اگرچہ بھارت کو اپریل 2026 تک امریکی پابندیوں سے جزوی استثنیٰ حاصل ہے، لیکن خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور ممکنہ پابندیوں کے خدشات کے باعث نئی دہلی اس منصوبے میں مزید سرمایہ کاری کے معاملے میں محتاط نظر آ رہا ہے۔

March 5, 2026

آیت اللہ خامنہ ای کی ہلاکت کی خبروں پر عالمی سطح پر شکوک و شبہات برقرار ہیں۔ ایرانی حکومت کی خاموشی اس امکان کو تقویت دے رہا ہے کہ اصل شخصیت کے بجائے ان کا ہم شکل نشانہ بنا ہو سکتا ہے، جس کے باعث یہ معاملہ تاحال تہران کی وضاحت کا طلب گار ہے

March 5, 2026

جے ایف-17 تھنڈر پاکستان کی دفاعی برآمدی حکمتِ عملی کا محور بن گیا ہے، جس کا مقصد ٹیکسٹائل سے ہٹ کر اسلحہ سازی کے ذریعے معیشت کو مستحکم کرنا ہے

March 5, 2026

وزارتِ اطلاعات نے بندرگاہوں کی 10 مارچ تک بندش سے متعلق سوشل میڈیا پر وائرل نوٹیفکیشن کو جعلی اور من گھڑت قرار دے دیا ہے

March 5, 2026

چیئرمین سینیٹ یوسف رضا گیلانی نے ترکمانستانی سفیر سے ملاقات میں توانائی، تجارت اور ٹاپئی گیس منصوبے سمیت سٹریٹجک تعاون بڑھانے پر زور دیا

March 5, 2026

و جی ڈی سی ایل نے کوہاٹ کے نشپا بلاک سے یومیہ 3765 بیرل تیل اور ایک کروڑ 12 لاکھ مکعب فٹ گیس کی بڑی دریافت کا اعلان کیا ہے

March 5, 2026

آپریشن بلیو اسٹار: صفائی کارکنوں کی ان کہی کہانیاں

آپریشن بلیو اسٹار کے دوران صفائی کارکنوں کی ان کہی کہانیاں سامنے آئیں اور 1984 میں گولڈن ٹیمپل پر حملے میں ہونے والی سنگین انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں بے نقاب ہوئیں۔
آپریشن بلیو اسٹار کی 39ویں برسی

خالصتان کے حق میں ریلی — آپریشن بلیو اسٹار کی 39ویں برسی کے موقع پر سخت گیر سکھ تنظیموں کے اراکین خالصتان کے نعرے لگاتے ہوئے۔ ان کے پوسٹروں پر جرنیل سنگھ بھنڈراں والے اپنی مخصوص نیلی پگڑی میں نمایاں ہیں۔ یہ ریلی 6 جون 2023 کو امرتسر، پنجاب میں گولڈن ٹیمپل پر منعقد ہوئی۔ [انسائیکلوپیڈیا بریٹانیکا]

June 8, 2025

آپریشن بلیو اسٹار: ایک انسانی المیہ
امرِتسر، 8 جون 2025 — بلیو اسٹار آپریشن بھارت کی تاریخ کا ایک دلخراش باب ہے جو آج بھی لوگوں کے ذہنوں میں تازہ ہے۔ جون 1984 میں بھارتی فوج نے سکھ رہنما جرنیل سنگھ بھنڈراں والے کو گولڈن ٹیمپل سے نکالنے کے لیے یہ آپریشن کیا۔ اس فوجی کارروائی نے تشدد، تباہی اور انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کی ایک تلخ یاد چھوڑ دی۔ سرکاری بیانیے سے ہٹ کر، حالیہ برسوں میں صفائی کارکنوں اور بے گناہ شہریوں کی سچائیاں سامنے آنا شروع ہوئی ہیں، جو اس خونی آپریشن کے پس منظر کو بے نقاب کرتی ہیں۔

صفائی کارکنوں کے دل دہلا دینے والے تجربات
کیول کمار، امرتسر میونسپل کارپوریشن کے ایک سابق صفائی کارکن، نے انکشاف کیا کہ کس طرح انہیں اور ان کے ساتھیوں کو لاشیں اٹھانے پر مجبور کیا گیا۔ یہ لاشیں گلیوں، بازاروں، لنگر ہالوں اور حتیٰ کہ دربار صاحب کے اندر سے اکٹھی کی گئیں۔ افسوسناک بات یہ ہے کہ یہ کام زیادہ تر پسماندہ طبقے سے تعلق رکھنے والے افراد سے شراب کے نشے میں کروایا گیا، تاکہ وہ جذباتی اذیت کو برداشت کر سکیں۔ ان لاشوں کو بغیر کسی حفاظتی سامان یا وقار کے کوڑا کرکٹ کی گاڑیوں میں ڈالا گیا جیسے وہ انسان نہ ہوں۔

