بنوں کے علاقے جانی خیل میں خوارج کے ٹھکانے پر کی گئی ڈرون کارروائی کے نتیجے میں اہم کمانڈر جیمید سرہ بنگلہ سمیت 2 دہشت گرد ہلاک ہو گئے۔

August 8, 2026

افغانستان میں طالبان حکومت کی سخت گیر پالیسیوں، سرعام سزاؤں اور خواتین پر پابندیوں کے باعث عوامی غصہ بڑھ رہا ہے، جس نے ملک بھر میں مسلح مزاحمت کو تیز کر دیا ہے۔

August 8, 2026

برطانوی جریدے ‘انڈیپنڈنٹ’ کی رپورٹ میں طالبان کے ڈرون پروگرام، بھارتی فوجی انجینئرز اور القاعدہ کے درمیان خطرناک تکنیکی گٹھ جوڑ کا پردہ فاش ہو گیا ہے۔

August 8, 2026

افغانستان میں طالبان کی پانچ سالہ حکمرانی کے بعد مسلح مزاحمت بدخشاں، پنجشیر، قندھار اور ہلمند سمیت مختلف صوبوں تک پھیل گئی ہے۔

August 8, 2026

اسلامی تعاون تنظیم اور مملکتِ بحرین نے پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان طے پانے والے مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کا پرجوش خیرمقدم کرتے ہوئے اسے مسلم دنیا کے امن و استحکام کا بنیادی ستون قرار دیا ہے۔

August 8, 2026

سیکیورٹی فورسز نے بلوچستان کے علاقے کمبیلہ اور عاصم آباد میں آپریشن رَد الفتنہ 3 کے تحت فتنہ الہندوستان کے 3 دہشت گردوں کو ہلاک کر کے 68 مربع کلو میٹر علاقہ کلیئر کرا لیا ہے۔

August 8, 2026

افغانستان میں ملازمین کی برطرفی: بدامنی اور اندرونی اختلافات عروج پر پہنچ گئے

افغانستان کی وزارت دفاع، وزارت داخلہ اور انٹیلیجنس کے محکموں سمیت اہم اداروں سے بیس فیصد ملازمین کو فارغ کردیا گیا
افغانستان کی وزارت دفاع، وزارت داخلہ اور انٹیلیجنس کے محکموں سمیت اہم اداروں سے بیس فیصد ملازمین کو فارغ کردیا گیا

مذکورہ فیصلے کے بعد طالبان کے اپنے گروہوں میں بے چینی بڑھتی جارہی ہے۔ تنخواہوں کی عدمِ ادائیگی، ملازمین کی برطرفی، قبائلی تعصب اور گروپ بندی نے انکے اندر اختلافات کو بڑھادیا ہے

July 21, 2025


طالبان حکومت کے سپریم لیڈر ہیبت اللہ اخوند زادہ کی جانب سے جاری بیان کے مطابق حالیہ سال اپریل کے ماہ میں افغانستان کی وزارت دفاع، وزارت داخلہ اور انٹیلیجنس کے محکموں سمیت اہم اداروں سے بیس فیصد ملازمین کو فارغ کردیا گیا۔

اس کے ساتھ ساتھ 90,000 سے زائد تعلیم سے وابستہ عملے کو بھی فارغ کر دیا گیا ہے۔ حکام نے بجٹ اور وسائل کی قلت کو اہم وجہ قرار دیتے ہوئےکہا کہ ہمیں اس بناء پر یہ فیصلہ کرنا پڑا۔

عوامی ردّ عمل


دوسری طرف عوام کی جناب سے شدید ردّ عمل دیکھنے کو مل رہا ہے، عوام میں شدید غصے کی لہر دوڑ گئی ہے۔ عوام کی جانب سے کہا گیا ہے ملازمین کو نہ تو تنخواہیں دی گئی ہیں اور نہ ہی مذکورہ فیصلے کی کوئی اہم وجہ بتائی گئی ہے بلکہ مبہم طور پر افغان حکام کی جانب سے بیان جاری کیا گیا ہے۔ اور ساتھ ہی اس فیصلے کو نسلی و سیاسی بنیاد قرار دیا ہے۔

طالبان گروہوں میں مایوسی

مذکورہ فیصلے کے بعد طالبان کے اپنے گروہوں میں بے چینی بڑھتی جارہی ہے۔ تنخواہوں کی عدمِ ادائیگی، ملازمین کی برطرفی، قبائلی تعصب اور گروپ بندی نے انکے اندر اختلافات کو بڑھادیا ہے۔ نتیجتاً افغان حکام کے عدمِ اتفاق کے مواقع بڑھتے جارہے ہیں۔

چونکہ اس وقت امارتِ اسلامیہ افغانستان اندرونی اختالافات کا شکار ہے، اس لیے یہ صورتحال اس اہمیت کو اجاگر کرتی ہے کہ افغانستان میں ایک جامع سیاسی حل ناگزیر ہے۔ وگرنہ افغانستان ایک مرتبہ پھر ماضی کی چل پڑے گا۔
افغانستان کے حالیہ حالات تنخواہوں کی عدمِ ادائیگی، ملازمین کی برطرفی، قبائلی تعصب یہ تمام چیزیں افغان ریاست کو تو متاثر کر ہی رہی ہیں۔ لیکن اگر افغان ریاست مزید عدمِ استحکام کا شکار ہوتی ہے تو اس اثرات ہمسایہ ملک پاکستان پر گہرے اثرات مرتب کرسکتاہے۔

دیکھیں: شمالی افغانستان میں عالمی دہشت گرد تنظیموں کی سرگرمیاں خطے کے لیے سنگین خطرہ

متعلقہ مضامین

بنوں کے علاقے جانی خیل میں خوارج کے ٹھکانے پر کی گئی ڈرون کارروائی کے نتیجے میں اہم کمانڈر جیمید سرہ بنگلہ سمیت 2 دہشت گرد ہلاک ہو گئے۔

August 8, 2026

افغانستان میں طالبان حکومت کی سخت گیر پالیسیوں، سرعام سزاؤں اور خواتین پر پابندیوں کے باعث عوامی غصہ بڑھ رہا ہے، جس نے ملک بھر میں مسلح مزاحمت کو تیز کر دیا ہے۔

August 8, 2026

برطانوی جریدے ‘انڈیپنڈنٹ’ کی رپورٹ میں طالبان کے ڈرون پروگرام، بھارتی فوجی انجینئرز اور القاعدہ کے درمیان خطرناک تکنیکی گٹھ جوڑ کا پردہ فاش ہو گیا ہے۔

August 8, 2026

افغانستان میں طالبان کی پانچ سالہ حکمرانی کے بعد مسلح مزاحمت بدخشاں، پنجشیر، قندھار اور ہلمند سمیت مختلف صوبوں تک پھیل گئی ہے۔

August 8, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *