افغان طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد کی جانب سے دہشت گرد گروہوں کی موجودگی سے انکار کو عالمی ماہرین نے حقائق کے منافی قرار دے دیا ہے، جبکہ اقوام متحدہ کی رپورٹس افغانستان میں 20 سے زائد شدت پسند تنظیموں کی نشاندہی کر رہی ہیں

February 26, 2026

بلوچستان سے اسلام آباد تک دہشت گردی کی حالیہ لہر نے جہاں سکیورٹی چیلنجز میں اضافہ کیا ہے، وہی بعض سیاسی و مذہبی رہنماؤں کی جانب سے شدت پسندوں کے بیانیے کی حمایت نے ریاست کے لیے کڑا امتحان پیدا کر دیا ہے

February 26, 2026

نبیل ارمان کے حوالے سے جاری تحقیقات میں یہ انکشاف ہوا ہے کہ وہ محض ایک طالب علم نہیں بلکہ کالعدم بی ایل اے کے میڈیا ونگ اور آن لائن بھرتیوں کے نیٹ ورک کا ایک اہم حصہ رہے ہیں

February 26, 2026

معروف تجزیہ نگار فیصل وڑائچ نے پاک افغان مذاکرات کو ایک ‘سراب’ قرار دیتے ہوئے طالبان کے بیانیے اور اقدامات میں موجود تضاد کو خطے کے امن کے لیے سب سے بڑا خطرہ قرار دے دیا ہے

February 26, 2026

پی ٹی آئی کے وکلاء کی جانب سے عدالتی آداب کے برعکس رویوں پر قانونی ماہرین نے تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے ضابطہ اخلاق کی پاسداری پر زور دیا ہے

February 26, 2026

اسلام آباد کو چاہیے کہ وہ دفاعی تیاری کے ساتھ ساتھ معاشی استحکام، علاقائی روابط اور سفارتی حکمت عملی کو مضبوط کرے۔ طاقت کا توازن صرف اسلحے سے نہیں بلکہ معیشت، سفارت کاری اور بیانیے کی برتری سے بھی قائم رہتا ہے۔

February 26, 2026

ذبیح اللہ مجاہد کا بیان اور زمینی حقائق: اقوام متحدہ اور روسی سلامتی اداروں نے طالبان کا مؤقف مسترد کر دیا

افغان طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد کی جانب سے دہشت گرد گروہوں کی موجودگی سے انکار کو عالمی ماہرین نے حقائق کے منافی قرار دے دیا ہے، جبکہ اقوام متحدہ کی رپورٹس افغانستان میں 20 سے زائد شدت پسند تنظیموں کی نشاندہی کر رہی ہیں
افغان طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد کی جانب سے دہشت گرد گروہوں کی موجودگی سے انکار کو عالمی ماہرین نے حقائق کے منافی قرار دے دیا ہے، جبکہ اقوام متحدہ کی رپورٹس افغانستان میں 20 سے زائد شدت پسند تنظیموں کی نشاندہی کر رہی ہیں

February 26, 2026

افغان طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے حال ہی میں ‘العربیہ’ کو دیے گئے ایک انٹرویو میں افغانستان میں بین الاقوامی دہشت گرد گروہوں کی موجودگی سے صاف انکار کر دیا ہے۔ تاہم بین الاقوامی نگرانی کے اداروں، اقوام متحدہ اور علاقائی سلامتی کے جائزوں نے ان دعوؤں کو یکسر مسترد کرتے ہوئے اسے محض توجہ ہٹانے کی حکمت عملی قرار دیا ہے۔

