بھارت افغانستان کی سرزمین استعمال کر کے پاکستان کے خلاف پراکسی وار کر رہا ہے: خواجہ آصف

خواجہ آصف کا بیان

وزیر دفاع کا کہنا تھا کہ موجودہ حالات کا تقاضا ہے کہ ذاتی اور سیاسی مفادات کو پسِ پشت ڈال کر قومی سلامتی اور مفادات کو سب سے زیادہ ترجیح دی جائے۔ کسی بھی اندرونی یا بیرونی سازش کا مقابلہ کرنے کے لیے قوم اور اداروں کا ایک پیج پر ہونا انتہائی ناگزیر ہے۔

طالبان ٹی ٹی پی گٹھ جوڑ: افغان معیشت اور سکیورٹی بحران

طالبان حکومت 2021 سے ایک ذمہ دار ریاستی کردار ادا کرنے میں ناکام رہی ہے، جہاں تحریکِ طالبان پاکستان جیسے گروہوں کو تحفظ فراہم کرنے کی نظریاتی ہٹ دھرمی نے افغان عوام کو شدید معاشی تباہی اور عالمی تنہائی کا شکار کر دیا ہے۔

طالبان حکومت 2021 سے ایک ذمہ دار ریاستی کردار ادا کرنے میں ناکام رہی ہے، جہاں تحریکِ طالبان پاکستان جیسے گروہوں کو تحفظ فراہم کرنے کی نظریاتی ہٹ دھرمی نے افغان عوام کو شدید معاشی تباہی اور عالمی تنہائی کا شکار کر دیا ہے۔

آزادیٔ صحافت اور صحافیوں کی قربانیاں

آزادی صحافت

موجودہ دور میں جہاں معلومات کی ترسیل پہلے سے کہیں زیادہ تیز ہو چکی ہے وہیں جھوٹی خبروں، منفی پروپیگنڈے اور مصنوعی ذہانت کے غلط استعمال جیسے چیلنجز بھی شدت اختیار کر چکے ہیں۔ ایسے میں صحافیوں پر ذمہ داری مزید بڑھ جاتی ہے کہ وہ تحقیق، تصدیق اور غیر جانبداری کو اپنا شعار بنائیں۔

صحافت کا عالمی دن: آزادی صحافت کے شور میں صحافیوں کے لیے موجود خطرات کا تدارک ضروری ہے

صحافت کا عالمی دن

عالمی یومِ آزادیٔ صحافت ہمیں یہ سوچنے، سمجھنے پر بھی مجبور کرتا ہے کہ آزادی اور ذمہ داری ایک دوسرے سے جدا نہیں۔ اگر آزادی کو ذمہ داری کے بغیر استعمال کیا جائے تو یہ انتشار کا سبب بن سکتی ہے جبکہ ذمہ داری کے ساتھ جڑی آزادی معاشرے میں توازن، شعور اور انصاف کو فروغ دیتی ہے۔

لاپتہ افراد کے نام پر ریاست مخالف پروپیگنڈا: حقائق، اعداد و شمار اور سازشوں کا پردہ چاک

لاپتہ افراد کا پروپیگنڈا

مارچ 2011 سے اگست 2025 تک لاپتہ افراد کے تقریباً 10,618 کیسز رپورٹ ہوئے، جن میں سے ریاست 8,800 سے زائد کیسز کو نمٹا چکی ہے اور 6,800 سے زائد افراد کو ٹریس بھی کیا جا چکا ہے۔ اس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ ریاستی ادارے اس پیچیدہ مسئلے کو حل کرنے کے لیے مسلسل کوشاں ہیں

ون کانسٹی ٹیوشن ایونیو اسکینڈل: اشرافیہ کے بے جا دفاع اور ابصار عالم کی متنازع صحافت پر سنگین سوالات

ابصار عالم کا گرینڈ حیات کیس پر موقف

ان کا یہ دعویٰ کہ عمارت میں 48 سفارت کار رہ رہے تھے اور یورپی ممالک کی جانب سے کوئی ڈیمارش جاری کیا گیا، مکمل طور پر بے بنیاد ہے۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق وہاں صرف 9 سفارت کار مقیم تھے۔

ملا ہیبت اللہ حد سے گزر گئے؛ “اپنے احکامات کی اطاعت کو اللہ اور رسولﷺ کی اطاعت کے مانند قرار دے دیا

ملا ہیبت اللہ

انہوں نے واضح کیا کہ ان کے احکامات کی نافرمانی اللہ اور اس کے رسولﷺ کی نافرمانی کے برابر جرم ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ آئندہ کسی بھی قسم کی نافرمانی برداشت نہیں کی جائے گی اور خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف سخت ترین تادیبی کارروائی کی جائے گی۔