ذبیح اللہ مجاہد کے دعوے اور زمینی حقائق: سرحدی کشیدگی، سلامتی اور معیشت پر سوالات برقرار

ذبیح اللہ مجاہد کے دعوے اور زمینی حقائق: سرحدی کشیدگی، سلامتی اور معیشت پر سوالات برقرار

سکیورٹی سے متعلق طالبان کے بیانات کو بھی گمراہ کن قرار دیا جا رہا ہے، کیونکہ القاعدہ اور داعش خراسان کی موجودگی اور سرحد پار دہشت گردی نے ہمسایہ ممالک کے لیے خطرات میں اضافہ کیا ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ طالبان کا سکیورٹی ڈھانچہ اب تک نہ تو اندرونی تحفظ یقینی بنا سکا ہے اور نہ ہی علاقائی استحکام میں مثبت کردار ادا کر پایا ہے۔

غیر جانبدار عالمی اداروں کی سندھ طاس معاہدے پر پاکستان کے قانونی مؤقف کی توثیق

غیر جانبدار عالمی اداروں کی سندھ طاس معاہدے پر پاکستان کے قانونی مؤقف کی توثیق

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ انڈس واٹرز ٹریٹی نہ صرف جنوبی ایشیا میں پانی کی تقسیم کا ایک کامیاب ماڈل رہا ہے بلکہ یہ تنازعات کے باوجود تعاون کی ایک مثال بھی ہے۔ تاہم اس معاہدے کو کمزور کرنے کی کسی بھی کوشش کے نتائج پاکستان کی غذائی سلامتی، معاشی استحکام اور پورے خطے کے امن کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتے ہیں۔

دریائے چناب پر بھارتی جارحیت: سندھ طاس معاہدے کو خطرہ، پاکستان کی غذائی سلامتی داؤ پر لگ گئی

دریائے چناب پر بھارتی جارحیت: سندھ طاس معاہدے کو خطرہ، پاکستان کی غذائی سلامتی داؤ پر لگ گئی

ماہرین کا کہنا ہے کہ موسمیاتی تبدیلی کے اس دور میں پانی کی پیش گوئی، ڈیٹا شیئرنگ اور معاہدوں کی پاسداری پہلے سے کہیں زیادہ ضروری ہو چکی ہے۔ انڈس واٹرز ٹریٹی خطے میں کشیدگی کم کرنے اور زیریں آبادیوں کے تحفظ کا ایک موثر ذریعہ رہا ہے، مگر حالیہ اقدامات نے اسے ایک ’’لائف لائن‘‘ سے ’’دباؤ کے آلے‘‘ میں بدلنے کا خدشہ پیدا کر دیا ہے۔

طالبان کی جانب سے فارسی اور ازبکی زبان کے اخراج کا سلسلہ جاری، سمنگان یونیورسٹی کا نام بھی تبدیل کر دیا گیا

طالبان کی جانب سے فارسی اور ازبکی زبان کے اخراج کا سلسلہ جاری، سمنگان یونیورسٹی کا نام بھی تبدیل کر دیا گیا

طالبان کے اقتدار میں آنے کے بعد، مبصرین کا کہنا ہے کہ گروہ نے زبان اور ثقافت سے متعلق پالیسیوں میں واضح تبدیلیاں کی ہیں۔ طالبان انتظامیہ نے اپنی حکمرانی کے دوران فارسی اور اوزبیکی زبانوں کے استعمال کو محدود کرنے کو اپنی ترجیحات میں شامل کیا ہے، جس پر مختلف حلقوں کی جانب سے تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے۔

تین ملکوں کی چار عورتیں، ایک کہانی

تین ملکوں کی چار عورتیں، ایک کہانی

ان تین ملکوں کی یہ چار عورتیں دراصل ایک ہی بے وزن کہانی کے کردار ہیں۔ طاقت کی، قربانی کی، وراثت کی اور اس خطے کی سیاست کی جہاں عورت کو اقتدار تو مل سکتا ہے، مگر سکون اور قبولیت اب بھی ایک خواب ہے۔