امریکی سفارتکار زلمے خلیل زاد نے اپنے ٹویٹ میں بلوچستان اور خیبر پختونخوا کی سکیورٹی صورتحال کو تشویشناک قرار دیتے ہوئے کہا کہ بلوچستان میں بلوچ دہشت گردوں کے حملے اور اس کے جواب میں پاکستانی سکیورٹی آپریشنز المیے کی صورت اختیار کر چکے ہیں، جبکہ خیبر پختونخوا بھی شدید بحران سے گزر رہا ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ پاکستان کے مقبول سیاسی رہنما عمران خان تاحال جیل میں اور تنہائی کی قید میں ہیں اور ان کے خلاف قائم مقدمات سیاسی نوعیت کے ہیں۔
خلیل زاد نے پاکستانی اسٹیبلشمنٹ کو سخت گیر قرار دیتے ہوئے کہا کہ بیرونی نقطۂ نظر سے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ریاستی ڈھانچہ خود کو ایک بند گلی میں لے آیا ہے۔ انہوں نے رینڈ کارپوریشن میں اپنے تجربے کا حوالہ دیتے ہوئے “غیرجانبدار تجزیہ اور مؤثر حل” کی بات کی اور تجویز دی کہ پاکستان کو اپنے داخلی بحرانوں کے حل کے لیے آزاد اور کثیر الجہتی ماہرین پر مشتمل گروپ سے غیرجانبدارانہ تجزیہ کرانا چاہیے، جس میں سیاسی آپشنز بھی شامل ہوں۔
The situation in #Baluchistan is tragic and alarming, with terrible attacks by Baluch fighters and Pakistani security operations As for Khyber Pakhtunkhwa? It is also in a state of crisis. @ImranKhanPTI, Pakistan's most popular political leader remains in jail and in solitary…
— Zalmay Khalilzad (@realZalmayMK) February 2, 2026
پاکستانی تجزیہ کاروں نے پاکستان کے داخلی معاملات پر زلمے خلیل زاد کی مسلسل ٹویٹس پر شدید تنقید کی اور کہا کے زلمے خلیل زاد کا بیان یک طرفہ تاثر پر مبنی ہے اور پاکستان کے داخلی معاملات کی پیچیدگیوں کو مکمل طور پر نظرانداز کرتا ہے۔ ان کے مطابق بلوچستان اور خیبر پختونخوا میں سکیورٹی چیلنجز محض داخلی نہیں بلکہ سرحد پار دہشت گردی، علاقائی عدم استحکام اور بیرونی مداخلت سے جڑے ہوئے ہیں، جنہیں سادہ سیاسی بیانیے میں سمیٹنا حقائق کی درست عکاسی نہیں کرتا۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ پاکستان میں سیاسی اور آئینی عمل موجود ہے اور عدالتی نظام آزادانہ طور پر کام کر رہا ہے، اس لیے کسی ایک سیاسی رہنما کے معاملات کو ریاستی بحران سے جوڑنا درست نہیں۔ ان کے مطابق سکیورٹی ادارے شہریوں کے تحفظ کے لیے کارروائیاں کر رہے ہیں اور انہیں صرف “اسٹیبلشمنٹ” کے تناظر میں دیکھنا زمینی حقائق سے چشم پوشی کے مترادف ہے۔
مزید کہا گیا کہ پاکستان پہلے ہی سماجی، سیاسی اور معاشی مسائل پر اندرونی مکالمے اور پالیسی جائزوں کے عمل سے گزر رہا ہے، جبکہ قومی مفاد میں فیصلے ملکی حالات کے مطابق کیے جاتے ہیں، نہ کہ بیرونی دباؤ یا ٹویٹس کی بنیاد پر۔ تجزیہ کاروں کے مطابق پاکستان کو درپیش چیلنجز کا حل بیرونی مشوروں کے بجائے اندرونی استحکام، جمہوری تسلسل اور علاقائی امن سے جڑا ہوا ہے۔
دیکھیے: آپریشن ہیروف ناکام: پاکستانی فورسز کی فتح اور درپیش چیلنجز