افغان طالبان کی جانب سے ملک میں ہر قسم کی منشیات کی پیداوار مکمل ختم ہونے کے مسلسل دعوے کیے جا رہے ہیں۔ اس کے برعکس بین الاقوامی شواہد اور معتبر عالمی اداروں کی رپورٹس افغانستان میں خطرناک مصنوعی منشیات آئس کی بڑے پیمانے پر تیاری اور منظم اسمگلنگ کی واضح تصدیق کرتی ہیں۔
اقوام متحدہ کے ادارہ برائے منشیات و جرائم کی رپورٹس کے مطابق افغانستان میں جنگلی پودے ایفیڈرا سمیت مختلف کیمیائی ذرائع سے آئس تیار کی جا رہی ہے۔ ان رپورٹس سے ظاہر ہوتا ہے کہ خطے میں روایتی نشہ آور اشیا کے بجائے اب مہلک منشیات آئس کی پیداوار کا رجحان تیزی سے جڑ پکڑ چکا ہے۔
عالمی سطح پر سامنے آنے والے اعداد و شمار سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ افغانستان سے منشیات آئس اور اس کے خام مال کی سرحد پار ترسیل کا سلسلہ بدستور موجود ہے۔ انٹرنیشنل نارکوٹکس کنٹرول بورڈ کے مطابق سال 2023 میں پاکستان میں افغانستان سے منتقل کی جانے والی آئس کی تیاری کے خام مال ایفیڈرین کی 5 ٹن سے زائد مقدار پکڑی گئی، جبکہ نیدرلینڈز میں بھی ضبط شدہ 2 ٹن ایفیڈرین کا سراغ افغانستان سے ہی ملا۔
بین الاقوامی ماہرین کا کہنا ہے کہ افغانستان میں منشیات آئس کا معاملہ اب کسی ایک واقعے یا محدود لیبارٹری تک محدود نہیں رہا۔ عالمی رپورٹس اس حقیقت کو واضح کرتی ہیں کہ آئس کی تیاری، خام مال کی فراہمی اور بین الاقوامی سرحدوں کے پار اس کی منظم اسمگلنگ ایک وسیع نیٹ ورک کی صورت اختیار کر چکی ہے۔