یہ فیصلہ افغان عوام کے ساتھ ناانصافی ہے اور ایسے وقت میں کیا گیا ہے جب طالبان گزشتہ تقریباً پانچ برسوں سے سخت گیر پالیسیاں نافذ کیے ہوئے ہیں

March 16, 2026

لاریجانی نے کہا کہ ایران سے یہ توقع نہیں کی جا سکتی کہ وہ ہاتھ باندھ کر خاموش کھڑا رہے۔

March 16, 2026

اب سے کچھ دیر قبل افغانستان کے دارالحکومت کابل اور ننگرہار میں زور دار دھماکوں کی آوازیں سنی گئی ہیں جس کے بعد شہر کے مختلف علاقوں میں خوف و ہراس پھیل گیا۔

March 16, 2026

اس وقت ملک میں خام تیل کے 11 دن، ڈیزل کے 21 دن، پیٹرول کے 27 دن، ایل پی جی کے 9 دن اور جے پی ون کے 14 دن کے ذخائر موجود ہیں

March 16, 2026

مطابق فورس میں تقریباً 5 ہزار انڈونیشین فوجی شامل ہوں گے۔ اس کے علاوہ قازقستان، مراکش، البانیا اور کوسووو کے درجنوں فوجی بھی دستے میں شامل ہوں گے۔

March 16, 2026

نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اور چینی وزیر خارجہ وانگ یی کے درمیان حالیہ ٹیلیفونک رابطے میں مختلف امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا

March 16, 2026

ایران ،ٹرمپ اور غزہ کا مستقبل

امریکہ و اسرائیل کی جانب سے ٦۰ روزہ جنگ بندی کے فیصلے کو بہت نمایاں کرکے دکھایا جا رہا ہے، لیکن یہ فیصلہ فلسطینیوں کے اہم مطالبات جیسے آزادانہ حقوق، مہاجرین کی واپسی، اور حقِ آزادی کو نظرانداز کرنےکے مترادف ہے
امریکہ و اسرائیل کی جانب سے ٦۰روزہ روزہ جنگ بندی کے فیصلے کو بہت نمایاں کرکے دکھایا جا رہا ہے، لیکن یہ فیصلہ فلسطینیوں کے اہم مطالبات جیسے آزادانہ حقوق، مہاجرین کی واپسی، اور حقِ آزادی کو نظرانداز کرنےکے مترادف ہے

زمینی حقائق پر نظر دوڑائی جائے تو مذکورہ تمام معاملات میں فلسطینیوں کےحقوق کو یکسر نظرانداز کیا جارہاہے

July 3, 2025

امریکہ و اسرائیل کی جانب سے ٦روزہ غزہ جنگ بندی کے فیصلے کو بہت نمایاں کرکے دکھایا جا رہا ہے، لیکن یہ فیصلہ فلسطینیوں کے اہم مطالبات جیسے آزادانہ حقوق، مہاجرین کی واپسی، اور حقِ آزادی کو نظرانداز کرنےکے مترادف ہے۔ اس فیصلہ میں واضح طور پراسرائیل کی شرائط شامل ہیں، جبکہ حماس پر شدید دباؤ ڈالا جا رہا ہے کہ وہ بغیر کسی مزاحمت کےوہ خاموش رہے۔۔

ایران کی معنی خیز خاموشی

امریکی اور اسرائیلی حملوں کے بعد ایران نے کوئی واضح بیان جاری نہیں کیا۔ یہ اس بات کا عندیہ ہیکہ ایران جوابی کاروائی کےعمل کو از سرِنوں دیکھ رہا ہے۔ جوکہ مستقبل میں خطےکےلیے خطرے کا باعث بن سکتی ہے۔

ایران پرعالمی دباؤ

حالیہ حملوں میں ایران کی جوہری تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا، لیکن ایران نے جواباً کسی وسیع پیمانے پر کارروائی نہیں کی۔ اس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ ایران اپنی طاقت کو محتاط انداز سے استعمال کررہاہے ،مزید یہ کہ کسی عالمی جنگ میں الجھنے سے گریزاں ہے۔

