القاعدہ برائے برصغیر نے پہلی بار اتحاد المجاہدین کے ساتھ اپنی آپریشنل وابستگی کا اعتراف کیا ہے، جسے تحریک طالبان پاکستان سے منسلک ایک گروپ کے طور پر بیان کیا جاتا ہے۔ یہ اقدام خطے میں شدت پسند نیٹ ورک کے پھیلاؤ کی نشاندہی کرتا ہے۔
یہ اعلان القاعدہ کے میگزین نوا غزوہ ہند میں شائع ہوا، جس میں دنیا بھر میں شدت پسند حملوں اور متعلقہ نیٹ ورکس کا انفراگرافک شامل تھا۔ اس میں اتحاد المجاہدین کے ذریعے کیے جانے والے حملوں کا ذکر القاعدہ کے دیگر آپریشنز کے ساتھ کیا گیا، جو افغانستان سے منسلک شدت پسند کارروائیوں کے تسلسل کو ظاہر کرتا ہے۔
AQIS for the first time acknowledged inclusion & alliance with Ittihad-ul-Mujahideen (IMP). They have included IMP attacks in their infographic showing global militant attacks & networks. The infographic appeared in AQIS’s magazine Nawa-e-Ghazwa-e-Hind. pic.twitter.com/CDph0S60Tx
— Jawad Yousafzai (@JawadYousufxai) February 16, 2026
ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ پیش رفت افغانستان میں سرگرم شدت پسند دھڑوں کے درمیان بڑھتی ہوئی ہم آہنگی اور اتحاد کی علامت ہے۔ یہ پیغام عام طور پر اثر و رسوخ بڑھانے، بھرتی کے عمل کو تقویت دینے اور برصغیر میں اپنی آپریشنل موجودگی کو بڑھا چڑھا کر پیش کرنے کے لیے دیا جاتا ہے۔
پاکستانی حکام کا موقف ہے کہ سرحد پار شدت پسند پناہ گاہیں اور نیٹ ورک پاکستان میں حملوں کے لیے سازگار ماحول فراہم کرتے ہیں، اور القاعدہ کا یہ اعتراف اسی تشویش کو مزید تقویت دیتا ہے۔
یہ پہلا موقع ہے جب القاعدہ نے اتحاد المجاہدین کو اپنے نیٹ ورک میں شامل کیا اور ان کے حملوں کو عالمی شدت پسند سرگرمیوں کے انفراگرافک میں دکھایا۔
دیکھیے: افغان سرزمین اور علاقائی سکیورٹی: طالبان کے بیانیے اور عالمی رپورٹس میں تضاد