پشاور کے ہزارخوانی میں سرکاری اسکول بارش کے بعد پانی میں ڈوب گیا، واقعے نے خیبر پختونخوا میں تعلیمی سہولیات اور حکومتی ترجیحات پر سوال اٹھا دیے۔

September 1, 2026

غزہ میں اسرائیلی جنگی طیاروں کی بمباری اور فائرنگ سے 3 بچوں سمیت 4 فلسطینی شہید ہوگئے۔

September 1, 2026

افغان سفیر سردار احمد شکیب نے پاکستان کے سکیورٹی خدشات کو تسلیم کر لیا، تاہم افغان سرزمین پر فوجی کارروائی کو ناقابلِ قبول قرار دیا۔

September 1, 2026

یکم ستمبر 1965 کا آپریشن گرینڈ سلیم اور پاک فضائیہ کا فضائی حملہ جنگِ ستمبر کا موڑ ثابت ہوا، جس نے بھارتی عسکری قیادت کو بوکھلا کر جنگ عالمی سرحدوں تک پھیلانے پر مجبور کر دیا۔

September 1, 2026

زیارت کراس کسٹمز چیک پوسٹ پر دہشتگردوں کا حملہ سکیورٹی فورسز نے ناکام بنا دیا، فائرنگ کے تبادلے میں 10 دہشتگرد ہلاک ہوگئے۔

September 1, 2026

شہباز شریف نے مودی کی موجودگی میں پانی کو سیاسی دباؤ یا بطور ہتھیار استعمال کرنے کو ناقابل قبول قرار دے دیا۔

September 1, 2026

ہند-میانمار بارڈر کانفلکٹ: تین ہفتوں میں تیسرا عسکری حملہ

ہند-میانمار بارڈر کانفلکٹ میں شدت آ گئی ہے جب تین ہفتوں میں تیسرا مہلک حملہ ہوا، جس سے شمال مشرقی بھارت میں کشیدگی بڑھ گئی ہے۔
بارڈر کانفلکٹ

بھارتی فوج نے ہند-میانمار سرحد کو سیل کر دیا

June 9, 2025

ہند-میانمار بارڈر کانفلکٹ میں نئی شدت
امپھال، بھارت — 9 جون 2025 — بھارت اور میانمار کے درمیان جاری بارڈر کانفلکٹ تیزی سے سنگین شکل اختیار کر رہا ہے۔ پچھلے تین ہفتوں میں بھارتی فوج پر تین بڑے عسکری حملے ہو چکے ہیں، جنہوں نے 1,643 کلومیٹر طویل غیر محفوظ سرحد پر خطرے کی گھنٹی بجا دی ہے۔ یہ صورتحال اب کشمیر کے مسئلے سے تشبیہ دی جا رہی ہے، جس سے شمال مشرقی بھارت میں ایک مکمل شورش کا خدشہ بڑھ گیا ہے۔

تین ہفتوں میں تین حملے، سیکیورٹی فورسز پر دباؤ
پچھلے تین ہفتوں کے دوران، بھارتی افواج کو اروناچل پردیش، ناگالینڈ، منی پور اور میزورم میں مسلسل مسلح حملوں کا سامنا کرنا پڑا — یہ تمام ریاستیں براہِ راست میانمار سے متصل ہیں۔
5 جون کو، اروناچل پردیش کے لانگڈنگ ضلع میں عسکریت پسندوں نے ایک گھات لگا کر حملہ کیا۔ جدید ہتھیاروں سے لیس حملہ آور قریبی جنگلات کی آڑ میں کارروائی کرنے کے بعد واپس میانمار کی حدود میں چلے گئے۔

اگلے ہی دن، 6 جون کو بھارتی افواج نے جوابی کارروائی کرتے ہوئے دو عسکریت پسندوں کو ہلاک کیا۔ حکام نے ان کی شناخت نیشنل سوشلسٹ کونسل آف ناگالینڈ (NSCN-K-YA) کے ارکان کے طور پر کی، جو بھارت کے ساتھ کسی بھی جنگ بندی معاہدے کو تسلیم نہیں کرتے۔

مزید برآں، 14 مئی کو منی پور کے چاندیل ضلع میں بھارتی افواج نے دس عسکریت پسندوں کو ہلاک کیا تھا، جب کہ 27 اپریل کو لانگڈنگ میں ایک اور جھڑپ میں تین عسکریت پسند مارے گئے۔ حیرت انگیز طور پر، بھارتی فوج نے اپنے جانی نقصان کی تفصیلات ظاہر نہیں کیں، اور قومی میڈیا اس حوالے سے خاموش ہے، جس پر حکومت کی طرف سے دباؤ کا الزام لگایا جا رہا ہے۔

