لاہور ہائیکورٹ نے افغان میڈیکل طلبہ کو بے دخل کرنے سے روک دیا۔ عدالت نے ان کے امتحانی پرچے منسوخ نہ کرنے کی بھی ہدایت کردی۔

September 11, 2026

افغانستان میں عوام شدید غربت کا شکار ہیں۔ لیکن طالبان حکومت نے نفسیاتی جنگ اور پراپیگنڈا پر کروڑوں افغانی خرچ کرنا شروع کر دیے ہیں۔

September 11, 2026

صوابی میں اسکول کی بچیاں نالے سے گزرنے پر مجبور ہیں۔ کیونکہ پل نہ ہونے سے ان کی جان کو روزانہ خطرہ رہتا ہے۔

September 11, 2026

ایرانی وزیر خارجہ کا فیلڈ مارشل سے رابطہ ہوا ہے۔ اس لیے دونوں رہنماؤں نے خطے میں بڑھتی کشیدگی اور امن و سلامتی پر بات چیت کی۔

September 11, 2026

کرم میں انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کے دوران فتنۃ الخوارج کے 4 دہشت گرد ہلاک ہو گئے۔ کیونکہ سیکیورٹی فورسز نے بروقت کارروائی کر کے دہشت گردوں کا منصوبہ ناکام بنا دیا۔

September 11, 2026

تمپ میں سکیورٹی فورسز نے فتنۃ الہندوستان کے دہشت گردوں کا بڑا حملہ ناکام بنا دیا، پروٹیکشن اسکواڈ کے تمام اہلکار محفوظ رہے۔

September 11, 2026

پاکستان مخالف فتویٰ دینے پر افغانستان میں مذہبی رہنما گرفتار

اگر اس پالیسی کو تسلسل کے ساتھ اپنایا گیا تو پاک۔ افغان کے مابین تعلقات میں مزید بہتری آسکتی ہے
اگر اس پالیسی کو تسلسل کے ساتھ اپنایا جائے تو پاک۔ افغان کے مابین تعلقات میں مزید بہتری آسکتی ہے

پاکستان مخالف فتوی جاری کرنے پر افغان طالبان نے ملا عبدالسمیع غزنوی کو گرفتار کرلیا

July 25, 2025

افغانستان: طالبان نے افغان مذہبی رہنما ملا عبدالسمیع غزنوی کو گرفتار کرلیا ہے۔ وجہ یہ بتائی جارہی ہیکہ انہوں نے پاکستان کے خلاف فتوی دیا تھا جسکے بعد انہیں حراست میں لیا گیا ہے۔ یہ اقدام ثابت کرتا ہے کہ طالبان شدت پسند بیانیے کے خلاف کُھل کر سامنے آچکے ہیں۔ بالخصوص پاکستان مخالف بیانات کے خلاف اس طرز کے اقدام اُٹھانا افغان حکومت کا نہایت ہی خوش آئندہ اقدام ہے۔


امارتِ اسلامیہ افغانستان کا مذکورہ عمل ایک قابلِ ستائش عمل ہے، جہاں اس اقدام کو سراہا جارہا ہے وہیں طالبان کی پاک۔ افغان تعلقات میں سنجیدگی کو ثابت کرتے ہیں۔ توقع کی جارہی ہیکہ امارتِ اسلامیہ افغانستان کے ایسے اقدام پاک۔ افغان تعلقات میں مزید بہتری لائیں گے۔

پاکستان مخالف فتوی جاری کرنے پر افغان طالبان کا ملا عبدالسمیع غزنوی کو گرفتارکرنا ایک مثبت قدم ہے۔ یہ اقدام پاک۔ افغان تعلقات کی بہتری کی جانب اشارہ کرتا ہے۔ماضی میں بھی افغان مذہبی رہنماؤں کی جانب سے پاکستان مخالف فتوے دیئے گئے تھے مگر افغان حکام نے ان پر اقدام اُٹھانا تو دور کی بات کوئی واضح مؤقف بھی جاری نہیں کیا تھا۔

امارت اسلامیہ افغانستان کو جہاں بہت سے چیلنجز درپیش ہیں وہیں سب سے اہم ایسے شدت پسند گروہ ہیں جو اس طرز کے فتوے جاری کرکے امن و امان اور دنوں ممالک کے اتحاد کو سبوتاز کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ افغان حکام کو انکے خلاف مزید عملی اقدامات اٹھاتے ہوئے ایسے شدت پسند گروہوں سے ملک کو پاک کرنا ہوگا

افغان حکام کے لیے درپیش تحدیات

افغان حکام کے لیے یہ وقت ایک کڑی آزمائش ثابت ہورہا ہے۔ کیونکہ ماضی میں جب بھی پاک۔ افغان تعلقات بہتری کی جانب گامزن ہوئے یا دونوں ممالک کی آپس میں قربتیں بڑھنا شروع ہوئی تو ان شدت پسند عناصر نے کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیا اور ایسے بیانات جاری کرکے دوطرفہ تعلقات تعلقات اور اتحاد کو ناکام بنانے کی کوشش کی۔ لہذا افغان حکام کا جہاں یہ عمل قابلِ تحسین ہے وہیں یہ بھی دیکھنے ہوگا کہ مستقبل میں کیسے افغان طالبان ان شدت پسند عناصر سے نمٹتے ہیں اور یہ بات واضح ہیکہ خطے کا استحکام بھی ایسے اقدمات اٹھانے پر منحصر ہے ۔

دیکھیں: پاک افغان ازبکستان ریلوے منصوبہ اور خطے پر اس کے ممکنہ اثرات

متعلقہ مضامین

لاہور ہائیکورٹ نے افغان میڈیکل طلبہ کو بے دخل کرنے سے روک دیا۔ عدالت نے ان کے امتحانی پرچے منسوخ نہ کرنے کی بھی ہدایت کردی۔

September 11, 2026

افغانستان میں عوام شدید غربت کا شکار ہیں۔ لیکن طالبان حکومت نے نفسیاتی جنگ اور پراپیگنڈا پر کروڑوں افغانی خرچ کرنا شروع کر دیے ہیں۔

September 11, 2026

صوابی میں اسکول کی بچیاں نالے سے گزرنے پر مجبور ہیں۔ کیونکہ پل نہ ہونے سے ان کی جان کو روزانہ خطرہ رہتا ہے۔

September 11, 2026

ایرانی وزیر خارجہ کا فیلڈ مارشل سے رابطہ ہوا ہے۔ اس لیے دونوں رہنماؤں نے خطے میں بڑھتی کشیدگی اور امن و سلامتی پر بات چیت کی۔

September 11, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *