بلوچستان کے مسئلے کو قومی سیاست میں سنجیدگی سے کبھی مرکزی موضوع نہیں بنایا گیا۔ یہ خطہ انتخابی وعدوں، پارلیمانی قراردادوں اور میڈیا کی بریکنگ نیوز تک محدود رہا۔ سوال یہ ہے کہ کیا کسی بڑی سیاسی جماعت نے بلوچستان کے لیے کوئی واضح، طویل المدت اور عوامی پالیسی تشکیل دی؟

February 3, 2026

پاکستان کے لیے محض دفاعی حکمتِ عملی کافی نہیں رہی۔ وقت کا تقاضا ہے کہ ریاست نہ صرف چوکس رہے بلکہ جارحانہ رویہ اختیار کرے۔ سفارتی محاذ پر مؤثر انداز میں حقائق کو اجاگر کیا جائے، عالمی میڈیا اور تھنک ٹینکس میں موجود یکطرفہ بیانیے کا مدلل جواب دیا جائے اور داخلی طور پر انسدادِ دہشت گردی کے اقدامات کو مزید مضبوط بنایا جائے۔

February 3, 2026

اسلام آباد میں سہیل آفریدی نے بلوچستان واقعے پر وزیراعظم سے تعزیت کی اور دہشت گردی کی شدید مذمت کرتے ہوئے صوبے میں امن اور انسداد دہشت گردی کے لیے تعاون پر اتفاق کیا

February 2, 2026

بھارت نے مالی سال 2026-27 کے بجٹ میں بنگلہ دیش کی امداد میں 50 فیصد کمی کرتے ہوئے اسے 60 کروڑ روپے کر دیا، جبکہ افغانستان کے لیے امداد میں 200 فیصد اضافہ کر کے 150 کروڑ روپے مقرر کیا گیا

February 2, 2026

نوشکی میں سکیورٹی فورسز کے کامیاب آپریشن میں سات دہشت گرد ہلاک، ہتھیار اور گولہ بارود برآمد

February 2, 2026

ڈاکٹر ہائم بریشیتھ-زابنر کے الزامات اور میمری کے بلوچستان ڈیسک کا قیام اس امر کی نشاندہی کرتا ہے کہ بلوچستان کا مسئلہ اب صرف داخلی سلامتی کا چیلنج نہیں رہا بلکہ ایک بین الاقوامی بیانیاتی محاذ کی شکل اختیار کر چکا ہے۔ ماہرین کے مطابق اس صورتحال میں سفارتی حکمتِ عملی، مؤثر ابلاغ اور زمینی حقائق کی درست ترجمانی پاکستان کے لیے ناگزیر ہو چکی ہے۔

February 2, 2026

افغانستان میں ملازمین کی برطرفی: بدامنی اور اندرونی اختلافات عروج پر پہنچ گئے

افغانستان کی وزارت دفاع، وزارت داخلہ اور انٹیلیجنس کے محکموں سمیت اہم اداروں سے بیس فیصد ملازمین کو فارغ کردیا گیا
افغانستان کی وزارت دفاع، وزارت داخلہ اور انٹیلیجنس کے محکموں سمیت اہم اداروں سے بیس فیصد ملازمین کو فارغ کردیا گیا

مذکورہ فیصلے کے بعد طالبان کے اپنے گروہوں میں بے چینی بڑھتی جارہی ہے۔ تنخواہوں کی عدمِ ادائیگی، ملازمین کی برطرفی، قبائلی تعصب اور گروپ بندی نے انکے اندر اختلافات کو بڑھادیا ہے

July 21, 2025


طالبان حکومت کے سپریم لیڈر ہیبت اللہ اخوند زادہ کی جانب سے جاری بیان کے مطابق حالیہ سال اپریل کے ماہ میں افغانستان کی وزارت دفاع، وزارت داخلہ اور انٹیلیجنس کے محکموں سمیت اہم اداروں سے بیس فیصد ملازمین کو فارغ کردیا گیا۔

اس کے ساتھ ساتھ 90,000 سے زائد تعلیم سے وابستہ عملے کو بھی فارغ کر دیا گیا ہے۔ حکام نے بجٹ اور وسائل کی قلت کو اہم وجہ قرار دیتے ہوئےکہا کہ ہمیں اس بناء پر یہ فیصلہ کرنا پڑا۔

عوامی ردّ عمل


دوسری طرف عوام کی جناب سے شدید ردّ عمل دیکھنے کو مل رہا ہے، عوام میں شدید غصے کی لہر دوڑ گئی ہے۔ عوام کی جانب سے کہا گیا ہے ملازمین کو نہ تو تنخواہیں دی گئی ہیں اور نہ ہی مذکورہ فیصلے کی کوئی اہم وجہ بتائی گئی ہے بلکہ مبہم طور پر افغان حکام کی جانب سے بیان جاری کیا گیا ہے۔ اور ساتھ ہی اس فیصلے کو نسلی و سیاسی بنیاد قرار دیا ہے۔

طالبان گروہوں میں مایوسی

مذکورہ فیصلے کے بعد طالبان کے اپنے گروہوں میں بے چینی بڑھتی جارہی ہے۔ تنخواہوں کی عدمِ ادائیگی، ملازمین کی برطرفی، قبائلی تعصب اور گروپ بندی نے انکے اندر اختلافات کو بڑھادیا ہے۔ نتیجتاً افغان حکام کے عدمِ اتفاق کے مواقع بڑھتے جارہے ہیں۔

چونکہ اس وقت امارتِ اسلامیہ افغانستان اندرونی اختالافات کا شکار ہے، اس لیے یہ صورتحال اس اہمیت کو اجاگر کرتی ہے کہ افغانستان میں ایک جامع سیاسی حل ناگزیر ہے۔ وگرنہ افغانستان ایک مرتبہ پھر ماضی کی چل پڑے گا۔
افغانستان کے حالیہ حالات تنخواہوں کی عدمِ ادائیگی، ملازمین کی برطرفی، قبائلی تعصب یہ تمام چیزیں افغان ریاست کو تو متاثر کر ہی رہی ہیں۔ لیکن اگر افغان ریاست مزید عدمِ استحکام کا شکار ہوتی ہے تو اس اثرات ہمسایہ ملک پاکستان پر گہرے اثرات مرتب کرسکتاہے۔

دیکھیں: شمالی افغانستان میں عالمی دہشت گرد تنظیموں کی سرگرمیاں خطے کے لیے سنگین خطرہ

متعلقہ مضامین

بلوچستان کے مسئلے کو قومی سیاست میں سنجیدگی سے کبھی مرکزی موضوع نہیں بنایا گیا۔ یہ خطہ انتخابی وعدوں، پارلیمانی قراردادوں اور میڈیا کی بریکنگ نیوز تک محدود رہا۔ سوال یہ ہے کہ کیا کسی بڑی سیاسی جماعت نے بلوچستان کے لیے کوئی واضح، طویل المدت اور عوامی پالیسی تشکیل دی؟

February 3, 2026

پاکستان کے لیے محض دفاعی حکمتِ عملی کافی نہیں رہی۔ وقت کا تقاضا ہے کہ ریاست نہ صرف چوکس رہے بلکہ جارحانہ رویہ اختیار کرے۔ سفارتی محاذ پر مؤثر انداز میں حقائق کو اجاگر کیا جائے، عالمی میڈیا اور تھنک ٹینکس میں موجود یکطرفہ بیانیے کا مدلل جواب دیا جائے اور داخلی طور پر انسدادِ دہشت گردی کے اقدامات کو مزید مضبوط بنایا جائے۔

February 3, 2026

اسلام آباد میں سہیل آفریدی نے بلوچستان واقعے پر وزیراعظم سے تعزیت کی اور دہشت گردی کی شدید مذمت کرتے ہوئے صوبے میں امن اور انسداد دہشت گردی کے لیے تعاون پر اتفاق کیا

February 2, 2026

بھارت نے مالی سال 2026-27 کے بجٹ میں بنگلہ دیش کی امداد میں 50 فیصد کمی کرتے ہوئے اسے 60 کروڑ روپے کر دیا، جبکہ افغانستان کے لیے امداد میں 200 فیصد اضافہ کر کے 150 کروڑ روپے مقرر کیا گیا

February 2, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *