مددگار یا مکار؟ جب محافظ ہی قاتل اور درندے بن جائیں

مددگار یا مکار؟

مظفرگڑھ اور فیصل آباد کے افسوسناک واقعات نے رشتوں کے خلوص اور تحفظ کے دعوؤں کو بے نقاب کر دیا ہے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جنہیں ہم اپنا محافظ اور ہمدرد سمجھتے ہیں، وہ حقیقت میں مددگار ہیں یا مکار؟

افغان حکومت کا ٹی ٹی پی کو غیر مسلح کرنے اور مختلف شہروں میں بسانے کا فیصلہ

طالبان حکام کی ٹی ٹی پی کے خلاف سنجیدگی پاکستان کی سفارتی کامیابی ہے
طالبان حکام کی ٹی ٹی پی کے خلاف سنجیدگی پاکستان کی سفارتی کامیابی ہے

افغان حکام کی سنجیدگی یہ بات ظاہر کرتی ہیکہ مستقبل قریب میں تحریک طالبان پاکستان کے خلاف عملی اقدامات کرے گی

July 23, 2025


حالیہ دنوں میں پاک افغان تعلقات میں اہم پیش رفت دیکھی گئی ہے اور دونوں ممالک کے اہم ذمہ داران کی اہم ملاقاتیں اس بات کا مظہر ہیں کہ افغان حکومت ٹی ٹی پی کے خلاف کاروائی کرنے میں سنجیدہ ہے۔ کیونکہ خطے کا امن اسی چیز سے مشروط ہے کہ کوئی بھی اپنی سرزمین دہشتگردی کے لیے استعمال نہ ہونے دے۔

پاکستان کے عدم استحکام و بد امنی کی وجوہات پر نظر دوڑائی جائے تو اہم وجہ یہی ظاہر ہوتی ہیکہ ٹی ٹی پی پاکستان میں دہشتگردانہ کاروائیوں کے ارتکاب کے لیے افغان سرزمین و بارڈر استعمال کرتی ہے۔ لہذا افغان طالبان پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی وہ اپنی سرزمین کو دہشتگردی کیلئے استعمال ہونے سے روکنے میں سنجیدگی اختیار کرتے ہوئے عملی اقدامات اٹھائے۔


پاکستان نے ماضی قریب میں جب بھی یہ مطالبہ کیا تو سوائے مایوسی کے کچھ ہاتھ نہ آیا۔ مگر حالیہ پیش رفت اور دونوں جانب کی سنجیدگی اس بات کو ظاہر کرتی ہے کہ افغان حکام تحریک طالبان پاکستان کے خلاف عملی اقدامات اُٹھاتے ہوئے انکے سخت کاروائی عمل میں لائیں گے جو خطے و ہمسایہ ممالک کے لیے امن کا باعث بنے گا۔

پاکسستان کی سفارتی کوششیں اور نتائج


پاکستان دہائیوں سے یہ مطالبہ کرتا آرہا ہے کہ ٹی ٹی پی کے خلاف کاروائی عمل میں لائی جائے اور یہ مطالبہ ریاستِ پاکستان نے ہر سطح پر کیا ہے۔ چاہے بین الاقوامی فورم ہی کیوں نہ ہو مگر کوئی خاطر خواہ اور تسلی بخش کاروائی نہ ہوسکی۔ لیکن پاکستان نے اپنی سفارتی کوششیں جاری رکھیں۔ طالبان حکام کی سنجیدگی بھی پاکستان کی سفارتی کامیابی ہے۔

طالبان کی سنجیدگی امن کی ضامن


افغان طالبان کی سنجیدگی اس بات کو عیاں کرتی ہے کہ اب خطہ امن و استحکام کا گہوارہ بنے گا۔ وجہ اسکی یہ ہے کہ ماضی میں دہشتگردانہ کاروائیوں کرنے میں تحریک طالبان پاکستان آزاد تھی کوئی روک ٹوک اور خطرہ نہیں تھا مگر اب افغان حکام کی سنجیدگی یہ بات ظاہر کرتی ہیکہ مستقبل قریب میں سنجیدگی کا مظاہرہ کرتے ٹی ٹی پی کے خلاف عملی اٹھاتے نظر آئے گی اور نتیجتاً صرف پاکستان نہیں بلکہ پورے خطے پر گہرے اثرات مرتب ہونگے۔

دیکھیں: شمالی افغانستان میں داعش کی موجودگی نے خطے میں سنگین خطرے کی نشاندہی کر دی

متعلقہ مضامین

دفتر خارجہ کا کہنا ہے کہ اسرائیل کی توسیع پسندانہ کوششیں خطے میں بحرانوں کی بڑی وجہ ہیں، پاکستان نے مکہ اتحاد کو امن و استحکام کا اقدام قرار دیا ہے۔

November 7, 2026

پاکستان، ترکیہ، قطر اور انڈونیشیا کا بدر ایم او یو دفاعی صنعت، ٹیکنالوجی اور مشترکہ پیداوار میں تعاون بڑھانے کی اہم پیش رفت ہے۔

November 6, 2026

سعودی اتحاد نے مکہ ریجن کی جانب آنے والے ڈرون کو تباہ کرنے کا دعویٰ کیا ہے، پاکستان نے سعودی عرب کے ساتھ یکجہتی کا اعادہ کیا ہے۔

November 6, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *