تحریکِ پاکستان کی تاریخ اکثر مردانہ قیادت کے گرد بُنی جاتی ہے۔ مگر اسی تحریک کے پسِ پردہ ایسی سیکڑوں خواتین بھی تھیں جنہوں نے جلوس نکالے، گرفتاریاں دیں اور ایک ایسے معاشرے میں سیاسی قیادت کی جہاں عورت کا گھر سے باہر نکلنا ہی بغاوت سمجھا جاتا تھا۔ آج، آزادی کے 79 برس بعد، وقت ہے کہ ہم اُن گمنام ہاتھوں کو بھی یاد کریں جنہوں نے یہ پرچم بنایا، اٹھایا اور تھامے رکھا۔
وہ لڑکی جس نے پرچم بدل دیا
لاہور سول سیکرٹریٹ کے باہر، 1946 کی ایک سرد صبح۔ ہجوم نعرے لگا رہا ہے، پولیس کی لاٹھیاں چل رہی ہیں۔ اسی ہجوم میں، دیوار کے قریب، ایک چودہ سالہ اسکول کی طالبہ کھڑی ہے فاطمہ صغرٰی۔
گیٹ کھلتے ہی وہ اور اس کی ساتھی زرینہ دیوار کی طرف دوڑیں۔ زرینہ نے اسے اوپر دھکیلا۔ فاطمہ نے برطانوی پرچم یونین جیک اتار پھینکا، اور اپنے دوپٹے سے بنایا ہوا مسلم لیگ کا سبز پرچم لہرا دیا۔ نیچے کھڑا ہجوم “پاکستان زندہ باد” کے نعروں سے گونج اٹھا۔
برسوں بعد فاطمہ صغرٰی نے خود اس لمحے کو یاد کرتے ہوئے کہا تھا: جب میں نے برطانوی پرچم اتار کر اپنا پرچم لگایا، تو مجھے خود اندازہ نہیں تھا کہ میں کیا کر رہی ہوں۔ یہ کوئی منصوبہ بندی نہیں تھی۔ اُس عمر میں، چودہ برس کی، میں بس باغی تھی، اور مجھے لگا یہ اچھا خیال ہے۔
اُس وقت اُسے اندازہ نہیں تھا کہ یہ لمحہ تحریکِ پاکستان کی سب سے یادگار علامتوں میں سے ایک بن جائے گا۔ حکومتِ پاکستان نے بعد میں انہیں پہلا گولڈ میڈل برائے خدماتِ پاکستان عطا کیا ملک میں یہ اعزاز پانے والی وہ پہلی شخصیت تھیں۔ مگر آج، پاکستان میں شاید ہی کوئی نوجوان فاطمہ صغرٰی کا نام جانتا ہو۔
اگر کسی پاکستانی سے پوچھا جائے کہ تحریکِ پاکستان میں کن خواتین نے حصہ لیا، تو زیادہ تر لوگ ایک ہی نام لیں گے: فاطمہ جناح۔
اور یہ نام لینا بجا بھی ہے۔ قائداعظم کی بہن نہ صرف ان کے ساتھ ہر عوامی موقع پر موجود رہیں، بلکہ رازدارانہ خط و کتابت اور سیاسی حکمتِ عملی میں بھی ان کی قریبی مشیر رہیں۔ انہیں “مادرِ ملت” کا خطاب دیا گیا۔
مگر تاریخ کے اوراق میں مزید درجنوں نام دبے پڑے ہیں ایسی خواتین جنہوں نے جلسے منظم کیے، جلوس نکالے، گرفتاریاں دیں، اور ایک ایسے معاشرے میں سیاسی قیادت کی، جہاں عورت کا گھر سے باہر نکلنا ہی ایک بڑا قدم سمجھا جاتا تھا۔
خود قائداعظم نے 1942 میں لاہور کے جناح اسلامیہ کالج فار گرلز کی طالبات سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا: کوئی قوم اپنی خواتین کے تعاون کے بغیر ترقی نہیں کر سکتی۔ یہ محض ایک جملہ نہیں تھا یہ اس تحریک کی روح تھی جسے وقت کے ساتھ بھلا دیا گیا۔
بیگم جہاں آراء شاہنواز
جب مسلم لیگ کو بین الاقوامی سطح پر اپنا مقدمہ پیش کرنے کے لیے آواز کی ضرورت تھی، تو یہ بیگم جہاں آراء شاہنواز تھیں جنہوں نے لندن کے گِلڈ ہال میں خطاب کیا۔ کسی مسلمان خاتون کا وہاں پہلی بار خطاب کرنا۔ انہوں نے تینوں گول میز کانفرنسوں میں مسلمان خواتین کی نمائندگی کی، اور 1937 میں پنجاب اسمبلی کی رکن منتخب ہوئیں۔
24 جنوری 1947 کو، جب پنجاب کی یونینسٹ حکومت نے مسلم لیگ نیشنل گارڈ پر پابندی عائد کی اور کئی مرد رہنماؤں کو گرفتار کیا، تو بیگم جہاں آراء بھی گرفتار ہونے والوں میں شامل تھیں۔
