خیبر پختونخوا میں آئینی مشینری کی ناکامی، امن و امان کے بگاڑ اور سرکاری وسائل کے ضیاع پر وفاقی حکومت آئین کے آرٹیکل 234 کے تحت انتظامی کنٹرول سنبھال سکتی ہے۔

September 22, 2026

خیبر پختونخوا میں بدامنی اور شہداء کے جنازوں سے صوبائی قیادت کی لاتعلقی پر سوالات اٹھ گئے۔

September 22, 2026

بنوں کے شہریوں نے خطے کو الگ صوبہ بنانے اور بنوں کو ہی صدر مقام کا درجہ دینے کا مطالبہ کیا ہے۔

September 22, 2026

خیبر پختونخوا میں پی ٹی آئی رہنماؤں اور اراکین اسمبلی پر احتجاج میں عوامی لاتعلقی کے بعد خود ساختہ گمشدگی اور اغوا کے ڈرامے رچانے کے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔

September 22, 2026

خیبر پختونخوا میں بدامنی کے پے در پے واقعات پر صوبائی حکومت کی گرفت کمزور، عوام اور سیاسی حلقوں کی جانب سے آئین کی دفعہ 232 کے تحت وفاقی مداخلت کا مطالبہ۔

September 22, 2026

خیبر پختونخوا میں گورننس کی تباہی اور وسائل کے ضیاع پر وفاق سے فوری مداخلت کا مطالبہ زور پکڑ گیا ہے۔

September 22, 2026

افغان حکومت کا ٹی ٹی پی کو غیر مسلح کرنے اور مختلف شہروں میں بسانے کا فیصلہ

طالبان حکام کی ٹی ٹی پی کے خلاف سنجیدگی پاکستان کی سفارتی کامیابی ہے
طالبان حکام کی ٹی ٹی پی کے خلاف سنجیدگی پاکستان کی سفارتی کامیابی ہے

افغان حکام کی سنجیدگی یہ بات ظاہر کرتی ہیکہ مستقبل قریب میں تحریک طالبان پاکستان کے خلاف عملی اقدامات کرے گی

July 23, 2025


حالیہ دنوں میں پاک افغان تعلقات میں اہم پیش رفت دیکھی گئی ہے اور دونوں ممالک کے اہم ذمہ داران کی اہم ملاقاتیں اس بات کا مظہر ہیں کہ افغان حکومت ٹی ٹی پی کے خلاف کاروائی کرنے میں سنجیدہ ہے۔ کیونکہ خطے کا امن اسی چیز سے مشروط ہے کہ کوئی بھی اپنی سرزمین دہشتگردی کے لیے استعمال نہ ہونے دے۔

پاکستان کے عدم استحکام و بد امنی کی وجوہات پر نظر دوڑائی جائے تو اہم وجہ یہی ظاہر ہوتی ہیکہ ٹی ٹی پی پاکستان میں دہشتگردانہ کاروائیوں کے ارتکاب کے لیے افغان سرزمین و بارڈر استعمال کرتی ہے۔ لہذا افغان طالبان پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی وہ اپنی سرزمین کو دہشتگردی کیلئے استعمال ہونے سے روکنے میں سنجیدگی اختیار کرتے ہوئے عملی اقدامات اٹھائے۔


پاکستان نے ماضی قریب میں جب بھی یہ مطالبہ کیا تو سوائے مایوسی کے کچھ ہاتھ نہ آیا۔ مگر حالیہ پیش رفت اور دونوں جانب کی سنجیدگی اس بات کو ظاہر کرتی ہے کہ افغان حکام تحریک طالبان پاکستان کے خلاف عملی اقدامات اُٹھاتے ہوئے انکے سخت کاروائی عمل میں لائیں گے جو خطے و ہمسایہ ممالک کے لیے امن کا باعث بنے گا۔

پاکسستان کی سفارتی کوششیں اور نتائج


پاکستان دہائیوں سے یہ مطالبہ کرتا آرہا ہے کہ ٹی ٹی پی کے خلاف کاروائی عمل میں لائی جائے اور یہ مطالبہ ریاستِ پاکستان نے ہر سطح پر کیا ہے۔ چاہے بین الاقوامی فورم ہی کیوں نہ ہو مگر کوئی خاطر خواہ اور تسلی بخش کاروائی نہ ہوسکی۔ لیکن پاکستان نے اپنی سفارتی کوششیں جاری رکھیں۔ طالبان حکام کی سنجیدگی بھی پاکستان کی سفارتی کامیابی ہے۔

طالبان کی سنجیدگی امن کی ضامن


افغان طالبان کی سنجیدگی اس بات کو عیاں کرتی ہے کہ اب خطہ امن و استحکام کا گہوارہ بنے گا۔ وجہ اسکی یہ ہے کہ ماضی میں دہشتگردانہ کاروائیوں کرنے میں تحریک طالبان پاکستان آزاد تھی کوئی روک ٹوک اور خطرہ نہیں تھا مگر اب افغان حکام کی سنجیدگی یہ بات ظاہر کرتی ہیکہ مستقبل قریب میں سنجیدگی کا مظاہرہ کرتے ٹی ٹی پی کے خلاف عملی اٹھاتے نظر آئے گی اور نتیجتاً صرف پاکستان نہیں بلکہ پورے خطے پر گہرے اثرات مرتب ہونگے۔

دیکھیں: شمالی افغانستان میں داعش کی موجودگی نے خطے میں سنگین خطرے کی نشاندہی کر دی

متعلقہ مضامین

خیبر پختونخوا میں آئینی مشینری کی ناکامی، امن و امان کے بگاڑ اور سرکاری وسائل کے ضیاع پر وفاقی حکومت آئین کے آرٹیکل 234 کے تحت انتظامی کنٹرول سنبھال سکتی ہے۔

September 22, 2026

خیبر پختونخوا میں بدامنی اور شہداء کے جنازوں سے صوبائی قیادت کی لاتعلقی پر سوالات اٹھ گئے۔

September 22, 2026

بنوں کے شہریوں نے خطے کو الگ صوبہ بنانے اور بنوں کو ہی صدر مقام کا درجہ دینے کا مطالبہ کیا ہے۔

September 22, 2026

خیبر پختونخوا میں پی ٹی آئی رہنماؤں اور اراکین اسمبلی پر احتجاج میں عوامی لاتعلقی کے بعد خود ساختہ گمشدگی اور اغوا کے ڈرامے رچانے کے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔

September 22, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *