طلال چوہدری کا کہنا ہے کہ معاہدہ طے تھا مگر اپوزیشن ٹیم کو کے پی سے ڈکٹیٹ کیا گیا، کے پی حکومت کے عدم تعاون پر مذاکرات ناکام ہوئے۔

October 4, 2026

اسلام آباد میں اسپیکر سردار ایاز صادق کی میزبانی میں حکومت اور اپوزیشن کے درمیان مذاکرات کامیاب ہو گئے ہیں اور مشترکہ اعلامیہ تیار کر لیا گیا ہے۔

October 3, 2026

ہٹیاں بالا میں کالعدم جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے 8 اہم ارکان نے پریس کانفرنس کے دوران تنظیم سے مستقل لاتعلقی کا باضابطہ اعلان کر دیا ہے۔

October 3, 2026

بلیدہ میں نجی اسکول پر حملے، توڑ پھوڑ اور فائرنگ کے خلاف مقامی آبادی نے شدید احتجاج کیا، فورسز کی آمد پر حملہ آور فرار ہو گئے۔

October 3, 2026

وزیراعظم کے کوآرڈی نیٹر اختیار ولی کا دعویٰ ہے کہ پی ٹی آئی اور ٹی ٹی پی ایک ہی سکے کے دو رخ ہیں اور صوبائی حکومت عوام کے بجائے خارجیوں کی نمائندگی کر رہی ہے۔

October 3, 2026

کے پی میں دہشتگردی اور منشیات کے مبینہ گٹھ جوڑ نے امن تباہ کر دیا۔ ایک دہائی سے اقتدار پر قابض پی ٹی آئی پولیس فورس کو جدید آلات دینے اور صوبے کو تحفظ فراہم کرنے میں بری طرح ناکام دکھائی دیتی ہے۔

October 3, 2026

گرین لینڈ پر قبضہ امریکہ کا حق، کینیڈا ہماری وجہ سے سلامت ہے، ہمارے نیٹو پر بے حد احسانات ہیں؛ ٹرمپ کا ڈیووس میں عالمی اقتصادی فورم سے خطاب

عالمی اقتصادی فورم ڈیووس میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے خطاب نے عالمی سیاست میں ہلچل مچا دی، جہاں انہوں نے گرین لینڈ کے حصول کو امریکی قومی سلامتی سے جوڑتے ہوئے فوری مذاکرات کا مطالبہ کیا، نیٹو کے کردار پر سوال اٹھائے اور یورپی اتحادیوں کے ساتھ تعلقات میں کشیدگی کے واضح اشارے دیے۔
گرین لینڈ پر قبضہ امریکہ کا حق، کینیڈا ہماری وجہ سے سلامت ہے، ہمارے نیٹو پر بے حد احسانات ہیں؛ ٹرمپ کا ڈیووس میں عالمی اقتصادی فورم سے خطاب

ڈیووس میں عالمی اقتصادی فورم سے خطاب کرتے ہوئے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے گرین لینڈ کو امریکی قومی سلامتی کے لیے ناگزیر قرار دیا، فوری مذاکرات کا مطالبہ کیا، نیٹو اور یورپی اتحادیوں پر سخت تنقید کی اور طاقت کے استعمال سے بظاہر انکار کیا۔

January 21, 2026

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے 21 جنوری 2026 کو سوئٹزرلینڈ کے شہر ڈیووس میں عالمی اقتصادی فورم سے خطاب کیا، جہاں ان کے خطاب کا سب سے نمایاں اور متنازع پہلو گرین لینڈ کو امریکہ کے زیرِ کنٹرول لانے کا مطالبہ رہا۔

صدر ٹرمپ کے یہ بیانات یورپی اتحادیوں اور نیٹو ممالک کے ساتھ جاری کشیدگی کے تناظر میں غیر معمولی اہمیت اختیار کر گئے ہیں۔