حماس کو ایران کا ایجنٹ قرار دینا


ٹرمپ نے اپنے بیان میں حماس کو ایران کا ایجنٹ قرار دے کر تہران کو براہ راست تنازعے کا حصہ بنا دیا ہے۔ چاہے ایران کھل کر حمایت کرے یا نہ کرے، اب اسے اس غزہ جنگ میں فریق سمجھا جائے گا۔

اسرائیل-ایران کشیدگی

حالیہ جھڑپوں کے بعد دونوں ممالک نے ایک دوسرے کی طاقت کا اندازہ لگا لیا ہے۔ ایران اب کھلی جنگ کی بجائے اتحادیوں کے ذریعے اپنا خوب اثر و رسوخ استعمال کرے گا۔

خفیہ دھمکیاں اور میڈیا پر حاوی

عالمی ماہرین کا کہنا ہیکہ اب ایران کھلے اعلانات کی بجائے اپنے اتحادیوں (جیسے یمن کے حوثی، لبنان کی حزب اللہ) کے ذریعے اپنا پیغام پہنچائے گا۔ میڈیا پر کنٹرول اور خاموشی بھی اس کی حکمت عملی کا حصہ ہے۔

جنگ بندی یا محض چال؟

ٹرمپ کی غزہ جنگ بندی کی پیشکش کا حقائق سے کوسوں دور تک تعلق نظر نہیں آرہا، بلکہ صرف دکھلاوے کےلیے ایسی چالیں چلی جارہی ہیں بلکہ ممکن ہیکہ نوبل امن انعام کے لیے یہ سب کچھ کیاجارہاہو۔
زمینی حقائق پر نظر دوڑائی جائے تو مذکورہ تمام معاملات میں فلسطینیوں کےحقوق کو یکسر نظرانداز کیا جارہاہے۔

ایران فی الحال اپنی قوت کو مضبوط کرنے میں مصروف ہے۔ مستقبل میں وہ اپنے اتحادیوں کے ذریعے یا کسی اور طریقے سے اپنا ردعمل ضرور دے گا۔ ایران کی خاموشی حکمت عملی سے لبریز ہے۔

حالیہ صورتحال میں ایران اور حماس دونوں محتاط رویہ اپنائے ہوئے ہیں۔ ٹرمپ کی پیشکش اگرچہ میڈیا پر اچھالی جارہی ہے، لیکن یہ کوئی نتیجہ نہیں ہوگی جب تک فلسطینیوں کے حقوق و جائز مطالبات کو تسلیم نہیں کیا جاتا۔

دیکھیں: ٹرمپ کا دورانِ جنگ ایرانی فضائی حدود پر مکمل کنٹرول کا دعویٰ

متعلقہ مضامین

یہ فیصلہ افغان عوام کے ساتھ ناانصافی ہے اور ایسے وقت میں کیا گیا ہے جب طالبان گزشتہ تقریباً پانچ برسوں سے سخت گیر پالیسیاں نافذ کیے ہوئے ہیں

March 16, 2026

لاریجانی نے کہا کہ ایران سے یہ توقع نہیں کی جا سکتی کہ وہ ہاتھ باندھ کر خاموش کھڑا رہے۔

March 16, 2026

اب سے کچھ دیر قبل افغانستان کے دارالحکومت کابل اور ننگرہار میں زور دار دھماکوں کی آوازیں سنی گئی ہیں جس کے بعد شہر کے مختلف علاقوں میں خوف و ہراس پھیل گیا۔

March 16, 2026

اس وقت ملک میں خام تیل کے 11 دن، ڈیزل کے 21 دن، پیٹرول کے 27 دن، ایل پی جی کے 9 دن اور جے پی ون کے 14 دن کے ذخائر موجود ہیں

March 16, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *