گرین لینڈ پر قبضہ امریکہ کا حق، کینیڈا ہماری وجہ سے سلامت ہے، ہمارے نیٹو پر بے حد احسانات ہیں؛ ٹرمپ کا ڈیووس میں عالمی اقتصادی فورم سے خطاب

گرین لینڈ پر قبضہ امریکہ کا حق، کینیڈا ہماری وجہ سے سلامت ہے، ہمارے نیٹو پر بے حد احسانات ہیں؛ ٹرمپ کا ڈیووس میں عالمی اقتصادی فورم سے خطاب

عالمی اقتصادی فورم ڈیووس میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے خطاب نے عالمی سیاست میں ہلچل مچا دی، جہاں انہوں نے گرین لینڈ کے حصول کو امریکی قومی سلامتی سے جوڑتے ہوئے فوری مذاکرات کا مطالبہ کیا، نیٹو کے کردار پر سوال اٹھائے اور یورپی اتحادیوں کے ساتھ تعلقات میں کشیدگی کے واضح اشارے دیے۔

پاکستان نےغزہ میں پائیدار امن کےلیے ’بورڈ آف پیس‘ میں شمولیت کی امریکی دعوت قبول کرلی

پاکستان نےغزہ میں پائیدار امن کےلیے ’بورڈ آف پیس‘ میں شمولیت کی امریکی دعوت قبول کرلی

دفتر خارجہ کے ترجمان نے مزید کہا کہ پاکستان فلسطینی عوام کے دکھ درد کے خاتمے اور خطے میں امن و استحکام کے لیے اپنا تعمیری کردار ادا کرتا رہے گا، اور ’’بورڈ آف پیس‘‘ کے پلیٹ فارم سے امن کے قیام کے لیے عملی پیش رفت کی امید ہے۔

ٹرمپ کا ’بورڈ آف پیس‘: اسرائیل اور آذربائیجان شامل، سویڈن نے حصہ بننے سے انکارکر دیا

ٹرمپ کا ’بورڈ آف پیس‘: اسرائیل اور آذربائیجان شامل، سویڈن نے حصہ بننے سے انکارکر دیا

اسی دوران صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس میں اپنی دوسری مدت کے پہلے سال کی تکمیل کے موقع پر عندیہ دیا ہے کہ “بورڈ آف پیس” مستقبل میں اقوامِ متحدہ کی جگہ بھی لے سکتا ہے۔ صحافیوں کے سوال پر ٹرمپ نے کہا کہ اقوامِ متحدہ میں صلاحیت تو ہے مگر وہ “زیادہ مددگار ثابت نہیں ہوئی”، اور یہ کہ ان کا مجوزہ بورڈ “شاید” ایک دن اس کی جگہ لے سکے۔

طالبان حکومت نے بجٹ کا 88 فیصد غیر ترقیاتی کاموں پر خرچ کر دیا

افغان طالبان حکومت نے بجٹ کا 88 فیصد حصہ غیر ترقیاتی کاموں پر خرچ کر دیا، جس میں فوجی، سکیورٹی اور انتظامی اخراجات شامل ہیں۔ اقوام متحدہ کے مطابق ترقیاتی بجٹ گزشتہ برسوں کے مقابلے میں 82 فیصد کم ہو کر صرف 24 ارب افغانی رہ گیا

افغان طالبان حکومت نے بجٹ کا 88 فیصد حصہ غیر ترقیاتی کاموں پر خرچ کر دیا، جس میں فوجی، سکیورٹی اور انتظامی اخراجات شامل ہیں۔ اقوام متحدہ کے مطابق ترقیاتی بجٹ گزشتہ برسوں کے مقابلے میں 82 فیصد کم ہو کر صرف 24 ارب افغانی رہ گیا

ایران کے گرد گھیرا تنگ: عالمی طاقتیں، پراکسی جنگیں اور مسلم دنیا کا کردار

ایران کے گرد گھیرا تنگ: عالمی طاقتیں، پراکسی جنگیں اور مسلم دنیا کا کردار

آج مشرقِ وسطیٰ کا مستقبل صرف واشنگٹن یا تل ابیب میں نہیں بلکہ اسلام آباد، انقرہ اور تہران جیسے دارالحکومتوں میں بھی طے ہو رہا ہے۔ سعودی عرب اور بیشتر خلیجی ممالک کا (سوائے یو اے ای) امریکی اڈوں سے فاصلہ رکھنا ایک بڑی سفارتی تبدیلی ہے۔ اگر مسلم دنیا اسرائیل کے اس غیر مرئی محاصرے کو بروقت نہ سمجھ سکی تو خطے کا امن طویل عرصے کے لیے خاکستر ہو سکتا ہے۔