میڈیا سینسرشپ اور شہری ہلاکتیں
مبصرین کا کہنا ہے کہ نئی دہلی حکومت عالمی سطح پر تنقید سے بچنے کے لیے بارڈر کانفلکٹ کی اصل نوعیت کو چھپاتی ہے۔
میڈیا پر پابندی کی پالیسی کا آغاز مئی 2022 میں ناگالینڈ کے اوٹنگ گاؤں میں ایک بدنام واقعے کے بعد ہوا، جہاں بھارتی فوج نے غلط شناخت کے دعوے پر 13 عام شہریوں کو گولی مار دی۔ اس واقعے کے بعد مشتعل عوام نے فوجی گاڑیوں کو نذر آتش کر دیا اور انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کا الزام عائد کیا۔ نتیجتاً عوامی اعتماد میں شدید کمی واقع ہوئی، اور امن بحالی کی کوششیں متاثر ہوئیں۔

اربوں روپے کا بارڈر منصوبہ کاغذوں تک محدود
ستمبر 2024 میں حکومتِ بھارت نے ₹31,000 کروڑ کا بارڈر سیکیورٹی منصوبہ منظور کیا، جس کا مقصد بارڈر کانفلکٹ سے نمٹنا اور سرحد کو محفوظ بنانا تھا۔ لیکن مقامی مخالفت، پہاڑی علاقوں کی مشکل جغرافیہ، اور میانمار سے عسکری حملوں کی وجہ سے اس منصوبے پر خاطر خواہ عمل درآمد نہیں ہو سکا۔ نتیجتاً، سرحدی علاقوں کی نگرانی اور دفاع کے لیے مطلوبہ انفراسٹرکچر ابھی تک مکمل نہیں ہو پایا۔

ادھر NSCN-K-YA نامی عسکری گروہ سب سے خطرناک فریق کے طور پر ابھر رہا ہے۔ میانمار میں قائم اپنے اڈوں سے یہ گروہ مسلسل منظم ہو رہا ہے اور دوبارہ مسلح ہونے کی اطلاعات ہیں۔ خفیہ ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ گروہ بھارت کی مشرقی سرحدوں کی کمزوریوں کو استعمال کر کے بڑے حملے کرنے کی منصوبہ بندی کر رہا ہے۔

کیا نیا کشمیر بن رہا ہے؟
ماہرین خبردار کرتے ہیں کہ اگر حکومتِ بھارت شفافیت اختیار نہیں کرتی اور مقامی آبادی کو اعتماد میں نہیں لیتی، تو یہ بارڈر کانفلکٹ ایک طویل مدتی شورش کی شکل اختیار کر سکتا ہے، جو کشمیر جیسی صورتحال پیدا کر دے گا۔ گھنے جنگلات، مسلح گروہوں کا حوصلہ، اور کمزور پالیسی نفاذ، بھارت کو ایک خاموش مگر خطرناک جنگ میں دھکیل رہے ہیں — ایسی جنگ جس کے لیے ملک فی الحال تیار نہیں۔

متعلقہ مضامین

پشاور کے ہزارخوانی میں سرکاری اسکول بارش کے بعد پانی میں ڈوب گیا، واقعے نے خیبر پختونخوا میں تعلیمی سہولیات اور حکومتی ترجیحات پر سوال اٹھا دیے۔

September 1, 2026

غزہ میں اسرائیلی جنگی طیاروں کی بمباری اور فائرنگ سے 3 بچوں سمیت 4 فلسطینی شہید ہوگئے۔

September 1, 2026

افغان سفیر سردار احمد شکیب نے پاکستان کے سکیورٹی خدشات کو تسلیم کر لیا، تاہم افغان سرزمین پر فوجی کارروائی کو ناقابلِ قبول قرار دیا۔

September 1, 2026

یکم ستمبر 1965 کا آپریشن گرینڈ سلیم اور پاک فضائیہ کا فضائی حملہ جنگِ ستمبر کا موڑ ثابت ہوا، جس نے بھارتی عسکری قیادت کو بوکھلا کر جنگ عالمی سرحدوں تک پھیلانے پر مجبور کر دیا۔

September 1, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *