طالبان کے زیرِ اقتدار افغانستان اس وقت ایک ایسے نظریاتی حصار میں ہے جہاں ‘نیشن اسٹیٹ’ کے تصور کو مسترد کر کے قومی شناخت مٹائی جا رہی ہے۔ دہشت گرد گروہوں کی مبینہ پشت پناہی، انسانی حقوق کی پامالی اور معاشی ناکامیوں نے کابل انتظامیہ کو عالمی تنہائی اور علاقائی انتشار کے دہانے پر لا کھڑا کیا ہے۔

May 4, 2026

طالبان کے حکم کے تحت اداروں کے ناموں سے “قومی” ہٹانا محض انتظامی تبدیلی نہیں بلکہ قومی شناخت اور عالمی تعلقات پر اثرانداز ہونے والا اقدام سمجھا جا رہا ہے۔

May 4, 2026

افغان طالبان کے سپریم لیڈر ملا ہبت اللہ اخوندزادہ نے افغانستان میں نجی مدارس کے قیام پر پابندی عائد کرتے ہوئے تمام مدارس کو وزارتِ تعلیم کے کنٹرول میں دینے کا حکم جاری کر دیا ہے۔

May 4, 2026

نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار کا ایرانی ہم منصب عباس عراقچی سے ٹیلیفونک رابطہ ہوا، جس میں خطے میں امن، پاک ایران تعاون اور پاکستان کی سفارتی کوششوں پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

May 4, 2026

افغان گرین ٹرینڈ کے مطابق طالبان انٹیلی جنس نے کابل میں ہتھیاروں کی منتقلی کے انکشاف پر کریک ڈاؤن کرتے ہوئے سیاہ سنگ میں افراد کو حراست میں لے لیا ہے۔

May 4, 2026

ذبیح اللہ مجاہد کے پاکستان پر داعش سرپرستی کے الزامات بے بنیاد ہیں، جبکہ داعش کی موجودگی افغانستان میں ہے اور اسے طالبان کی حمایت حاصل ہے۔

May 4, 2026

طالبان فورسز کی بدخشاں میں مظاہرین کے خلاف کاروائی میں 15 شہری ہلاک

طالبان کی سخت گیر پالیسیوں نے علاقے میں امن لانے کے بجائے عوام کو مزید ناراض کر دیا ہے
طالبان کی سخت گیر پالیسیوں نے علاقے میں امن لانے کے بجائے عوام کو مزید ناراض کر دیا ہے

افغان عبوری حکومت ناکام ہو گئی ہے۔ وہ عوام سے بات کرنے کے بجائے زور زبردستی کا طریقہ اپنا رہی ہے

July 21, 2025

افغانستان کے صوبہ بدخشاں کے ضلع شاخ میں طالبان کی جانب سے پوست کی کاشت ختم کرنے کی مہم کے خلاف شدید بدامنی پیدا ہوگئی ہے ۔ طالبان کے سپریم لیڈر ہبت اللہ اخند زادہ کے ملک گیر پوست پر پابندی کے تحت جبری کاروائی کے بعد صورتحال بگڑ گئی ہے۔ رپورٹس کے مطابق طالبان جنگجووں نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے براہ راست فائرنگ کی، جس کے نتیجے میں کم ازکم 15 افراد ہلاک اور 20 سے زائد زخمی ہو گئے ۔


بدخشاں میں طالبان کی پرتشدد کارروائی ظاہر کرتی ہے کہ افغان عبوری حکومت اپنے ملک میں امن قائم رکھنے میں ناکام ہو گئی ہے۔ وہ عوام سے بات کرنے کے بجائے زور زبردستی کا طریقہ اپنا رہی ہے۔


بدخشاں میں اٹھنے والی یہ بغاوت ایک خطرناک امتزاج کی نمائندگی کرتی ہے، جہاں معاشی مایوسی، جابرانہ طرز حکمرانی، اور طالبان کے اندر بڑھتی ہوئی نافرمانی سامنے آ رہی ہے۔


طالبان کی سخت گیر پالیسیوں نے علاقے میں امن لانے کے بجائے عوام کو مزید ناراض کر دیا ہے، اور خود طالبان کے اندر اختلافات کو بھی ظاہر کر دیا ہے، جس سے شمال مشرقی علاقوں کی سیکیورٹی خطرے میں پڑ گئی ہے۔


بدخشاں میں عام شہریوں کا قتل ثابت کرتا ہے کہ افغان عوام کے لیے طالبان حکومت میں سکون یا امن کی کوئی امید نہیں، وہ آج بھی ظلم اور بےچینی کا شکار ہیں۔

افغانستان کے غیر محفوظ علاقوں میں طالبان کا کمزور کنٹرول پڑوسی ملکوں کے لیے بھی خطرہ بن سکتا ہے، کیونکہ یہاں سے شدت پسندی اور دہشت گردی دوسرے ملکوں تک پھیلنے کا خدشہ ہے۔


یہ مسلسل بدامنی نہ صرف خطے کے امن کو متاثر کر رہی ہے، بلکہ سرحد پار تعاون کو بھی نقصان پہنچا رہی ہے اور ترقی و خوشحالی کی راہ میں رکاوٹ بن رہی ہے

دیکھیں: شمالی افغانستان میں عالمی دہشت گرد تنظیموں کی سرگرمیاں خطے کے لیے سنگین خطرہ

متعلقہ مضامین

طالبان کے زیرِ اقتدار افغانستان اس وقت ایک ایسے نظریاتی حصار میں ہے جہاں ‘نیشن اسٹیٹ’ کے تصور کو مسترد کر کے قومی شناخت مٹائی جا رہی ہے۔ دہشت گرد گروہوں کی مبینہ پشت پناہی، انسانی حقوق کی پامالی اور معاشی ناکامیوں نے کابل انتظامیہ کو عالمی تنہائی اور علاقائی انتشار کے دہانے پر لا کھڑا کیا ہے۔

May 4, 2026

طالبان کے حکم کے تحت اداروں کے ناموں سے “قومی” ہٹانا محض انتظامی تبدیلی نہیں بلکہ قومی شناخت اور عالمی تعلقات پر اثرانداز ہونے والا اقدام سمجھا جا رہا ہے۔

May 4, 2026

افغان طالبان کے سپریم لیڈر ملا ہبت اللہ اخوندزادہ نے افغانستان میں نجی مدارس کے قیام پر پابندی عائد کرتے ہوئے تمام مدارس کو وزارتِ تعلیم کے کنٹرول میں دینے کا حکم جاری کر دیا ہے۔

May 4, 2026

نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار کا ایرانی ہم منصب عباس عراقچی سے ٹیلیفونک رابطہ ہوا، جس میں خطے میں امن، پاک ایران تعاون اور پاکستان کی سفارتی کوششوں پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

May 4, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *