کینیڈا میں سکیورٹی ایجنسیوں اور میڈیا رپورٹس نے بھارتی نژاد افراد سے منسلک منظم مجرمانہ نیٹ ورکس کی بڑھتی ہوئی غیر قانونی سرگرمیوں کا انکشاف کیا ہے۔ ان گروہوں کے ڈکیتی، بھتہ خوری اور منشیات کی اسمگلنگ جیسی سنگین وارداتوں میں ملوث ہونے کے انکشاف نے کینیڈین حکام میں شدید تشویش پیدا کر دی ہے، جس کے بعد بڑے پیمانے پر تحقیقات کا آغاز کر دیا گیا ہے۔
سکیورٹی ذرائع کے مطابق حالیہ مہینوں میں کینیڈا کے مختلف شہروں بالخصوص برٹش کولمبیا اور اونٹاریو میں منظم جرائم کی شرح میں غیر معمولی اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ تحقیقاتی رپورٹس بتاتی ہیں کہ ان نیٹ ورکس کے روابط بین الاقوامی اسمگلروں سے ملتے ہیں، جو کینیڈا کے مقامی امن و امان کے لیے بڑا خطرہ بن چکے ہیں۔ کینیڈین پولیس نے متعدد ایسے مقدمات درج کیے ہیں جن میں بھارتی نژاد افراد پر مبنی گروہ مقامی کاروباری شخصیات کو ڈرانے دھمکانے اور منشیات کی سرحد پار ترسیل میں ملوث پائے گئے ہیں۔
میڈیا رپورٹس میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ان مجرمانہ نیٹ ورکس کی سرگرمیاں صرف مالی جرائم تک محدود نہیں بلکہ یہ سماجی ہم آہنگی کے لیے بھی چیلنج بن رہی ہیں۔ کینیڈین حکام نے ان گروہوں کے خلاف کریک ڈاؤن سخت کرنے کا فیصلہ کیا ہے تاکہ ان کی مالیاتی ترسیل کے ذرائع کو روکا جا سکے۔ اس صورتحال نے کینیڈا اور بھارت کے درمیان موجودہ سفارتی تناؤ میں ایک نیا رخ پیدا کر دیا ہے، کیونکہ ان نیٹ ورکس کے بعض ارکان کے بارے میں شبہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ وہ غیر ملکی عناصر کے زیرِ اثر بھی ہو سکتے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ کینیڈا میں جرائم کے اس بڑھتے ہوئے رجحان نے وہاں مقیم پرامن تارکینِ وطن میں بھی خوف و ہراس پھیلا دیا ہے۔ کینیڈین حکومت اب ان نیٹ ورکس کے اصل محرکات اور ان کے پیچھے موجود مبینہ سرپرستوں کو بے نقاب کرنے کے لیے بین الاقوامی تعاون اور جدید انٹیلی جنس طریقوں کا سہارا لے رہی ہے۔
دیکھیے: بھارتی حدود میں ایرانی ٹینکرز ضبط؛ تہران اور نئی دہلی میں تناؤ