پاکستان میں گزشتہ ایک ماہ کے دوران بلوچستان سے لے کر اسلام آباد تک دہشت گردی کی ایک نئی اور ہولناک لہر دیکھی گئی ہے، جس نے ریاست کے دفاعی نظام اور اندرونی صفوں میں موجود ‘نظریاتی ہمدردوں’ کے کردار پر کئی سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ عوامی اور دفاعی حلقوں کا کہنا ہے کہ دہشت گردوں کے ٹھکانے، ان کے سہولت کار اور ان کی سرپرستی کرنے والے عناصر اب کسی سے ڈھکے چھپے نہیں رہے لیکن اس کے باوجود بعض گروہوں کی خاموشی اور چند ایک کی جانب سے دشمن کے بیانیے کی حمایت تشویشناک ہے۔
رپورٹ کے مطابق ایک طرف جہاں افغان طالبان کی قیادت کھلے عام پاکستان کو دھمکیاں دے رہی ہے، وہیں پاکستان کے اندر موجود بعض سیاسی اور مذہبی حلقوں کا رویہ دوہرا معیار ظاہر کر رہا ہے۔ جے یو آئی کے بعض ذمہ داران کی جانب سے علی الاعلان افغان طالبان اور ان سے وابستہ گروہوں کے بیانیے کی حمایت کی جا رہی ہے۔ اسی طرح کراچی سے تعلق رکھنے والی معروف شخصیت مولوی منظور مینگل جیسے افراد پر الزام ہے کہ وہ دہشت گردوں اور ان کے سرپرستوں کو ‘مظلوم’ بنا کر پیش کر رہے ہیں، جو کہ براہِ راست ریاستِ پاکستان کے بیانیے کی نفی ہے۔
تجزیہ کار سوال اٹھا رہے ہیں کہ وہ مذہبی و سیاسی رہنما جو پاکستان کی سرزمین پر تمام مراعات حاصل کر رہے ہیں، ان کی وفاداری کس کے ساتھ ہے؟ ایک ایسے وقت میں جب ملک دہشت گردی کی آگ میں جھلس رہا ہے، دشمن کے حق میں نرم گوشہ رکھنا یا ان کی کارروائیوں کو جواز فراہم کرنا کسی طور بھی حب الوطنی کے زمرے میں نہیں آتا۔
سیکیورٹی ماہرین کا ماننا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ صرف ہتھیاروں سے نہیں بلکہ ایک متفقہ قومی بیانیے سے جیتی جا سکتی ہے۔ اگر اندرونی طور پر سیاسی و مذہبی ڈھانچے میں موجود عناصر دہشت گردوں کی نظریاتی آبیاری کرتے رہیں گے، تو اس کڑی جنگ میں کامیابی کا حصول مشکل ہو جائے گا۔ ریاستِ پاکستان کے لیے اب وقت آ گیا ہے کہ وہ ان تمام کرداروں کا محاسبہ کرے جو پاکستان کا نمک کھا کر دشمن کی زبان بول رہے ہیں اور قومی سلامتی کو داؤ پر لگا رہے ہیں۔