انسانی حقوق اور وقار کی پامالی
حکام نے صفائی کارکنوں کے لیے نہ کوئی حفاظتی اقدامات کیے اور نہ ہی نفسیاتی مدد فراہم کی۔ رپورٹس کے مطابق، بہت سی لاشوں کا بغیر پوسٹ مارٹم کے اجتماعی طور پر کریا کرم کر دیا گیا، جس سے متاثرہ خاندانوں کو آخری رسومات ادا کرنے کا موقع نہیں ملا۔ ان کارکنوں پر جھوٹے الزامات لگائے گئے کہ وہ لوٹ مار یا لاشوں کی بے حرمتی میں ملوث تھے، جس کے باعث ایک خوف اور خاموشی کا ماحول پیدا ہوا جو آج بھی قائم ہے۔

متنازع ہلاکتیں اور یادگاری تقاریب
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق ہلاکتوں کی تعداد 493 بتائی گئی، مگر انسانی حقوق کی تنظیمیں اور عینی شاہدین اسے 4,000 سے 5,000 کے درمیان بتاتے ہیں۔ بی بی سی کو دیے گئے ایک انٹرویو میں کیول کمار نے کہا کہ صرف میونسپل ورکرز نے تقریباً 1,000 لاشیں اٹھائیں۔ سابق ڈپٹی کمشنر رمیش اندر سنگھ کے مطابق صرف 536 لاشوں کا پوسٹ مارٹم کیا گیا، جن میں آٹھ بچے بھی شامل تھے۔ یہ تضاد حکومتی بیانیے پر سوالیہ نشان ہے۔

آپریشن بلیو اسٹار کی 41ویں برسی پر پنجاب بھر میں فگواڑا، ہوشیار پور سمیت مختلف شہروں میں یادگاری تقاریب منعقد ہوئیں۔ ان میں ہندو سورکشا سمیتی اور شیو سینا کے رہنماؤں نے شرکت کی اور امن، اتحاد اور انتہا پسندی کے خلاف پیغامات دیے۔ تقاریب کا اختتام دعاؤں کے ساتھ ہوا۔

انصاف کی پکار
آپریشن بلیو اسٹار نے نہ صرف تاریخ کو بدلا بلکہ شہری آزادیوں، سماجی ناانصافی اور ریاستی احتساب کے حوالے سے کئی سوالات کھڑے کیے۔ صفائی کارکنوں کی آوازیں، جو دہائیوں تک دبی رہیں، اب انصاف اور پہچان کی طلبگار ہیں۔ ان کی گواہیاں ہمیں یہ یاد دلاتی ہیں کہ اس فوجی کارروائی کی انسانی قیمت کتنی بھاری تھی۔ یہ واقعہ ایک قومی سبق ہے جسے فراموش نہیں کیا جانا چاہیے۔

متعلقہ مضامین

اگرچہ بھارت کو اپریل 2026 تک امریکی پابندیوں سے جزوی استثنیٰ حاصل ہے، لیکن خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور ممکنہ پابندیوں کے خدشات کے باعث نئی دہلی اس منصوبے میں مزید سرمایہ کاری کے معاملے میں محتاط نظر آ رہا ہے۔

March 5, 2026

آیت اللہ خامنہ ای کی ہلاکت کی خبروں پر عالمی سطح پر شکوک و شبہات برقرار ہیں۔ ایرانی حکومت کی خاموشی اس امکان کو تقویت دے رہا ہے کہ اصل شخصیت کے بجائے ان کا ہم شکل نشانہ بنا ہو سکتا ہے، جس کے باعث یہ معاملہ تاحال تہران کی وضاحت کا طلب گار ہے

March 5, 2026

جے ایف-17 تھنڈر پاکستان کی دفاعی برآمدی حکمتِ عملی کا محور بن گیا ہے، جس کا مقصد ٹیکسٹائل سے ہٹ کر اسلحہ سازی کے ذریعے معیشت کو مستحکم کرنا ہے

March 5, 2026

وزارتِ اطلاعات نے بندرگاہوں کی 10 مارچ تک بندش سے متعلق سوشل میڈیا پر وائرل نوٹیفکیشن کو جعلی اور من گھڑت قرار دے دیا ہے

March 5, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *