میران شاہ: شمالی وزیرستان کے علاقے میران شاہ میں گزشتہ روز ہونے والے دھماکے میں ایک کم سن لڑکے کے ملوث ہونے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔ خودکش حملے کے بعد شدت پسند گروہوں کی جانب سے کم عمر لڑکوں کو حملوں میں استعمال کرنے کے معاملے پر ایک بار پھر تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے۔
سیکیورٹی اور مقامی ذرائع کے مطابق ایسے کم سن خودکش حملہ آوروں کو مقامی طور پر “تیز پری” (Tiz Pari) کہا جاتا ہے جنہیں مبینہ طور پر شدت پسند کمانڈرز اپنے مقاصد کے لیے استعمال کرتے ہیں۔
سیکیورٹی حلقوں کا کہنا ہے کہ شدت پسند تنظیمیں اکثر کم عمر لڑکوں کو مختلف طریقوں سے متاثر کر کے انہیں خودکش کارروائیوں کے لیے تیار کرتی ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ ایسے لڑکوں کو کم عمری میں ہی شدت پسند نظریات کے زیر اثر لایا جاتا ہے اور بعد ازاں انہیں خطرناک کارروائیوں میں استعمال کیا جاتا ہے۔
سیکیورٹی ماہرین کا کہنا ہے کہ دہشت گرد تنظیموں کی جانب سے بچوں کو اس طرح استعمال کرنا نہ صرف انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے بلکہ یہ معاشرے اور خطے کے امن کے لیے بھی سنگین خطرہ ہے۔ ان کے مطابق ریاستی اداروں کی کارروائیوں اور سیکیورٹی اقدامات کے باعث ایسے گروہوں کی سرگرمیوں کو محدود کرنے کی کوششیں جاری ہیں۔
دیکھئیے:میران شاہ میں چیک پوسٹ کے قریب خودکش دھماکا، 14 شہری زخمی، ہسپتال میں ایمرجنسی نافذ