افغان طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے حال ہی میں ‘العربیہ’ کو دیے گئے ایک انٹرویو میں افغانستان میں بین الاقوامی دہشت گرد گروہوں کی موجودگی سے صاف انکار کر دیا ہے۔ تاہم بین الاقوامی نگرانی کے اداروں، اقوام متحدہ اور علاقائی سلامتی کے جائزوں نے ان دعوؤں کو یکسر مسترد کرتے ہوئے اسے محض توجہ ہٹانے کی حکمت عملی قرار دیا ہے۔
عالمی رپورٹس
روسی سلامتی کے حالیہ جائزے کے مطابق افغانستان میں اس وقت مختلف گروہوں سے وابستہ 20 ہزار سے 23 ہزار تک مسلح جنگجو موجود ہیں، جن میں تقریباً نصف تعداد غیر ملکیوں کی ہے۔ رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ ‘داعش خراسان’ کے 3 ہزار جبکہ ‘تحریک طالبان پاکستان’ کے 5 ہزار سے 7 ہزار جنگجو افغان سرزمین استعمال کر رہے ہیں۔ اقوام متحدہ کی مانیٹرنگ ٹیم نے بھی تصدیق کی ہے کہ افغانستان میں ٹی ٹی پی، القاعدہ اور ای ٹی آئی ایم سمیت 20 سے زائد دہشت گرد تنظیمیں طالبان کی سرپرستی میں سرگرم ہیں۔
پاکستان کا مؤقف اور دفاعی کاروائیاں
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ طالبان کے اقتدار سنبھالنے کے بعد ٹی ٹی پی کو غیر معمولی عملی آزادی ملی، جس کے نتیجے میں پاکستان میں دہشت گردانہ حملوں میں تیزی آئی۔ پاکستان نے بارہا سفارتی ذرائع، انٹیلی جنس شیئرنگ اور قطر و ترکیہ کی ثالثی کے ذریعے یہ معاملہ اٹھایا مگر طالبان کی جانب سے کوئی ٹھوس کاروائی سامنے نہیں آئی۔ تمام پرامن کوششیں ناکام ہونے کے بعد پاکستان نے انٹیلی جنس بنیادوں پر محدود اور ہدفی کارروائیاں کیں، جن کا نشانہ صرف دہشت گردوں کے کیمپ تھے، نہ کہ شہری تنصیبات۔
حقائق سے انکار
ماہرین کے مطابق طالبان نے دانستہ طور پر دہشت گرد گروہوں کو شہری آبادیوں میں پناہ دے رکھی ہے تاکہ کسی بھی کارروائی کی صورت میں انہیں ‘شہری ہلاکتوں’ کے طور پر پیش کر کے عالمی ہمدردی حاصل کی جا سکے۔ پاکستان نے سرحد پار سے دراندازی کرنے والے متعدد داعش دہشت گردوں کو ہلاک یا گرفتار کر کے ثبوت فراہم کیے ہیں، جبکہ افغان حکام کی جانب سے اس کے برعکس کوئی مثال موجود نہیں۔
سکیورٹی حلقوں کا ماننا ہے کہ جب اقوام متحدہ کی رپورٹس، روسی جائزے اور علاقائی انٹیلی جنس ایک ہی نتیجے پر متفق ہوں، تو محض انکار سے حقیقت تبدیل نہیں ہو سکتی۔ طالبان کا یہ معذرت خواہانہ رویہ نہ صرف خطے کے عدم استحکام کا سبب بن رہا ہے بلکہ عالمی سطح پر ان کی اپنی ساکھ کو بھی شدید نقصان پہنچا رہا ہے۔