گرین لینڈ: امریکی قومی سلامتی کا مرکزی مفاد

صدر ٹرمپ نے اپنے خطاب میں گرین لینڈ کو امریکہ کا کور نیشنل سیکیورٹی انٹرسٹ قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ خطہ امریکہ، روس اور چین کے درمیان ایک انتہائی حساس اور اسٹریٹجک مقام پر واقع ہے اور اس وقت مؤثر طور پر غیر محفوظ ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ کوئی بھی ملک یا ممالک کا کوئی اتحاد، امریکہ کے سوا گرین لینڈ کو محفوظ بنانے کی پوزیشن میں نہیں۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ ڈنمارک گرین لینڈ کے دفاع کی صلاحیت نہیں رکھتا۔

فوری مذاکرات کا مطالبہ، طاقت کے استعمال سے انکار

صدر ٹرمپ نے واضح کیا کہ امریکہ گرین لینڈ کے حصول کے لیے فوری مذاکرات چاہتا ہے۔
تاہم انہوں نے یہ بھی کہا کہ وہ طاقت کا استعمال نہیں کرنا چاہتے۔

انہوں نے کہا کہ اگر ہم طاقت استعمال کریں تو ہم ناقابلِ شکست ہوں گے، لیکن میں ایسا نہیں کرنا چاہتا، مجھے اس کی ضرورت نہیں۔

اس کے باوجود انہوں نے یہ جملہ بھی کہا کہ وہ ہاں کہہ سکتے ہیں تو ہم شکر گزار ہوں گے، یا نہ کہہ سکتے ہیں اور ہم یاد رکھیں گے۔

دوسری جنگِ عظیم کا حوالہ، ڈنمارک کو ناشکرا قرار دیا

صدر ٹرمپ نے دوسری جنگِ عظیم کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ امریکہ نے اس وقت گرین لینڈ کا دفاع کیا تھا لیکن بعد میں حماقت کرتے ہوئے اسے واپس ڈنمارک کے حوالے کر دیا۔

انہوں نے کہا کہ ہم نے گرین لینڈ بچایا، اور جنگ کے بعد اسے واپس دے دیا، یہ کتنی بڑی حماقت تھی۔ اور آج وہ ناشکرا بنے بیٹھے ہیں۔

انہوں نے مذاقاً کہا کہ اگر امریکہ جنگ میں شامل نہ ہوتا تو آج شاید دنیا جرمن یا جاپانی زبان بول رہی ہوتی۔

نیٹو پر سخت تنقید: ہم نے نیٹو کو 100 فیصد ادا کیا

صدر ٹرمپ نے نیٹو پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں نیٹو سے کچھ نہیں ملا، سوائے یورپ کو سوویت یونین اور روس سے بچانے کے۔ ہم نے نیٹو کے لیے 100 فیصد ادائیگی کی۔

انہوں نے کہا کہ امریکہ ہمیشہ نیٹو کے لیے 100 فیصد کھڑا رہا، لیکن انہیں یقین نہیں کہ نیٹو امریکہ کے لیے ایسا کرے گا۔

گرین لینڈ کی ملکیت کیوں ضروری؟ ٹرمپ کی منطق

صدر ٹرمپ نے کہا کہ گرین لینڈ کو صرف لائسنس یا معاہدے کے تحت دفاع نہیں کیا جا سکتا۔

ان کے مطابق قانونی طور پر بغیر ملکیت دفاع مکمل نہیں ہو سکتا، اور نفسیاتی طور پر کوئی بھی محض ایک لائسنس یافتہ برفانی خطے کا دفاع نہیں کرنا چاہتا۔

انہوں نے کہا کہ امریکہ وہاں گولڈن ڈوم دفاعی نظام تعمیر کرے گا جو نہ صرف گرین لینڈ بلکہ کینیڈا کے دفاع میں بھی مددگار ہوگا۔

کینیڈا اور یورپ پر سخت لہجہ

صدر ٹرمپ نے کینیڈا سے متعلق سخت بیان دیتے ہوئے کہا کہ کینیڈا امریکہ کی وجہ سے زندہ ہے، یہ بات یاد رکھنا چاہیے۔

انہوں نے یورپی قیادت پر بھی تنقید کی اور کہا کہ یورپ درست سمت میں نہیں جا رہا، جس کی وجوہات میں مہاجرین، توانائی پالیسی اور بڑھتا ہوا حکومتی خرچ شامل ہیں۔

