امریکی سپریم کورٹ کی جانب سے صدر ٹرمپ کے تجارتی اقدامات کی منسوخی کے بعد چین کا سخت ردِعمل؛ بیجنگ نے واشنگٹن سے یکطرفہ ٹیرف فوری ختم کرنے کا مطالبہ کر دیا

February 23, 2026

آئی سی سی نے ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ 2028 کے لیے کوالیفائی کرنے والی ٹیموں کی تفصیلات جاری کر دیں؛ بنگلہ دیش، افغانستان اور آئرلینڈ کی براہِ راست شرکت یقینی

February 23, 2026

افغان طالبان کی جانب سے سرزمینِ پاکستان پر خودکش حملوں کی مبینہ منصوبہ بندی کا انکشاف، آماج نیوز نے حساس دستاویزات اور تصاویر جاری کر دیں

February 23, 2026

سابق امریکی سفیر زلمے خلیل زاد کی پاکستان پر تنقید؛ ماہرین نے دوحہ معاہدے کی ناکامی اور دہشت گردوں کی محفوظ پناہ گاہوں کے قیام کا ذمہ دار خلیل زاد کی پالیسیوں کو قرار دے دیا

February 23, 2026

پاکستان کی سکیورٹی فورسز کی کاروائیاں، افغان سرزمین پر دہشت گردوں کی موجودگی، اور عالمی سکوت کے پس منظر میں پاکستان کا حقِ دفاع، جو بین الاقوامی قوانین کے مطابق مکمل طور پر جائز اور درست ہے

February 23, 2026

پشین میں سکیورٹی فورسز کا انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن؛ خودکش بمبار سمیت فتنہ الخوارج کے 5 دہشت گرد ہلاک، بھاری مقدار میں اسلحہ و بارود برآمد

February 23, 2026

ایران-اسرائیل تنازعے سے اڈانی گروپ اور بی جے پی کی مغربی ایشیائی حکمتِ عملی خطرے میں

ایران-اسرائیل کشیدگی کے باعث اڈانی گروپ کے مشرق وسطیٰ میں معاشی اور دفاعی منصوبے خطرے میں ہیں، جو بھارت کے سیاسی اتحاد کو متاثر کر سکتے ہیں۔
ایران-اسرائیل کشیدگی کے باعث اڈانی گروپ کے مشرق وسطیٰ میں معاشی اور دفاعی منصوبے خطرے میں ہیں، جو بھارت کے سیاسی اتحاد کو متاثر کر سکتے ہیں۔

کشیدگی کے باعث اڈانی گروپ کے معاشی اور دفاعی منصوبے خطرے میں

June 15, 2025

اڈانی گروپ اور نئی دہلی کی تشویش


ایران اور اسرائیل کے درمیان جاری کشیدگی کا اثر صرف تل ابیب یا تہران تک محدود نہیں رہا۔ یہ بحران اب حیفہ بندرگاہ، حیدرآباد کے ڈرون کارخانوں اور نئی دہلی کی خارجہ پالیسی تک پہنچ چکا ہے۔
بھارت کے نمایاں کاروباری ادارے اڈانی گروپ کی مشرق وسطیٰ میں اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری، خاص طور پر اسرائیل کی حیفہ بندرگاہ میں، ایران-اسرائیل کشیدگی کے باعث غیر یقینی صورتحال سے دوچار ہے۔

حیفہ بندرگاہ خطرے میں IMEC راہداری


سال 2023 میں اڈانی گروپ نے اسرائیل کی حیفہ بندرگاہ میں 1.2 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کے ذریعے 70 فیصد حصص حاصل کیے۔ یہ سرمایہ کاری صرف ایک معاشی قدم نہیں تھی بلکہ بھارت-اسرائیل شراکت داری کا سیاسی پیغام بھی تھی، جو “انڈیا-مڈل ایسٹ-یورپ اکنامک کاریڈور (IMEC)” کا حصہ تھی۔
مگر موجودہ کشیدگی کے پیش نظر IMEC منصوبے کے ساتھ ساتھ اڈانی گروپ کی اسٹریٹجک پوزیشن بھی خطرے میں پڑ چکی ہے۔ غیر سرکاری رپورٹس کے مطابق، گروپ کو ممکنہ طور پر اربوں ڈالر کا نقصان ہو چکا ہے۔

دفاعی شراکت داری


اڈانی گروپ کا اسرائیل سے تعلق صرف بندرگاہوں تک محدود نہیں۔ 2018 میں گروپ نے اسرائیلی دفاعی کمپنی “Elbit Systems” کے ساتھ مل کر حیدرآباد میں Hermes 900 ڈرونز تیار کرنے کا منصوبہ شروع کیا، جو اسرائیلی افواج کے زیرِ استعمال ہیں۔

یہ تعاون صرف کاروباری نہیں بلکہ نظریاتی ہے۔ ہندو اور صیہونیت کی ہم آہنگی، خطے میں بلوچستان اور ایران مخالف بیانیہ تشکیل دینے کی ایک بڑی وجہ ہے، جس میں اڈانی گروپ بھی ایک اسٹریٹجک کڑی ہے۔

خاموش سفارت یا مالی مصلحت؟


شنگھائی تعاون تنظیم (SCO) میں بھارت کی خاموشی، جہاں دیگر رکن ممالک نے اسرائیل پر تنقید کی، محض سفارتی نہیں بلکہ مالیاتی حکمت عملی کا نتیجہ ہے۔
وزیر اعظم مودی کے قریبی تصور کیے جانے والے گوتم اڈانی کے مفادات کو محفوظ رکھنا اب بھارت کی خارجہ پالیسی کا بنیادی پہلو بنتا جا رہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اڈانی گروپ کے مفادات کو نقصان پہنچنے کا مطلب، سیاسی و اقتصادی دونوں محاذوں پر دباؤ ہے۔

دیکھیئے پاکستان کی جانب سے اقوام متحدہ میں ایران پر اسرائیلی حملے کی شدید مذمت

متعلقہ مضامین

امریکی سپریم کورٹ کی جانب سے صدر ٹرمپ کے تجارتی اقدامات کی منسوخی کے بعد چین کا سخت ردِعمل؛ بیجنگ نے واشنگٹن سے یکطرفہ ٹیرف فوری ختم کرنے کا مطالبہ کر دیا

February 23, 2026

آئی سی سی نے ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ 2028 کے لیے کوالیفائی کرنے والی ٹیموں کی تفصیلات جاری کر دیں؛ بنگلہ دیش، افغانستان اور آئرلینڈ کی براہِ راست شرکت یقینی

February 23, 2026

افغان طالبان کی جانب سے سرزمینِ پاکستان پر خودکش حملوں کی مبینہ منصوبہ بندی کا انکشاف، آماج نیوز نے حساس دستاویزات اور تصاویر جاری کر دیں

February 23, 2026

سابق امریکی سفیر زلمے خلیل زاد کی پاکستان پر تنقید؛ ماہرین نے دوحہ معاہدے کی ناکامی اور دہشت گردوں کی محفوظ پناہ گاہوں کے قیام کا ذمہ دار خلیل زاد کی پالیسیوں کو قرار دے دیا

February 23, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *