ان کا یہ دعویٰ کہ عمارت میں 48 سفارت کار رہ رہے تھے اور یورپی ممالک کی جانب سے کوئی ڈیمارش جاری کیا گیا، مکمل طور پر بے بنیاد ہے۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق وہاں صرف 9 سفارت کار مقیم تھے۔

May 3, 2026

انہوں نے واضح کیا کہ ان کے احکامات کی نافرمانی اللہ اور اس کے رسولﷺ کی نافرمانی کے برابر جرم ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ آئندہ کسی بھی قسم کی نافرمانی برداشت نہیں کی جائے گی اور خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف سخت ترین تادیبی کارروائی کی جائے گی۔

May 3, 2026

نگران ادارے کے مطابق، تعمیر کار پر چودہ ارب روپے سے زائد کا نادہندہ ہونے کا الزام ہے اور وہ اب تک ان واجبات کی ادائیگی میں ناکام رہا ہے۔ اس عمارت میں ملک کے طاقتور ترین افراد اور بااثر شخصیات رہائش پذیر ہیں۔

May 3, 2026

شاہراہ دستور کا یہ اسکینڈل پاکستان میں قانون کی بالادستی اور اشرافیہ کے قبضے کے خلاف ایک فیصلہ کن موڑ ہے۔ ریاست کی رٹ ہر صورت قائم کی جانی چاہیے۔ اگر ایک عام شہری کے لیے قانون سخت ہے، تو اشرافیہ بھی اس سے بالاتر نہیں ہو سکتی۔

May 3, 2026

انہوں نے زور دیا کہ ٹی ٹی پی کی کارروائیاں صرف پاکستان کے لیے ہی خطرہ نہیں ہیں بلکہ پورا خطہ، بشمول ایران، وسطی ایشیا اور چین، اس کی زد میں آ سکتا ہے۔

May 3, 2026

اس جنگ میں عالم اسلام کے لیے جو سب سے بڑی خوشخبری ہے ۔ وہ یہ ہے کہ تل ابیب پہلے ہم سے ساڑھے چار ہزار کلومیٹر کے فاصلے پر تھا۔ الحرمین الشریفین کے تحفظ کے لیے جانے والے لشکر کے بعد اب یہ فاصلہ چند سو کلومیٹر تک رہ گیا ہے ۔ اسرائیل اب عرب دنیا کے خلاف کوئی بھی جارحیت کا ارتکاب کرنے سے قبل سو دفعہ سوچے گا ۔

May 3, 2026

بھارت نے ایران سے راستے جدا کرلیئے

حالیہ جنگی صورتحال میں بھارت کی ایران دشمنی کھل کر سامنے آگئی ہے۔ بھارت کے حالیہ طرزِعمل نے اس کے اصل اہداف کو ظاہر کردیا ہے۔
حالیہ جنگی صورتحال میں بھارت کی ایران دشمنی کھل کر سامنے آگئی ہے۔

بھارت کے حالیہ طرزِعمل نے اس کے اصل اہداف کو ظاہر کردیا ہے

June 18, 2025


بھارت جو خود کو ایران کا اہم اتحادی ظاہر کرتا رہا ہے، حالیہ جنگی صورتحال میں بھارت کی ایران دشمنی کھل کر سامنے آگئی ہے۔ بھارت کے حالیہ طرزِعمل نے اس کے اصل اہداف کو ظاہر کردیا ہے۔ بھارت کا ایران کی طرف جھکاؤ کھبی بھی کسی اصول یا سچے اتحاد پر مبنی نہیں رہا۔

بھارت کی خارجہ پالیسی


بھارت کی خارجہ پالیسی میں ہمیشہ سے یہ خامی رہی ہیکہ وہ طویل المدتی دوستانہ تعلق قائم رکھنے کی صلاحیت نہیں رکھتا۔یہ طرزِعمل اس کی سفارتی ناکامی کا باعث بن رہاہے۔ مزید یہ کہ نہ صرف ایران کیلیئے اپنے دروازے بند کیے بلکہ مختلف رپورٹس کے مطابق خفیہ ایجنسی را نے اسرائیلی خفیہ ایجنسی موساد کے ساتھ مل کر ایران کے خلاف مدد فراہم کی ہے۔


یہ خبریں اس بات کی تصدیق کرتی ہیں کہ اسکا ایران کے ساتھ اتحاد کھبی بھی مبنی براصول نہیں رہا بلکہ یہ صرف اپنے اتحادی ایران کو پاکستان کے خلاف استعمال کرنے کی ایک حکمتِ عملی تھی۔ ماضی میں بھی اس قسم کے افعال کرتا آیا ہے جن میں افغانستان کو پاکستان کے خلاف ابھارنا اور استعمال کرنا شامل ہیں۔ اس قسم کے ہتھکنڈوں سے خطے میں پاکستان کے اثر و رسوخ کو کمزور کرنے کی سازش کی جا رہی ہے۔ بھارت کو یہ گمان ہے کہ وہ اس قسم کے ہتھکنڈوں سے خطے میں اپنے اثر و رسوخ اور سفارت کاری کو مضبوط کرلے گا۔


خطے میں دیگر ممالک بالخصوص افغانستان کے لیے ایک پُراثر پیغام ہیکہ ہندوستان کو ایک قابلِ اعتماد اتحادی نہیں سمجھا جاسکتا۔ بھارت کے یہ ہتھکنڈے نہ صرف علاقائی تعلقات کو متاثر کرتے ہیں بلکہ بین الممالک امن کی فضا کو بھی خراب کرتے ہیں۔

وقتی تعلق


موجودہ صورتحال نے یہ ظاہر کردیا ہیکہ بھارت کا ایران کے ساتھ تعلق محض وقتی مفاد پر مبنی تھا۔ تمام تر صورتحال نے خطے میں سفارتی تعلقات کو بے حد متاثر کیا اور مستقبل مین بین الممالک تعلقات پر اسکے گہرے اثرات مرتب ہونگے۔

دیکھیئے: صدر ٹرمپ کی ایران اسرائیل کشیدگی کے باعث جی سیون اجلاس سے فوری واپسی

متعلقہ مضامین

ان کا یہ دعویٰ کہ عمارت میں 48 سفارت کار رہ رہے تھے اور یورپی ممالک کی جانب سے کوئی ڈیمارش جاری کیا گیا، مکمل طور پر بے بنیاد ہے۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق وہاں صرف 9 سفارت کار مقیم تھے۔

May 3, 2026

انہوں نے واضح کیا کہ ان کے احکامات کی نافرمانی اللہ اور اس کے رسولﷺ کی نافرمانی کے برابر جرم ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ آئندہ کسی بھی قسم کی نافرمانی برداشت نہیں کی جائے گی اور خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف سخت ترین تادیبی کارروائی کی جائے گی۔

May 3, 2026

نگران ادارے کے مطابق، تعمیر کار پر چودہ ارب روپے سے زائد کا نادہندہ ہونے کا الزام ہے اور وہ اب تک ان واجبات کی ادائیگی میں ناکام رہا ہے۔ اس عمارت میں ملک کے طاقتور ترین افراد اور بااثر شخصیات رہائش پذیر ہیں۔

May 3, 2026

شاہراہ دستور کا یہ اسکینڈل پاکستان میں قانون کی بالادستی اور اشرافیہ کے قبضے کے خلاف ایک فیصلہ کن موڑ ہے۔ ریاست کی رٹ ہر صورت قائم کی جانی چاہیے۔ اگر ایک عام شہری کے لیے قانون سخت ہے، تو اشرافیہ بھی اس سے بالاتر نہیں ہو سکتی۔

May 3, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *