اسلام آباد کی شاہراہِ دستور پر واقع ون کانسٹی ٹیوشن ایونیو (گرینڈ حیات) کیس کا معاملہ پاکستان کے طاقتور طبقے کی لوٹ مار اور مفادات کے ٹکراؤ کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ منسوخ شدہ لیز پر تعمیر کی گئی اس عمارت میں 269 لگژری اپارٹمنٹس ہیں جنہیں سیاسی اور عدالتی اشرافیہ نے اپنی عیاشیوں اور کرائے سے منافع کمانے کا مرکز بنا رکھا ہے۔ ان مالکان میں خواجہ سعد رفیق، عمران خان، علیمہ خانم، ثاقب نثار، اعتزاز احسن، ناصر الملک، شاہد خاقان عباسی اور ابصار عالم شامل ہیں۔ ان میں سے ابصار عالم خود بھی اس عمارت میں فلیٹ رکھتے ہیں، جس کے باعث ان کا اس معاملے پر غیر جانبدار رہنا ناممکن ہے۔ جب بھی اس غیر قانونی تعمیر کے خلاف ریاست کوئی کارروائی کرتی ہے، تو وہ اپنی صحافت کا استعمال کرتے ہوئے حقائق کو مسخ کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔
ابصار عالم نے اپنے بیانات میں بے شمار جھوٹے دعوے کیے ہیں تاکہ اشرافیہ کا دفاع کیا جا سکے۔ مثال کے طور پر، انہوں نے الزام لگایا کہ اس آپریشن کے لیے رینجرز کو استعمال کیا گیا، حالانکہ رینجرز ریڈ زون کی سیکیورٹی کے لیے چوبیس گھنٹے علاقے میں موجود رہتے ہیں۔ اسی طرح، ان کا یہ دعویٰ کہ عمارت میں 48 سفارت کار رہ رہے تھے اور یورپی ممالک کی جانب سے کوئی ڈیمارش جاری کیا گیا، مکمل طور پر بے بنیاد ہے۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق وہاں صرف 9 سفارت کار مقیم تھے۔ اس کے علاوہ، انہوں نے سعودی سرمایہ کاروں کے دورے کی پرانی تصویر کو اپنے مخصوص بیانیے کو تقویت دینے کے لیے غلط انداز میں پیش کیا، جس میں بی این پی کے مالک عبدالحفیظ پاشا اور گوہر اعجاز بھی نظر آ رہے ہیں۔
108 کنال کے اس وسیع منصوبے پر 2007 میں کام مکمل ہونا تھا، لیکن ڈویلپرز کی ناکامی اور ملی بھگت سے قومی خزانے کو 14 ارب روپے سے زائد کا نقصان پہنچا۔ ابصار عالم کا یہ مؤقف کہ عدالتی فیصلے دباؤ کا نتیجہ ہیں، نہ صرف حقائق کے منافی ہے بلکہ توہینِ عدالت کے زمرے میں بھی آتا ہے۔ ریاست کی جانب سے کی جانے والی یہ کارروائی کسی سیاسی ایجنڈے پر مبنی نہیں بلکہ خالصتاً قانون کی بالادستی کا تقاضا ہے۔
دیکھئیے:شاہراہ دستور کا اسکینڈل: اشرافیہ کے ناجائز قبضے کا خاتمہ اور ریاستِ پاکستان کی فیصلہ کن کارروائی