فیلڈ مارشل سید عاصم منیر پانچ سال کیلئے چیف آف ڈیفنس فورسز تعینات؛ ائیر چیف مارشل کی مدت ملازمت میں بھی دو سال اضافہ

فیلڈ مارشل سید عاصم منیر پانچ سال کیلئے چیف آف ڈیفنس فورسز تعینات؛ ائیر چیف مارشل کی مدت ملازمت میں بھی دو سال اضافہ

وزیر اعظم نے فضائیہ کے سربراہ ایئر چیف مارشل ظہیر بابر سدھو کی مدت ملازمت بھی دو سال کے اضافی عرصے کے لیے بڑھا دی ہے۔ ان کی موجودہ پانچ سالہ مدت مارچ 2026 میں مکمل ہو رہی تھی اور اب اسے مارچ 2028 تک بڑھایا گیا ہے۔

پیوٹن کا دورۂ بھارت سفارتی تنازعات کا شکار – نئی دہلی پر امریکی دباؤ اور روسی تعاون کے درمیان توازن میں شدید دباؤ

پیوٹن کا دورۂ بھارت سفارتی تنازعات کا شکار - نئی دہلی پر امریکی دباؤ اور روسی تعاون کے درمیان توازن میں شدید دباؤ

بھارت میں روس کے سابق سفیر اور سابق سیکرٹری خارجہ کنول سبل نے بھی اسے کھلا پروپیگنڈا قرار دیا اور بھارتی میڈیا پر سوال اٹھایا کہ پیوٹن کے دورے سے عین قبل روس مخالف بیانات کو غیر معمولی نمایاں کوریج کیوں دی گئی۔

نارووال کے مقامی خطیب قاری عابد الرحمن کی وفات پر بھارتی میڈیا کی جھوٹی مہم بے نقاب

نارووال کے مقامی خطیب قاری عابد الرحمن کی وفات پر بھارتی میڈیا کی جھوٹی مہم بے نقاب

ایچ ٹی این نے تصدیق کی ہے کہ مرحوم کا کسی ممنوعہ یا دہشت گرد تنظیم، بشمول لشکرِ طیبہ، سے کوئی تعلق نہیں تھا، بلکہ وہ ایک معتدل مذہبی سیاسی جماعت مرکزی جمعیت اہلحدیث کے کارکن تھے، جو پاکستان کی ایوانِ بالا سینیٹ میں بھی نمائندگی رکھتی ہے۔

ذبیح اللہ مجاہد کا بیان مسترد؛ پاکستان نے تجارتی راستوں کی بحالی کو سکیورٹی سے مشروط کر دیا

ذبیح اللہ مجاہد کا بیان مسترد؛ پاکستان نے تجارتی راستوں کی بحالی کو سکیورٹی سے مشروط کر دیا

پاکستانی مؤقف میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ تجارت کی بحالی کے لیے افغان حکومت کو ’’اعتماد سازی کے مؤثر اقدامات‘‘ یقینی بنانا ہوں گے تاکہ دونوں ممالک کے عوام اور تاجروں کی حفاظت اور مفادات محفوظ رہیں۔

دو دہائیوں میں 148 ارب ڈالر خرچ کرنے کے باوجود افغانستان میں استحکام نہ آیا، سگار کی رپورٹ

امریکی خصوصی انسپکٹر جنرل برائے افغانستان (SIGAR) کی رپورٹ کے مطابق امریکہ نے دو دہائیوں میں افغانستان میں قیامِ امن اور ترقی کے لیے 148 ارب ڈالر سے زائد خرچ کیے، لیکن بدانتظامی، بدعنوانی اور ناقص نگرانی کے باعث زیادہ تر اقدامات ناکام رہے

سگار کی رپورٹ کے مطابق امریکہ نے دو دہائیوں میں افغانستان میں قیامِ امن اور ترقی کے لیے 148 ارب ڈالر سے زائد خرچ کیے، لیکن بدانتظامی، بدعنوانی اور ناقص نگرانی کے باعث زیادہ تر اقدامات ناکام رہے