افغان طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے کابل کے نجی ٹی وی چینل کو دیے گئے ایک حالیہ انٹرویو میں پاکستان کے ساتھ سرحدی کشیدگی اور معاشی مشکلات کا بالواسطہ ذمہ دار پاکستان میں موجود بعض ’’افراد‘‘ کو قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ بدامنی پھیلانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ان کے مطابق طالبان کے زیرِ انتظام افغانستان مستحکم، معاشی طور پر ترقی کی جانب گامزن اور اندرونی چیلنجز سے نمٹنے کی صلاحیت رکھتا ہے، جبکہ تجارت اور بنیادی ڈھانچے میں توسیع بھی جاری ہے۔
تاہم تجزیہ کاروں اور بین الاقوامی اداروں کی رپورٹس کے مطابق یہ بیانیہ متعدد تضادات کا شکار نظر آتا ہے۔ سکیورٹی ذرائع کے مطابق صرف 2025 میں پاکستان میں ہونے والے 600 سے زائد دہشت گرد حملوں کا تعلق افغان سرزمین سے جوڑا گیا، جن میں اکثریت کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) سے منسوب تھی۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ اعداد و شمار طالبان کی جانب سے سرحدی سلامتی یقینی بنانے میں ناکامی یا عدم دلچسپی کی عکاسی کرتے ہیں۔
ذبیح اللہ مجاہد کا یہ دعویٰ کہ طالبان کسی بھی ملک سے تصادم نہیں چاہتے، ناقدین کے نزدیک زمینی حقائق سے مطابقت نہیں رکھتا۔ ان کا کہنا ہے کہ طالبان حکومت کی پالیسیوں کے علاقائی اثرات کو نظر انداز کیا جا رہا ہے، جن میں تاجکستان پر حملے، چینی مفادات کو لاحق خطرات، اور جنوبی و وسطی ایشیا میں عدم استحکام شامل ہیں۔ یہ صورتحال مبصرین کے مطابق ذمہ دارانہ طرزِ حکمرانی کے بجائے خطے کے لیے نئے خطرات کو جنم دے رہی ہے۔
طالبان کی جانب سے ماضی کی خلاف ورزیوں پر ’’صبر‘‘ کا دعویٰ بھی سوالات کی زد میں ہے، کیونکہ متعدد رپورٹس کے مطابق طالبان نے سرحد پار دہشت گرد گروہوں کے خلاف مؤثر کارروائی نہیں کی۔ ناقدین کے مطابق یہ طرزِ عمل امن کے عزم کے بجائے منتخب اور محدود نفاذ کی نشاندہی کرتا ہے۔
بین الاقوامی سطح پر بھی طالبان کے دعوؤں کو چیلنج کیا جا رہا ہے۔ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی 16ویں مانیٹرنگ رپورٹ میں طالبان پر الزام عائد کیا گیا ہے کہ وہ انسدادِ دہشت گردی کے حوالے سے تعاون سے گریزاں رہے، جبکہ القاعدہ، ٹی ٹی پی اور داعش خراسان جیسے گروہوں کو محفوظ پناہ گاہیں، لاجسٹک سہولتیں اور مالی معاونت میسر رہی۔
معاشی میدان میں بھی طالبان کے دعوے محدود دائرے تک سمٹے دکھائی دیتے ہیں۔ ماہرین کے مطابق ایران اور وسطی ایشیا کے راستے متبادل تجارتی راستے پاکستان کے ساتھ تجارت میں رکاوٹ سے ہونے والے نقصانات کا ازالہ نہیں کر سکتے۔ رپورٹس کے مطابق سرحدی بندشوں اور تجارتی تعطل سے افغان معیشت کو یومیہ تقریباً 10 لاکھ ڈالر کا نقصان اٹھانا پڑا، جو بڑی حد تک طالبان کی سکیورٹی ناکامیوں کا نتیجہ بتایا جاتا ہے۔
طالبان حکومت کے حامی حلقے روس کی جانب سے 2025 میں طالبان کو تسلیم کیے جانے کو ایک بڑی سفارتی کامیابی قرار دیتے ہیں، تاہم تجزیہ کار اسے ایک محدود اور مفاداتی ہم آہنگی قرار دیتے ہیں، نہ کہ طالبان کے طرزِ حکمرانی یا سکیورٹی کارکردگی کی توثیق۔ ان کے مطابق طالبان اب بھی دوحہ معاہدے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے بین الاقوامی دہشت گرد نیٹ ورکس کو جگہ دے رہے ہیں۔
زبیح اللہ مجاہد کے مطابق افغانستان میں داخلی استحکام، مہاجرین کا انتظام، قدرتی آفات سے نمٹنے اور روزمرہ زندگی کی بہتری جاری ہے، مگر عالمی امدادی اداروں کی رپورٹس ایک مختلف تصویر پیش کرتی ہیں۔ اندازوں کے مطابق ملک کی نصف سے زائد آبادی انسانی امداد پر انحصار کر رہی ہے، جبکہ بے روزگاری، غربت اور نجی شعبے کی سرگرمیوں میں شدید کمی دیکھنے میں آ رہی ہے۔
معاشی نمو، کرنسی کے استحکام اور فیکٹریوں کے قیام کے دعوؤں کو بھی ماہرین علاقائی اور وقتی مثالیں قرار دیتے ہیں۔ ان کے مطابق بیشتر صوبوں میں نجی سرمایہ کاری رکی ہوئی ہے اور خواتین کی تعلیم و ملازمت پر پابندیوں نے افرادی قوت، سماجی بہبود اور ترقی کے امکانات کو شدید متاثر کیا ہے۔
سکیورٹی سے متعلق طالبان کے بیانات کو بھی گمراہ کن قرار دیا جا رہا ہے، کیونکہ القاعدہ اور داعش خراسان کی موجودگی اور سرحد پار دہشت گردی نے ہمسایہ ممالک کے لیے خطرات میں اضافہ کیا ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ طالبان کا سکیورٹی ڈھانچہ اب تک نہ تو اندرونی تحفظ یقینی بنا سکا ہے اور نہ ہی علاقائی استحکام میں مثبت کردار ادا کر پایا ہے۔
ماہرین کے مطابق طالبان کی جانب سے 2026 کے لیے ترقی، اتحاد اور خوشحالی کے دعوے معاشی زوال، منظم جبر اور بین الاقوامی تنہائی کے تناظر میں غیر حقیقی دکھائی دیتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ جب تک طالبان انسدادِ دہشت گردی کے وعدوں، انسانی حقوق اور علاقائی ذمہ داریوں پر عملی پیش رفت نہیں کرتے، ان کے بیانات اور زمینی حقائق کے درمیان یہ خلا برقرار رہے گا۔
دیکھیں: افغان خواتین اور ملازمت: طالبان کے بیانیے اور زمینی حقائق کے مابین تضاد