کراچی کے علاقے گلستانِ جوہر میں کامران چورنگی کے قریب فرنیچر مارکیٹ میں لگنے والی آگ پر قابو پا لیا گیا۔ آتشزدگی کے نتیجے میں 35 دکانیں اور 10 سے 12 جھگیاں جل کر خاکستر ہوگئیں، تاہم کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔
فائر بریگیڈ حکام کے مطابق آگ جمعرات اور جمعہ کی درمیانی شب ایک بج کر 35 منٹ پر لگی۔ اطلاع ملنے کے 10 منٹ کے اندر فائر بریگیڈ کی گاڑیاں موقع پر پہنچ گئیں اور آگ بجھانے کا عمل شروع کر دیا۔
خشک موسم اور تیز ہوا کے باعث آگ نے تیزی سے شدت اختیار کی اور ملحقہ رہائشی عمارت تک پھیل گئی۔ فائر فائٹرز نے ڈیڑھ سے دو گھنٹے کی جدوجہد کے بعد آگ پر قابو پا لیا۔
آگ بجھانے کے لیے متعدد گاڑیاں طلب
آگ بجھانے کے عمل میں کے ایم سی فائر بریگیڈ کی چار گاڑیوں، ایک واٹر باوزر اور دیگر محکموں کی فائر ٹینڈرز نے حصہ لیا۔ ریسکیو 1122 کی ٹیم بھی فائر ٹرک اور ایمبولینس کے ساتھ موقع پر موجود رہی۔
واٹر کارپوریشن نے صفورہ ہائیڈرنٹس سے مسلسل پانی فراہم کیا، جبکہ احتیاطی تدبیر کے طور پر کے الیکٹرک نے علاقے کی بجلی منقطع کر دی۔ آگ پر قابو پانے کے بعد صبح تقریباً پانچ بجے تک کولنگ کا عمل جاری رہا۔
دکانداروں کا نقصان
متاثرہ دکانداروں کے مطابق یہ مارکیٹ گزشتہ 50 سال سے قائم ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ آتشزدگی میں کروڑوں روپے مالیت کا فرنیچر اور دیگر سامان جل گیا۔
دکانداروں نے حکومت سندھ سے مالی امداد کی اپیل کی ہے تاکہ وہ دوبارہ اپنا کاروبار شروع کر سکیں۔ ان کے مطابق گزشتہ سال بھی اسی مارکیٹ میں آگ لگنے کا واقعہ پیش آیا تھا۔
چیف فائر آفیسر ہمایوں خان نے بتایا کہ خشک موسم میں آتشزدگی کے واقعات بڑھ جاتے ہیں۔ ان کے مطابق ممکنہ طور پر کسی جھگی سے نکلنے والی چنگاری فرنیچر تک پہنچی، جس سے آگ بھڑک اٹھی۔
انہوں نے کہا کہ آتشزدگی کی اصل وجہ جاننے کے لیے تحقیقات جاری ہیں اور رپورٹ تیار کی جا رہی ہے۔





