے کے ناقابلِ تردید شواہد سامنے آنے کے بعد، افغانستان میں اقوامِ متحدہ کے معاونتی مشن (یوناما) کا دہرا معیار اور خاموشی ایک بار پھر شدید تنقید کی زد میں آ گئی ہے۔

دس نومبر 2025 کو کیڈٹ کالج وانا پر ہونے والے دہشت گردانہ حملے میں ملوث خودکش حملہ آور کی شناخت افغان شہری کے طور پر ہوئی ہے۔ متعلقہ ذرائع نے تصدیق کی ہے کہ حملہ آور کا نام جن اللہ عرف زاہد ایوبی ولد دولت خان تقی ہے، جو افغانستان کے صوبہ ننگرہار کے ضلع مومند درہ کے گاؤں کوچیانو کا رہائشی تھا۔

تعزیتی تقاریب

سکیورٹی ذرائع کے مطابق اس دہشت گرد کی ہلاکت کے بعد 22 دسمبر 2025 کو افغانستان میں ایک باقاعدہ اور اعلانیہ تعزیتی تقریب کا انعقاد کیا گیا، جس میں ہلاک شدہ خودکش حملہ آور کی تصاویر کھلے عام آویزاں کی گئیں۔

اس تقریب کی خاص بات طالبان حکومت کے اعلیٰ حکام کی شرکت تھی، جو افغان حکومت کی جانب سے ان عناصر کی سرپرستی اور پاکستان کے خلاف افغان سرزمین کے استعمال کا واضح ثبوت ہے۔ اس تمام صورتحال نے طالبان حکومت کے ان دعوؤں کی قلعی کھول دی ہے کہ افغان سرزمین کسی دوسرے ملک کے خلاف استعمال نہیں ہو رہی۔

یوناما کا دہرا معیار

دوسری طرف، اس واقعے نے اقوامِ متحدہ کے ادارے یوناما کے کردار پر بھی سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ جب بھی پاکستان اپنی سلامتی کے دفاع میں افغانستان کے اندر چھپے دہشت گردوں کے ٹھکانوں پر مؤثر اور ہدف شدہ کارروائیاں کرتا ہے، تو یوناما کی جانب سے فوری طور پر طالبان حکومت کے پراپیگنڈے کو دہراتے ہوئے مبینہ شہری ہلاکتوں کا واویلا شروع کر دیا جاتا ہے۔

تاہم اب جب کہ ایک افغان شہری کا پاکستان میں خودکش حملے میں ملوث ہونا ثابت ہو چکا ہے اور افغان حکام خود اس کی پذیرائی کر رہے ہیں، یوناما کی جانب سے مکمل طور پر مجرمانہ خاموشی اختیار کر لی گئی ہے۔

مجرمانہ خاموشی

تجزیہ کاروں اور مبصرین کا کہنا ہے کہ دہشت گردی جیسے حساس معاملے پر یوناما کی یہ منتخب خاموشی اور معذرت خواہانہ رویہ غیر جانبداری کے اصولوں کے یکسر منافی ہے۔

دہشت گردوں کی شناخت اور ان کی پشت پناہی کے اتنے واضح شواہد کے باوجود عالمی ادارے کا احتجاج نہ کرنا اور مذمتی بیان جاری نہ کرنا اس امر کی دلالت کرتا ہے کہ یہ رویہ غیر جانبداری نہیں بلکہ بالواسطہ طور پر دہشت گردی کی حمایت اور اس میں شراکت داری کے مترادف ہے۔

پاکستان نے ہمیشہ عالمی برادری پر زور دیا ہے کہ وہ خطے میں امن کی بقا کے لیے دہشت گردی کے خلاف یکساں اور ٹھوس موقف اختیار کرے اور دہرے معیار سے گریز کیا جائے۔

دیکھیے: پاکستان میں ملوث افغان دہشت گردوں کے افغانستان میں جنازے، شواہد سامنے آ گئے

متعلقہ مضامین

وادی تیراہ میں 4 دہشت گرد ہلاک اور 8 زخمی ہو گئے، جبکہ لکی مروت میں کوہاٹ پولیس لائنز حملے کا ماسٹر مائنڈ زاہد گل مارا گیا۔

October 16, 2026

روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے افغانستان میں دہشت گرد گروہوں کی موجودگی کو خطے کے لیے خطرہ قرار دے کر افغان طالبان کے پاکستان مخالف الزامات کو مسترد کر دیا۔

October 16, 2026

محسن نقوی کا دعویٰ ہے کہ گورنر راج میں حصہ اور گورنر شپ نہ ملنے پر ایک سیاسی جماعت کے سربراہ ناراض ہیں۔ انہوں نے سابق فاٹا کے وسائل اور خیبرپختونخوا کی سکیورٹی صورت حال پر بھی بات کی۔

October 16, 2026

دفاعی تجزیہ کار میجر جنرل ریٹائرڈ طارق رشید کا کہنا ہے کہ افغانستان میں چھوڑے گئے اربوں روپے کے امریکی ہتھیار پاکستان میں دہشت گردی پھیلانے کے لیے استعمال ہو رہے ہیں۔

October 16, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *