پی ٹی آئی اور حکومت کے مذاکرات کی ناکامی نے سیاسی کشیدگی اور خیبرپختونخوا میں دہشت گردی کے خلاف حکمت عملی پر نئے سوالات اٹھا دیے۔

October 4, 2026

ڈیرہ اسماعیل خان میں سکیورٹی فورسز کے انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کے دوران فتنہ الخوارج کے تین اہم سرغنہ سمیت آٹھ دہشت گرد ہلاک ہو گئے۔

October 4, 2026

گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے کہا ہے کہ صوبے کو بچانے کے لیے ایمرجنسی لگانا پڑی تو ضرور لگائیں گے، اور اس صورت میں پی ٹی آئی کے لیے وہ اکیلے ہی کافی ہیں۔

October 4, 2026

حکومت اور پی ٹی آئی مذاکرات میں بنیادی تعطل خیبر پختونخوا میں انسدادِ دہشت گردی پر تحریری تعاون نہ ملنے کی وجہ سے پیدا ہوا، جبکہ سویلین عمل سے متعلق الزامات کو مسترد کر دیا گیا۔

October 4, 2026

طویل مذاکرات میں حکومت کے بڑے پن کے باوجود پی ٹی آئی نے انسدادِ دہشت گردی اور نیشنل ایکشن پلان پر تعاون سے انکار کر کے انتشار کی راہ چن لی۔

October 4, 2026

سعودی عرب اور یمن نے بحیرہ احمر کی بحالی کیلئے حوثیوں کیخلاف مشترکہ فوجی کارروائی کا حتمی خاکہ تیار کر لیا۔

October 4, 2026

طالبان فورسز کی بدخشاں میں مظاہرین کے خلاف کاروائی میں 15 شہری ہلاک

طالبان کی سخت گیر پالیسیوں نے علاقے میں امن لانے کے بجائے عوام کو مزید ناراض کر دیا ہے
طالبان کی سخت گیر پالیسیوں نے علاقے میں امن لانے کے بجائے عوام کو مزید ناراض کر دیا ہے

افغان عبوری حکومت ناکام ہو گئی ہے۔ وہ عوام سے بات کرنے کے بجائے زور زبردستی کا طریقہ اپنا رہی ہے

July 21, 2025

افغانستان کے صوبہ بدخشاں کے ضلع شاخ میں طالبان کی جانب سے پوست کی کاشت ختم کرنے کی مہم کے خلاف شدید بدامنی پیدا ہوگئی ہے ۔ طالبان کے سپریم لیڈر ہبت اللہ اخند زادہ کے ملک گیر پوست پر پابندی کے تحت جبری کاروائی کے بعد صورتحال بگڑ گئی ہے۔ رپورٹس کے مطابق طالبان جنگجووں نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے براہ راست فائرنگ کی، جس کے نتیجے میں کم ازکم 15 افراد ہلاک اور 20 سے زائد زخمی ہو گئے ۔


بدخشاں میں طالبان کی پرتشدد کارروائی ظاہر کرتی ہے کہ افغان عبوری حکومت اپنے ملک میں امن قائم رکھنے میں ناکام ہو گئی ہے۔ وہ عوام سے بات کرنے کے بجائے زور زبردستی کا طریقہ اپنا رہی ہے۔


بدخشاں میں اٹھنے والی یہ بغاوت ایک خطرناک امتزاج کی نمائندگی کرتی ہے، جہاں معاشی مایوسی، جابرانہ طرز حکمرانی، اور طالبان کے اندر بڑھتی ہوئی نافرمانی سامنے آ رہی ہے۔


طالبان کی سخت گیر پالیسیوں نے علاقے میں امن لانے کے بجائے عوام کو مزید ناراض کر دیا ہے، اور خود طالبان کے اندر اختلافات کو بھی ظاہر کر دیا ہے، جس سے شمال مشرقی علاقوں کی سیکیورٹی خطرے میں پڑ گئی ہے۔


بدخشاں میں عام شہریوں کا قتل ثابت کرتا ہے کہ افغان عوام کے لیے طالبان حکومت میں سکون یا امن کی کوئی امید نہیں، وہ آج بھی ظلم اور بےچینی کا شکار ہیں۔

افغانستان کے غیر محفوظ علاقوں میں طالبان کا کمزور کنٹرول پڑوسی ملکوں کے لیے بھی خطرہ بن سکتا ہے، کیونکہ یہاں سے شدت پسندی اور دہشت گردی دوسرے ملکوں تک پھیلنے کا خدشہ ہے۔


یہ مسلسل بدامنی نہ صرف خطے کے امن کو متاثر کر رہی ہے، بلکہ سرحد پار تعاون کو بھی نقصان پہنچا رہی ہے اور ترقی و خوشحالی کی راہ میں رکاوٹ بن رہی ہے

دیکھیں: شمالی افغانستان میں عالمی دہشت گرد تنظیموں کی سرگرمیاں خطے کے لیے سنگین خطرہ

متعلقہ مضامین

پی ٹی آئی اور حکومت کے مذاکرات کی ناکامی نے سیاسی کشیدگی اور خیبرپختونخوا میں دہشت گردی کے خلاف حکمت عملی پر نئے سوالات اٹھا دیے۔

October 4, 2026

ڈیرہ اسماعیل خان میں سکیورٹی فورسز کے انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کے دوران فتنہ الخوارج کے تین اہم سرغنہ سمیت آٹھ دہشت گرد ہلاک ہو گئے۔

October 4, 2026

گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے کہا ہے کہ صوبے کو بچانے کے لیے ایمرجنسی لگانا پڑی تو ضرور لگائیں گے، اور اس صورت میں پی ٹی آئی کے لیے وہ اکیلے ہی کافی ہیں۔

October 4, 2026

حکومت اور پی ٹی آئی مذاکرات میں بنیادی تعطل خیبر پختونخوا میں انسدادِ دہشت گردی پر تحریری تعاون نہ ملنے کی وجہ سے پیدا ہوا، جبکہ سویلین عمل سے متعلق الزامات کو مسترد کر دیا گیا۔

October 4, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *