گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی کا کہنا ہے کہ صوبے میں گورنر راج کیلئے مشاورت ہوئی ہے، یہ کوئی غیر آئینی اقدام نہیں اور پی ٹی آئی جلد لانگ مارچ ختم کرنے والی ہے۔

September 25, 2026

چمن سیکٹر میں سکیورٹی فورسز نے 60 سے 70 دہشت گردوں کی سرحد پار دراندازی کا حملہ ناکام بناتے ہوئے 40 سے 45 حملہ آوروں کو ہلاک کر دیا۔

September 25, 2026

پاکستان میں دہشت گردی کی کارروائیوں میں ہلاک ہونے والے 260 افغان شہریوں کی مکمل تفصیلات، تصاویر اور شواہد سامنے آ گئے ہیں۔

September 25, 2026

برطانیہ، فرانس اور امریکا میں پرتشدد احتجاج اور سرکاری املاک پر حملوں کے بعد ہزاروں افراد گرفتار ہوئے اور عدالتوں نے سخت سزائیں سنائیں۔

September 25, 2026

حوثی حملوں کے بعد پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ نے مکہ دفاعی معاہدے کے تحت عسکری سربراہان کا ہنگامی اجلاس طلب کر لیا ہے۔

September 25, 2026

شفا انٹرنیشنل ہسپتال میں عمران خان کی ممکنہ منتقلی اور خصوصی تیاریوں سے متعلق مہر بخاری کا دعویٰ غلط اور بے بنیاد ثابت ہو گیا ہے۔

September 25, 2026

پیوٹن کا دورۂ بھارت سفارتی تنازعات کا شکار – نئی دہلی پر امریکی دباؤ اور روسی تعاون کے درمیان توازن میں شدید دباؤ

بھارت میں روس کے سابق سفیر اور سابق سیکرٹری خارجہ کنول سبل نے بھی اسے کھلا پروپیگنڈا قرار دیا اور بھارتی میڈیا پر سوال اٹھایا کہ پیوٹن کے دورے سے عین قبل روس مخالف بیانات کو غیر معمولی نمایاں کوریج کیوں دی گئی۔
پیوٹن کا دورۂ بھارت سفارتی تنازعات کا شکار - نئی دہلی پر امریکی دباؤ اور روسی تعاون کے درمیان توازن میں شدید دباؤ

“یہ دورہ یہ طے کرے گا کہ کیا بھارت واقعی اسٹریٹجک خودمختاری رکھتا ہے یا عالمی دباؤ کے تحت اپنے راستے بدلنے پر مجبور ہو چکا ہے۔”

December 4, 2025

روسی صدر ولادیمیر پیوٹن آج جمعرات کو بھارت کے دو روزہ سرکاری دورے پر نئی دہلی پہنچ رہے ہیں۔ یہ دورہ ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب بھارت امریکا اور روس کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے دوران اپنی خودمختار اسٹریٹجک پوزیشن برقرار رکھنے کی جدوجہد کر رہا ہے۔

دورے کے شیڈول میں وزیرِاعظم مودی کے ہمراہ نجی عشائیہ، حیدرآباد ہاؤس میں اعلیٰ سطحی مذاکرات، اور دفاعی و تجارتی تعاون کے معاملات کا تفصیلی جائزہ شامل ہے۔

تاہم پیوٹن کے دورے سے قبل ٹائمز آف انڈیا میں شائع ہونے والے برطانیہ، فرانس اور جرمنی کے سفیروں کے مشترکہ مضمون نے سفارتی تنازع کھڑا کر دیا۔ مضمون میں یوکرین جنگ کی ذمہ داری مکمل طور پر روس پر عائد کی گئی اور کہا گیا کہ “روس امن کے حوالے سے سنجیدہ نہیں دکھائی دیتا۔”

بھارتی وزارتِ خارجہ نے مضمون پر شدید اعتراض کرتے ہوئے اسے “ناقابلِ قبول اور غیر معمولی سفارتی رویہ” قرار دیا۔ وزارت کے سینئر حکام کے مطابق

“کسی تیسرے ملک کے دوطرفہ تعلقات پر عوامی مشورے دینا بین الاقوامی سفارتی اصولوں کے خلاف ہے۔”

بھارت میں روس کے سابق سفیر اور سابق سیکرٹری خارجہ کنول سبل نے بھی اسے کھلا پروپیگنڈا قرار دیا اور بھارتی میڈیا پر سوال اٹھایا کہ پیوٹن کے دورے سے عین قبل روس مخالف بیانات کو غیر معمولی نمایاں کوریج کیوں دی گئی۔

بھارت کی “اسٹریٹجک خودمختاری” کا اگلا امتحان

یوکرین جنگ کے آغاز کے بعد سے بھارت ایک نئی عالمی صف بندی کے درمیان پھنس چکا ہے۔

  • امریکا کی جانب سے بھارتی برآمدات پر بھاری ٹیرف اور
  • روس سے تیل کی خریداری پر پابندیوں کی سزا کا خطرہ

ان فیصلوں کے بعد بھارت کی روسی تیل پر انحصار میں کمی آئی ہے جبکہ دفاعی شعبہ بھی امریکی دباؤ کی زد میں ہے۔

سفارتی ماہرین کا کہنا ہے کہ:

“اگر بھارت روس سے دور ہٹتا ہے تو اس کے دہائیوں پر محیط دفاعی اتحاد پر سوال کھڑے ہو جائیں گے۔”

اسی دوران روسی پارلیمان نے بھارت کے ساتھ دفاعی لاجسٹک معاہدے — ریسیپروکل ایکسچینج آف لاجسٹک سپورٹ — کی منظوری دے دی ہے، جو پیوٹن کے دورے کی اہمیت اور دونوں ممالک کی اسٹریٹجک وابستگی کا مظہر ہے۔

مودی سرکار ایک مشکل موڑ پر

پیوٹن کا دورہ مودی حکومت کی خارجہ پالیسی کی اصل آزمائش بن چکا ہے۔

  • امریکا روسی تیل، تجارت اور دفاعی تعاون محدود کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے
  • اور روس بھارت کو وفاداری اور طویل المدتی شراکت داری کی یاد دہانی کرا رہا ہے

اگر مودی ایک جانب واشنگٹن کا اعتماد برقرار رکھنے کی کوشش کریں گے تو دوسری جانب ماسکو کو ناراض کرنے کے خطرات موجود ہیں۔

تجزیہ کاروں کے مطابق:

“یہ دورہ یہ طے کرے گا کہ کیا بھارت واقعی اسٹریٹجک خودمختاری رکھتا ہے یا عالمی دباؤ کے تحت اپنے راستے بدلنے پر مجبور ہو چکا ہے۔”

دیکھیں: دو دہائیوں میں 148 ارب ڈالر خرچ کرنے کے باوجود افغانستان میں استحکام نہ آیا، سگار کی رپورٹ

متعلقہ مضامین

گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی کا کہنا ہے کہ صوبے میں گورنر راج کیلئے مشاورت ہوئی ہے، یہ کوئی غیر آئینی اقدام نہیں اور پی ٹی آئی جلد لانگ مارچ ختم کرنے والی ہے۔

September 25, 2026

چمن سیکٹر میں سکیورٹی فورسز نے 60 سے 70 دہشت گردوں کی سرحد پار دراندازی کا حملہ ناکام بناتے ہوئے 40 سے 45 حملہ آوروں کو ہلاک کر دیا۔

September 25, 2026

پاکستان میں دہشت گردی کی کارروائیوں میں ہلاک ہونے والے 260 افغان شہریوں کی مکمل تفصیلات، تصاویر اور شواہد سامنے آ گئے ہیں۔

September 25, 2026

برطانیہ، فرانس اور امریکا میں پرتشدد احتجاج اور سرکاری املاک پر حملوں کے بعد ہزاروں افراد گرفتار ہوئے اور عدالتوں نے سخت سزائیں سنائیں۔

September 25, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *