بھارتی پنجاب اسمبلی نے کرتارپور راہداری دوبارہ کھولنے کے مطالبے پر متفقہ قرارداد منظور کر لی ہے۔ قرارداد میں مرکزی حکومت سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ پاکستان میں واقع سکھوں کے مقدس مقام گوردوارہ دربار صاحب کرتارپور تک یاتریوں کی رسائی فوری بحال کی جائے۔
بھارتی پنجاب کے وزیر تعلیم ہرجوت سنگھ بینس نے اجلاس میں قرارداد پیش کی، جس میں مرکزی حکومت پر زور دیا گیا کہ وہ راہداری کو دوبارہ کھولنے کے لیے فوری اقدامات کرے اور سکھ یاتریوں کی آمدورفت بلا تعطل یقینی بنائے۔
قرارداد میں پاکستان کے ساتھ سفارتی روابط کے ذریعے معاملات حل کرنے اور زائرین کے لیے سفری ضوابط آسان بنانے پر بھی زور دیا گیا ہے۔ اس میں کہا گیا ہے کہ کرتارپور راہداری مذہبی ہم آہنگی، مشترکہ ورثے اور سکھ برادری کے مذہبی جذبات کی علامت ہے۔
بھارتی پنجاب کے وزیر اعلیٰ بھگونت مان نے بھی قرارداد کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ مذہبی عقیدت کو سیاسی اختلافات سے بالاتر رکھا جانا چاہیے۔ ان کے مطابق سکھ برادری کی مذہبی خواہشات کا احترام کیا جانا ضروری ہے اور انہیں اپنے مقدس مقام پر حاضری کا موقع ملنا چاہیے۔
واضح رہے کہ بھارت نے پہلگام حملے اور آپریشن سندور کے بعد 7 مئی 2025 کو کرتارپور راہداری کے ذریعے یاتریوں کی آمدورفت معطل کر دی تھی۔ اس کے بعد سے سکھ برادری کی جانب سے راہداری دوبارہ کھولنے کے مطالبات سامنے آتے رہے ہیں۔
بھارتی مرکزی حکومت نے پارلیمان میں اپنے مؤقف میں راہداری کی بندش کی وجہ موجودہ سکیورٹی صورت حال کو قرار دیا تھا۔ تاہم اب بھارتی پنجاب اسمبلی کی متفقہ قرارداد نے راہداری کی بحالی کا مطالبہ ایک بار پھر نمایاں کر دیا ہے۔
کرتارپور راہداری نومبر 2019 میں کھولی گئی تھی، جو بھارتی پنجاب کے علاقے ڈیرہ بابا نانک کو پاکستان کے ضلع نارووال میں واقع گوردوارہ دربار صاحب سے ملاتی ہے۔ یہ مقام سکھ مذہب کے بانی بابا گرو نانک دیو جی سے منسوب ہے اور سکھ برادری کے لیے غیر معمولی مذہبی اہمیت رکھتا ہے۔





