کسی انسان کی زندگی میں اگر کوئی شخصیت اس کے مستقبل کا رخ بدل سکتی ہے تو وہ استاد ہے۔ ایک اچھا استاد صرف کتاب کے صفحات نہیں پڑھاتا بلکہ اپنے شاگردوں کے اندر چھپی صلاحیت کو پہچانتا، اسے نکھارتا اور زندگی کے مشکل راستوں پر چلنے کا حوصلہ دیتا ہے۔ اسی لیے استاد کو معاشرے کا معمار کہا جاتا ہے، کیونکہ آج کے طالب علم ہی کل کے ڈاکٹر، انجینئر، صحافی، استاد، افسر اور رہنما بنتے ہیں۔
ہر سال 5 اکتوبر کو عالمی یومِ اساتذہ منایا جاتا ہے۔ یہ دن دنیا بھر میں اساتذہ کی خدمات، محنت اور معاشرے کی تعمیر میں ان کے کردار کو خراجِ تحسین پیش کرنے کے لیے منایا جاتا ہے۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ استاد کی خدمات کو کسی ایک دن یا چند الفاظ میں محدود نہیں کیا جا سکتا۔
استاد وہ شخصیت ہے جو ایک عام طالب علم میں بھی غیر معمولی صلاحیت تلاش کر لیتا ہے۔ کبھی وہ سختی سے غلطی درست کرتا ہے، کبھی حوصلہ بڑھاتا ہے اور کبھی صرف ایک جملہ ایسا کہہ دیتا ہے جو پوری زندگی انسان کے ساتھ رہتا ہے۔ ایک استاد کا دیا ہوا اعتماد کئی بار اس مقام تک پہنچا دیتا ہے جہاں طالب علم خود بھی جانے کا تصور نہیں کرتا۔
اسی حقیقت کو خوبصورت انداز میں یوں بیان کیا گیا ہے
یہ فیضانِ نظر بخشا گیا ہے اہلِ مکتب کو
حذف ریزوں سے کر لیتے ہیں لعل و گوہر پیدا
یہ شعر استاد کے مقام کو بہت خوبصورتی سے بیان کرتا ہے۔ استاد بظاہر ایک عام طالب علم کو اپنی توجہ، محنت اور تربیت سے ایسا انسان بنا دیتا ہے جو معاشرے کے لیے قیمتی ثابت ہو۔ جیسے معمولی ذرات سے قیمتی گوہر تراشا جاتا ہے، ویسے ہی ایک استاد اپنی محنت سے طالب علم کی شخصیت کو نکھارتا ہے۔
آج کے جدید دور میں جب معلومات ہماری انگلیوں کی ایک جنبش پر دستیاب ہیں، استاد کی اہمیت کم ہونے کے بجائے مزید بڑھ گئی ہے۔ مصنوعی ذہانت، انٹرنیٹ اور جدید ٹیکنالوجی ہمیں بے شمار معلومات فراہم کر سکتی ہے، لیکن معلومات کو درست سمت دینا، سوال کرنے کی صلاحیت پیدا کرنا اور اچھے برے میں فرق سمجھانا استاد کا اہم کام ہے۔ ایک مشین جواب دے سکتی ہے، مگر ایک اچھا استاد طالب علم کو جواب تک پہنچنے کا طریقہ سکھاتا ہے۔
تعلیم صرف کتاب پڑھنے یا امتحان میں اچھے نمبر حاصل کرنے کا نام نہیں۔ اصل تعلیم وہ ہے جو انسان کے کردار، سوچ اور رویے میں مثبت تبدیلی پیدا کرے۔ یہی کام ایک بہترین استاد کرتا ہے۔ وہ اپنے شاگرد کو صرف کامیاب پیشہ ور نہیں بلکہ ایک ذمہ دار اور بااخلاق انسان بنانے کی کوشش کرتا ہے۔
بدقسمتی سے ہمارے معاشرے میں استاد کو وہ مقام اور سہولیات ہمیشہ نہیں ملتیں جن کا وہ مستحق ہے۔ ایک استاد پر کئی ذمہ داریاں ہوتی ہیں، لیکن اس کی محنت اکثر صرف نتائج اور نمبروں سے جانچی جاتی ہے۔ ہمیں یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ ایک استاد کی محنت کا اصل نتیجہ صرف امتحانی پرچے میں نہیں بلکہ ان شاگردوں کی شخصیت میں نظر آتا ہے جو آگے چل کر معاشرے کی تشکیل کرتے ہیں۔
استاد کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ وہ اپنے شاگرد کو اپنے سے آگے بڑھتا ہوا دیکھ کر خوش ہوتا ہے۔ وہ خود روشنی میں آنے کے بجائے دوسروں کے راستے روشن کرتا ہے۔اس لیے یومِ اساتذہ محض پھول پیش کرنے، مبارک باد دینے یا سوشل میڈیا پر پیغامات شیئر کرنے تک محدود نہیں ہونا چاہیے، بلکہ یہ دن ہمیں اس بات پر غور کرنے کا موقع بھی دیتا ہے کہ ہم اپنے اساتذہ کی محنت، خلوص اور قربانیوں کی کتنی قدر کرتے ہیں۔
ایک استاد کی زبان سے نکلنے والا ایک حوصلہ افزا جملہ کسی طالب علم کی پوری زندگی بدل سکتا ہے۔ شاید اسی لیے دنیا میں بہت سے کامیاب لوگوں کے پیچھے ایک ایسے استاد کا نام ضرور ملتا ہے جس نے کبھی ان پر یقین کیا تھا۔
استاد صرف سبق نہیں دیتا، وہ نسلوں کو مستقبل لکھنا سکھاتا ہے۔
دیکھیے: پی ٹی آئی مارچ میں سرکاری مشینری کا استعمال، مسلح افراد کی موجودگی کا انکشاف