عالمی رپورٹس

روسی سلامتی کے حالیہ جائزے کے مطابق افغانستان میں اس وقت مختلف گروہوں سے وابستہ 20 ہزار سے 23 ہزار تک مسلح جنگجو موجود ہیں، جن میں تقریباً نصف تعداد غیر ملکیوں کی ہے۔ رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ ‘داعش خراسان’ کے 3 ہزار جبکہ ‘تحریک طالبان پاکستان’ کے 5 ہزار سے 7 ہزار جنگجو افغان سرزمین استعمال کر رہے ہیں۔ اقوام متحدہ کی مانیٹرنگ ٹیم نے بھی تصدیق کی ہے کہ افغانستان میں ٹی ٹی پی، القاعدہ اور ای ٹی آئی ایم سمیت 20 سے زائد دہشت گرد تنظیمیں طالبان کی سرپرستی میں سرگرم ہیں۔

پاکستان کا مؤقف اور دفاعی کاروائیاں

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ طالبان کے اقتدار سنبھالنے کے بعد ٹی ٹی پی کو غیر معمولی عملی آزادی ملی، جس کے نتیجے میں پاکستان میں دہشت گردانہ حملوں میں تیزی آئی۔ پاکستان نے بارہا سفارتی ذرائع، انٹیلی جنس شیئرنگ اور قطر و ترکیہ کی ثالثی کے ذریعے یہ معاملہ اٹھایا مگر طالبان کی جانب سے کوئی ٹھوس کاروائی سامنے نہیں آئی۔ تمام پرامن کوششیں ناکام ہونے کے بعد پاکستان نے انٹیلی جنس بنیادوں پر محدود اور ہدفی کارروائیاں کیں، جن کا نشانہ صرف دہشت گردوں کے کیمپ تھے، نہ کہ شہری تنصیبات۔

حقائق سے انکار

ماہرین کے مطابق طالبان نے دانستہ طور پر دہشت گرد گروہوں کو شہری آبادیوں میں پناہ دے رکھی ہے تاکہ کسی بھی کارروائی کی صورت میں انہیں ‘شہری ہلاکتوں’ کے طور پر پیش کر کے عالمی ہمدردی حاصل کی جا سکے۔ پاکستان نے سرحد پار سے دراندازی کرنے والے متعدد داعش دہشت گردوں کو ہلاک یا گرفتار کر کے ثبوت فراہم کیے ہیں، جبکہ افغان حکام کی جانب سے اس کے برعکس کوئی مثال موجود نہیں۔

سکیورٹی حلقوں کا ماننا ہے کہ جب اقوام متحدہ کی رپورٹس، روسی جائزے اور علاقائی انٹیلی جنس ایک ہی نتیجے پر متفق ہوں، تو محض انکار سے حقیقت تبدیل نہیں ہو سکتی۔ طالبان کا یہ معذرت خواہانہ رویہ نہ صرف خطے کے عدم استحکام کا سبب بن رہا ہے بلکہ عالمی سطح پر ان کی اپنی ساکھ کو بھی شدید نقصان پہنچا رہا ہے۔

متعلقہ مضامین

بلوچستان سے اسلام آباد تک دہشت گردی کی حالیہ لہر نے جہاں سکیورٹی چیلنجز میں اضافہ کیا ہے، وہی بعض سیاسی و مذہبی رہنماؤں کی جانب سے شدت پسندوں کے بیانیے کی حمایت نے ریاست کے لیے کڑا امتحان پیدا کر دیا ہے

February 26, 2026

نبیل ارمان کے حوالے سے جاری تحقیقات میں یہ انکشاف ہوا ہے کہ وہ محض ایک طالب علم نہیں بلکہ کالعدم بی ایل اے کے میڈیا ونگ اور آن لائن بھرتیوں کے نیٹ ورک کا ایک اہم حصہ رہے ہیں

February 26, 2026

معروف تجزیہ نگار فیصل وڑائچ نے پاک افغان مذاکرات کو ایک ‘سراب’ قرار دیتے ہوئے طالبان کے بیانیے اور اقدامات میں موجود تضاد کو خطے کے امن کے لیے سب سے بڑا خطرہ قرار دے دیا ہے

February 26, 2026

پی ٹی آئی کے وکلاء کی جانب سے عدالتی آداب کے برعکس رویوں پر قانونی ماہرین نے تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے ضابطہ اخلاق کی پاسداری پر زور دیا ہے

February 26, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *