ڈیرہ اسماعیل خان کے علاقے درازندہ میں امن میلہ کے قریب زوردار دھماکے کے نتیجے میں 11 افراد جاں بحق جبکہ 30 زخمی ہو گئے، امدادی کارروائیاں جاری ہیں۔

September 26, 2026

افغانستان میں طالبان رجیم کے خلاف مسلح مزاحمت کا دائرہ وسیع ہو گیا ہے، جہاں نورستان اور کنڑ سمیت مختلف صوبوں میں کارروائیوں اور جھڑپوں میں تیزی ریکارڈ کی گئی ہے۔

September 26, 2026

ملک میں بڑھتی آبادی اور دفتری مشکلات کے باعث نئے انتظامی صوبوں اور حکمرانی کے مؤثر نظام کا مطالبہ سامنے آ گیا۔

September 26, 2026

ایک افغان شہری کے حالیہ دعوے نے بھارتی ایجنسی را، افغان طالبان اور کالعدم تحریکِ طالبان پاکستان کے درمیان مبینہ مالی و عسکری گٹھ جوڑ سے متعلق سنگین سوالات کو جنم دیا ہے۔

September 26, 2026

پاک بحریہ نے بحیرہ عرب میں کامیاب کارروائی کرتے ہوئے 750 ملین ڈالر مالیت کی 2800 کلوگرام سے زائد منشیات برآمد کر لی ہیں۔

September 26, 2026

نائب وزیر اعظم اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ خطے میں پائیدار امن کیلیے افغان سرزمین سے دہشت گردی کا خاتمہ اور کالعدم گروہوں کے خلاف ٹھوس کارروائی ناگزیر ہے۔

September 26, 2026

افغانستان: سونے کی کان پر لڑائی، متعدّد چینی شہری ہلاک

بدخشاں افغانستان: سونے کی کان پر تنازعہ، چار چینی شہری ہلاک اور متعدد زخمی
بدخشاں افغانستان: سونے کی کان پر تنازعہ، چار چینی شہری ہلاک اور متعدد زخمی

اس لڑائی میں چار چینی شہری ہلاک جبکہ دونوں جانب سے متعدد افرادزخمی ہوئے

July 21, 2025


بدخشاں افغانستان: بدخشاں میں سونے کی کان پر تنازعے میں چار چینی شہری ہلاک جبکہ متعدد افراد زخمی ہو ئے۔ اتوار کی شام کو شہ برزگ کے مقام پر ہونے والا یہ واقعہ غیر ملکی سرمایہ کاروں اور مقامی افغان ٹھیکداروں و سرمایہ کاروں کے درمیان بڑھتی کشیدگی کو ظاہر کرتا ہے۔

عینی شاہدین کے مطابق یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب ایک مقامی اہلکاراس کان کی ملکیت کا دعویٰ کر رہا تھا، ملکیت کے دعوی دار شخص نے وہاں موجود چینی انتظامیہ سے بحث و مباحثہ کیا، تکرار کی صورت میں لڑائی شروع ہوگئی، نتیجتاً چار چینی ہلاک جبکہ متعدد زخمی ہوئے۔

حملے میں چینی اور افغان کارکن زخمی

عینی شاہدین کا کہنا ہے مقامی افغان ٹھیکیدار نے اشتعال میں آکر فائرنگ کردی۔ فائرنگ سے چار چینی شہری موقع پر ہی ہلاک ہو گئے جبکہ ایک شدید زخمی ہو گیا۔ مقامی طور پر کام کرنے والے چار افغان بھی زخمی ہوئے۔

رپورٹس کے مطابق سونے کی کان سابق وزیر معدنیات شہاب الدین دلاور نے ٹھیکے پر دی تھی۔ تاہم موجودہ وزارت کے کسی اور ٹھیکیدار سے معاملات طے پاگئے اور کان انکے حوالے کردی گئی۔

مقامی ذرائع نے تصدیق کی کہ چینی انویسٹرز نے اس پروجیکٹ میں بھاری سرمایہ کاری کی تھی، جس نے مقامی ٹھیکیداروں کو پیچھے دھکیل دیا ہے۔ ان حالات نے مقامی سطح پر مایوسی کی کیفیت پیدا کردی تھی، ذرائع کا کہنا ہے کچھ لوگ غیر ملکی سرمایہ کاروں کی موجودگی کو معاشی طور پر خطرناک سمجھتے ہیں۔

مقامی حکام نے داعش و دہشتگردانہ کاروائی سے یکسر انکار کرتے ہوئے کہا یہ حملہ ایک ذاتی فعل تھا، جس کا دہشت گردی سے کوئی تعلق نہیں تھا۔ ایک حکومتی ترجمان نے کہا “یہ ایک مقامی تنازعہ تھا۔ ہم معاملے کی تحقیقات کر رہے ہیں اور جلد ہی مجرم کو انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔”

یہ پہلا واقعہ ہے جس میں چینی کارکنوں کو افغان مقامی افراد کے ساتھ براہ راست تنازعے میں نشانہ بنایا گیا، مذکورہ واقعے نے دونوں ممالک کے حکام کو سوچ و بچار پر مجبور کردیا ہے اور افغان سکیورٹی اداروں پر سوال اٹھنے لگ گئے ہیں اور ساتھ ہی آئندہ دنوں میں خطے میں کام کرنے والے دیگر غیر ملکی سرمایہ کاروں میں بھی تشویش پیدا کر سکتا ہے۔


انتظامیہ کی جانب سے بیان جاری اور واقعے کے اثرات

حکومت نے کان کنی کے متعلق جاری تنازعات کو باہم گفتگو کے ذریعے حل کرنے کا کہا ہے۔ مذکورہ واقعے کے بعد سے سونے کی کان کے اطراف میں سخت سکیورٹی پہرہ جاری ہے۔
اب دیکھنا یہ ہیکہ کہیں یہ واقعہ حالیہ افغانستان۔ چائنہ کے مابین بڑھتے تعلقات، تجارت سمیت دیگر شعبوں کو متاثر تو نہیں کریں گے۔

دیکھیں: افغانستان میں ملازمین کی برطرفی: بدامنی اور اندرونی اختلافات عروج پر پہنچ گئے

متعلقہ مضامین

ڈیرہ اسماعیل خان کے علاقے درازندہ میں امن میلہ کے قریب زوردار دھماکے کے نتیجے میں 11 افراد جاں بحق جبکہ 30 زخمی ہو گئے، امدادی کارروائیاں جاری ہیں۔

September 26, 2026

افغانستان میں طالبان رجیم کے خلاف مسلح مزاحمت کا دائرہ وسیع ہو گیا ہے، جہاں نورستان اور کنڑ سمیت مختلف صوبوں میں کارروائیوں اور جھڑپوں میں تیزی ریکارڈ کی گئی ہے۔

September 26, 2026

ملک میں بڑھتی آبادی اور دفتری مشکلات کے باعث نئے انتظامی صوبوں اور حکمرانی کے مؤثر نظام کا مطالبہ سامنے آ گیا۔

September 26, 2026

ایک افغان شہری کے حالیہ دعوے نے بھارتی ایجنسی را، افغان طالبان اور کالعدم تحریکِ طالبان پاکستان کے درمیان مبینہ مالی و عسکری گٹھ جوڑ سے متعلق سنگین سوالات کو جنم دیا ہے۔

September 26, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *