ملا ہیبت اللہ حد سے گزر گئے؛ “اپنے احکامات کی اطاعت کو اللہ اور رسولﷺ کی اطاعت کی مانند قرار دے دیا

ملا ہیبت اللہ

انہوں نے واضح کیا کہ ان کے احکامات کی نافرمانی اللہ اور اس کے رسولﷺ کی نافرمانی کے برابر جرم ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ آئندہ کسی بھی قسم کی نافرمانی برداشت نہیں کی جائے گی اور خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف سخت ترین تادیبی کارروائی کی جائے گی۔

شاہراہ دستور کی بڑی جعلسازی: اشرافیہ کی اجارہ داری اور ریاست کا فیصلہ کن اقدام

گرینڈ حیات کیس

نگران ادارے کے مطابق، تعمیر کار پر چودہ ارب روپے سے زائد کا نادہندہ ہونے کا الزام ہے اور وہ اب تک ان واجبات کی ادائیگی میں ناکام رہا ہے۔ اس عمارت میں ملک کے طاقتور ترین افراد اور بااثر شخصیات رہائش پذیر ہیں۔

شاہراہ دستور کا اسکینڈل: اشرافیہ کے ناجائز قبضے کا خاتمہ اور ریاستِ پاکستان کی فیصلہ کن کارروائی

گرینڈ حیات ہوٹل کیس

شاہراہ دستور کا یہ اسکینڈل پاکستان میں قانون کی بالادستی اور اشرافیہ کے قبضے کے خلاف ایک فیصلہ کن موڑ ہے۔ ریاست کی رٹ ہر صورت قائم کی جانی چاہیے۔ اگر ایک عام شہری کے لیے قانون سخت ہے، تو اشرافیہ بھی اس سے بالاتر نہیں ہو سکتی۔

ٹرائیکا کے درمیان جنگ کے حیران کن اسٹریٹجک پہلو – پارٹ ٹو

ٹرائیکا جنگ

اس جنگ میں عالم اسلام کے لیے جو سب سے بڑی خوشخبری ہے ۔ وہ یہ ہے کہ تل ابیب پہلے ہم سے ساڑھے چار ہزار کلومیٹر کے فاصلے پر تھا۔ الحرمین الشریفین کے تحفظ کے لیے جانے والے لشکر کے بعد اب یہ فاصلہ چند سو کلومیٹر تک رہ گیا ہے ۔ اسرائیل اب عرب دنیا کے خلاف کوئی بھی جارحیت کا ارتکاب کرنے سے قبل سو دفعہ سوچے گا ۔

طالبان کا عوامی حمایت اور حقوق نسواں سے انکار، افغانستان میں سنگین حکومتی و انسانی بحران

افغانستان میں کواتین پر پابندیاں

طالبان قیادت اپنی پالیسیوں کے لیے عوامی تائید کی ضرورت کو تسلیم ہی نہیں کرتی۔ انکشاف کیا گیا ہے کہ رجیم نے لڑکیوں کی تعلیم اور خواتین کے حقوق پر سوال اٹھانے والے اپنے ہی رہنماؤں کو فوری طور پر عہدوں سے ہٹا دیا

طالبان کے سیکیورٹی اور معاشی دعوے مسترد، افغانستان میں غربت اور بیرونی انحصار میں ہوشربا اضافہ

افغانستان میں غربت

سال 2025 کے دوران پاکستان کے اندر ہونے والے چھ سو سے زائد حملوں کی منصوبہ بندی افغان سرزمین پر کی گئی۔ ان حملوں کے نتیجے میں پیدا ہونے والی صورتحال اور سرحدی بندشوں سے افغان معیشت کو روزانہ دس لاکھ ڈالر کا نقصان اٹھانا پڑ رہا ہے

طالبان کی پالیسیوں کی تہری ناکامی؛ نظریاتی جبر، ٹی ٹی پی کی پشت پناہی اور معاشی استحکام کا فقدان، عوام کسمپرسی کا شکار

طالبان قیادت کا بحران

افغانستان میں آبادی کی شرح نمو 8.6 فیصد تک پہنچ چکی ہے، جس کی بڑی وجہ بیس لاکھ سے زائد افغان پناہ گزینوں کی وطن واپسی ہے۔ آبادی میں اس تیز رفتار اضافے اور معاشی پیداوار کے تضاد کے سبب فی کس آمدنی میں 4.0 فیصد کی کمی واقع ہونے کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