عالمی فوجی کارروائیوں کا ذکر

صدر ٹرمپ نے اپنی سابقہ فوجی کارروائیوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ایران کے جوہری خطرے کا خاتمہ کیا گیا، وینزویلا میں مداخلت کی گئی، قاسم سلیمانی کو ہدف بنایا گیا اور داعش سربراہ البغدادی کو ختم کیا گیا۔

انہوں نے کہا کہ یہ تمام کارروائیاں بالکل درست طریقے سے انجام دی گئیں۔

یوکرین جنگ اور زیلنسکی سے ملاقات

صدر ٹرمپ نے اعلان کیا کہ وہ یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی سے ڈیووس میں ملاقات کریں گے۔
ان کا کہنا تھا کہ وہ روسی صدر ولادیمیر پیوٹن سے بھی رابطے میں ہیں اور سمجھتے ہیں کہ دونوں فریق جنگ ختم کرنا چاہتے ہیں۔

انہوں نے یوکرین جنگ کا ذمہ دار 2020 کے امریکی انتخابات کو قرار دیتے ہوئے کہا کہ اگر وہ انتخابات ریگڈ نہ ہوتے تو یہ جنگ کبھی شروع نہ ہوتی۔

گرین لینڈ میں تشویش، ہنگامی اقدامات

گرین لینڈ میں ٹرمپ کے بیانات پر شدید تشویش پائی جا رہی ہے۔
گرین لینڈ کی حکومت کے دو وزراء نے ہنگامی سول رسپانس اقدامات کا اعلان کیا ہے، جن میں خوراک ذخیرہ کرنے جیسے اقدامات شامل ہیں۔

عوامی سطح پر امریکی فوجی مداخلت کے خدشات پر بے چینی پائی جاتی ہے۔

امریکہ-یورپ تعلقات میں بڑی تبدیلی کا خدشہ

تجزیہ کاروں کے مطابق ٹرمپ کا گرین لینڈ مؤقف امریکہ اور یورپ کے تعلقات میں ایک بڑی جغرافیائی و سیاسی تبدیلی لا سکتا ہے۔
یورپی یونین ہنگامی اجلاس بلانے پر غور کر رہی ہے اور سخت تجارتی اقدامات، حتیٰ کہ انتہائی سخت تجارتی تدابیر استعمال کرنے کے امکانات بھی زیرِ بحث ہیں۔

اختتامی کلمات

صدر ٹرمپ نے خطاب کے اختتام پر کہا کہ امریکہ واپس آ چکا ہے۔ پہلے سے زیادہ مضبوط، بڑا اور بہتر۔

انہوں نے کہا کہ مضبوط امریکہ ہی مضبوط نیٹو کی ضمانت ہے کیونکہ قومی سلامتی، معاشی سلامتی کے بغیر ممکن نہیں۔

دیکھیں: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وزیراعظم کو غزہ امن بورڈ میں شمولیت کی دعوت دے دی

متعلقہ مضامین

طلال چوہدری کا کہنا ہے کہ معاہدہ طے تھا مگر اپوزیشن ٹیم کو کے پی سے ڈکٹیٹ کیا گیا، کے پی حکومت کے عدم تعاون پر مذاکرات ناکام ہوئے۔

October 4, 2026

اسلام آباد میں اسپیکر سردار ایاز صادق کی میزبانی میں حکومت اور اپوزیشن کے درمیان مذاکرات کامیاب ہو گئے ہیں اور مشترکہ اعلامیہ تیار کر لیا گیا ہے۔

October 3, 2026

ہٹیاں بالا میں کالعدم جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے 8 اہم ارکان نے پریس کانفرنس کے دوران تنظیم سے مستقل لاتعلقی کا باضابطہ اعلان کر دیا ہے۔

October 3, 2026

بلیدہ میں نجی اسکول پر حملے، توڑ پھوڑ اور فائرنگ کے خلاف مقامی آبادی نے شدید احتجاج کیا، فورسز کی آمد پر حملہ آور فرار ہو گئے۔

October 3, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *