بلوچستان کے سرحدی ضلع چمن میں افغان بارڈر فورسز نے بین الاقوامی قوانین اور انسانی اخلاقیات کی دھجیاں اڑاتے ہوئے ایک تعلیمی ادارے کو نشانہ بنایا ہے۔ سکیورٹی ذرائع اور مقامی اطلاعات کے مطابق، افغان فورسز کی جانب سے چمن کے علاقے ‘ابتو کاریز’ میں واقع کیڈٹ کالج پر مارٹر گولے داغے گئے۔
یہ افسوسناک واقعہ آج دوپہر تقریباً 12 بجے پیش آیا، جب سرحد پار سے اچانک بلا اشتعال گولہ باری شروع کر دی گئی۔ مارٹر گولے کیڈٹ کالج چمن کی حدود میں آکر گرے، جس کے نتیجے میں عمارت کو نقصان پہنچنے کی اطلاعات ہیں، تاہم خوش قسمتی سے اب تک کسی جانی نقصان یا زخمی ہونے کی اطلاع موصول نہیں ہوئی ہے۔ حملے کے وقت تعلیمی ادارے میں موجود طلبہ اور عملے میں شدید خوف و ہراس پھیل گیا۔
سکیورٹی صورتحال
واقعے کے فوری بعد سیکیورٹی فورسز نے متاثرہ علاقے کو گھیرے میں لے لیا ہے اور سرحد پر نگرانی کے عمل کو مزید سخت کر دیا گیا ہے۔ پاک فوج کی جانب سے دشمن کی اس بزدلانہ کارروائی کا بھرپور اور منہ توڑ جواب دیا جا رہا ہے۔ سیکیورٹی حکام کا کہنا ہے کہ تعلیمی اداروں اور شہری آبادی کو نشانہ بنانا افغان فورسز کی بوکھلاہٹ کا ثبوت ہے، جسے کسی صورت برداشت نہیں کیا جائے گا۔
سکیورٹی فورسز کا جوابی ایکشن
پاک فوج نے اس واقعے پر بھرپور اور موثر جوابی کاروائی کی ہے۔ سکیورٹی فورسز کی جانب سے دشمن کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا گیا ہے اور سرحد پر نگرانی کا عمل مزید سخت کر دیا گیا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ مادرِ وطن کے دفاع اور شہریوں کے تحفظ کے لیے ہر ممکن اقدام کیا جائے گا اور کسی بھی جارحیت کا دندان شکن جواب دیا جائے گا۔