اُسی دن، ایک اور واقعہ رونما ہوا جو شاید ہی کسی نصابی کتاب میں ملے: خواتین رہنماؤں نے ایک گھر میں جمع ہو کر قرعہ اندازی کی ۔۔۔ یہ فیصلہ کرنے کے لیے کہ رضاکارانہ گرفتاری دینے کا اعزاز کسے ملے گا۔
چند دن بعد، پولیس کے لاٹھی چارج کے باوجود، ڈیڑھ ہزار خواتین کا ایک جلوس وزیرِ اعلیٰ کی رہائش گاہ تک مارچ کرتا ہوا پہنچا اور وہاں مسلم لیگ کا پرچم لہرا دیا۔
وہ نام جو صرف تاریخ کے حاشیے میں ملتے ہیں
سندھ سے نصرت ہارون جو 1943 میں آل انڈیا مسلم ویمن لیگ کی صدر منتخب ہوئیں۔ بنگال سے شائستہ اکرام اللہ جو بعد میں پاکستان کی دستور ساز اسمبلی کی رکن بننے والی ابتدائی خواتین میں شامل ہوئیں۔ اور سرحد (موجودہ خیبر پختونخوا) سے زری سرفراز ایک ایسے علاقے سے، جہاں خواتین کی سیاسی شرکت کو حاصل کرنا کہیں زیادہ مشکل تھا۔
مسلم اسٹوڈنٹس فیڈریشن کی خواتین ونگ کی طالبات علی گڑھ اور لاہور کے کالجوں سے نکل کر سرحد جیسے قدامت پسند علاقوں تک سفر کرتی رہیں — اُس دور میں جب عورت کا صرف گھر سے نکلنا ایک بغاوت سمجھا جاتا تھا۔
یہ سب نام، آج کے پاکستان میں، تقریباً مکمل طور پر گمنام ہو چکے ہیں۔
گمنامی کی وجہ کیا ہے؟
یہ سوال اہم ہے: آخر یہ نام نصابی کتابوں سے غائب کیوں ہو گئے؟
محققین کے مطابق اس کی ایک وجہ یہ ہے کہ آزادی کے بعد کی تاریخ نویسی زیادہ تر مردانہ سیاسی قیادت کے گرد مرکوز رہی جلسوں، مذاکرات اور دستاویزی معاہدوں پر توجہ دی گئی، جبکہ زمینی سطح پر ہونے والی متحرک، منظم، اور اکثر پرخطر خواتین کی سرگرمیوں کو کم اہمیت دی گئی۔
ایک اور وجہ یہ بھی ہے کہ ان خواتین میں سے بیشتر نے قیادت کا سہرا کبھی خود اپنے سر نہیں لیا۔ وہ تنظیموں کے پیچھے کام کرتی رہیں، جلوسوں میں شامل رہیں، گرفتاریاں دیتی رہیں مگر تاریخ نے صرف اُنہی چہروں کو یاد رکھا جو سب سے آگے کھڑے تھے۔
ایک تلخ تضاد
قائداعظم نے خود کہا تھا: کوئی قوم اُس وقت تک عروج حاصل نہیں کر سکتی جب تک اُس کی خواتین آپ کے شانہ بشانہ نہ ہوں۔
یہ الفاظ 1940 کی دہائی کے ہیں۔ آج، آٹھ دہائیوں بعد، ہمیں یہ سوچنا چاہیے: کیا ہم نے اُن خواتین کے ساتھ انصاف کیا جنہوں نے اسی سوچ پر عمل کر کے اپنی جانیں اور اپنا سکون داؤ پر لگایا؟ یا ہم نے بھی، کسی نہ کسی حد تک، اُنہی رسم و رواج کو دہرایا جن کے خلاف قائداعظم نے آواز اٹھائی تھی اس بار تاریخ کی کتابوں کے ذریعے؟
نتیجہ: ایک قرض جو ابھی چکایا نہیں گیا
فاطمہ صغرٰی 2017 میں انتقال کر گئیں 84 برس کی عمر میں، لاہور میں۔ ان کی وفات پر انہیں یاد کرنے والوں میں زیادہ تر وہی لوگ تھے جو تحریکِ پاکستان کے کارکنوں کی تاریخ کو محفوظ رکھنے کے کام سے وابستہ تھے۔ عام پاکستانی میڈیا میں ان کا ذکر برائے نام ہی رہا۔
ہر سال 14 اگست کو ہم آزادی کا جشن مناتے ہیں پرچم لہراتے ہیں، ترانے گاتے ہیں، اپنے بزرگوں کی قربانیوں کو یاد کرتے ہیں۔ مگر شاید اس سال، جشن منانے سے پہلے، ایک لمحہ اُس چودہ سالہ لڑکی کے لیے بھی نکالنا چاہیے جس نے سب سے پہلے دیوار پھلانگ کر وہ پرچم بدلا تھا جسے ہم آج لہراتے ہیں۔
کیونکہ آزادی کی کہانی صرف ایک نام کی کہانی نہیں یہ اُن سیکڑوں گمنام ہاتھوں کی کہانی ہے جنہوں نے یہ پرچم بنایا، اٹھایا، اور تھامے رکھا۔