ڈیرہ اسماعیل خان میں سکیورٹی فورسز کے انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کے دوران فتنہ الخوارج کے تین اہم سرغنہ سمیت آٹھ دہشت گرد ہلاک ہو گئے۔

October 4, 2026

گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے کہا ہے کہ صوبے کو بچانے کے لیے ایمرجنسی لگانا پڑی تو ضرور لگائیں گے، اور اس صورت میں پی ٹی آئی کے لیے وہ اکیلے ہی کافی ہیں۔

October 4, 2026

حکومت اور پی ٹی آئی مذاکرات میں بنیادی تعطل خیبر پختونخوا میں انسدادِ دہشت گردی پر تحریری تعاون نہ ملنے کی وجہ سے پیدا ہوا، جبکہ سویلین عمل سے متعلق الزامات کو مسترد کر دیا گیا۔

October 4, 2026

طویل مذاکرات میں حکومت کے بڑے پن کے باوجود پی ٹی آئی نے انسدادِ دہشت گردی اور نیشنل ایکشن پلان پر تعاون سے انکار کر کے انتشار کی راہ چن لی۔

October 4, 2026

سعودی عرب اور یمن نے بحیرہ احمر کی بحالی کیلئے حوثیوں کیخلاف مشترکہ فوجی کارروائی کا حتمی خاکہ تیار کر لیا۔

October 4, 2026

طلال چوہدری کا کہنا ہے کہ معاہدہ طے تھا مگر اپوزیشن ٹیم کو کے پی سے ڈکٹیٹ کیا گیا، کے پی حکومت کے عدم تعاون پر مذاکرات ناکام ہوئے۔

October 4, 2026

ہمیں اپنی آزادی کیلئے بالکل 1965 جیسا جذبہ دکھانا ہوگا؛ گرپتونت سنگھ پنوں

پاکستان کے تاریخی کردار اور قربانیوں کو خالصتانی قیادت ایک مثال کے طور پر پیش کرتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ تحریک کے رہنما اکثر اپنی تقاریر اور بیانات میں پاکستان کی جرات کو حوالہ بناتے ہیں۔
ہمیں اپنی آزادی کیلئے بالکل 1965 جیسا جذبہ دکھانا ہوگا؛ گرپتونت سنگھ پنوں

انہوں نے کہا کہ "پاکستان ایک چھوٹا ملک ہونے کے باوجود پانچ گنا بڑے بھارت کے سامنے ڈٹ گیا۔ اس کے پاس وسائل محدود تھے لیکن ایمان، غیرت اور جرأت لامحدود تھی۔ آج ہمیں بھی اسی جذبے کی ضرورت ہے تاکہ ہم اپنی آزادی اور اپنے حقوق کے لیے دنیا کے سامنے ڈٹ سکیں۔"

September 6, 2025

خالصتان تحریک کے جنرل سیکرٹری گرپتونت سنگھ پنوں نے اپنے حالیہ خطاب میں کہا ہے کہ سکھ قوم کو اپنے مقصد کے حصول کے لیے اسی عزم اور حوصلے سے کھڑا ہونا ہوگا، جس طرح پاکستان نے 1965 کی جنگ میں بھارتی جارحیت کا مقابلہ کیا تھا۔

انہوں نے کہا کہ “پاکستان ایک چھوٹا ملک ہونے کے باوجود پانچ گنا بڑے بھارت کے سامنے ڈٹ گیا۔ اس کے پاس وسائل محدود تھے لیکن ایمان، غیرت اور جرأت لامحدود تھی۔ آج ہمیں بھی اسی جذبے کی ضرورت ہے تاکہ ہم اپنی آزادی اور اپنے حقوق کے لیے دنیا کے سامنے ڈٹ سکیں۔”

چھ ستمبر 1965 کو بھارت نے پاکستان پر حملہ کیا تھا، جس کے بارے میں دنیا کی بڑی طاقتوں اور بھارتی قیادت کو یقین تھا کہ پاکستان زیادہ دیر مزاحمت نہیں کر سکے گا۔ تاہم پاکستانی افواج، عوام اور قیادت نے ایسا شاندار دفاع کیا کہ یہ دن تاریخ میں “یومِ دفاع پاکستان” کے طور پر درج ہوگیا۔ لاہور کے محاذ سے لے کر سیالکوٹ کی سرزمین تک بھارتی جارحیت کو ناکام بنایا گیا اور دشمن کے منصوبے خاک میں مل گئے۔

خالصتان تحریک کی قیادت طویل عرصے سے بھارت کے اندر ہونے والے مظالم، مذہبی و سیاسی استحصال اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے خلاف آواز بلند کر رہی ہے۔ خاص طور پر 1984 کے سانحات میں سکھ برادری کے خلاف ریاستی جبر نے اس تحریک کو مزید جلا بخشی۔ اس دوران گردواروں پر بھی حملے کیے گئے جنہیں ٹینکوں سے روند دیا گیا۔ ان واقعات کے بعد سکھ قوم نے آزاد وطن کے قیام کا واضح ارادہ کیا۔

پاکستان کے تاریخی کردار اور قربانیوں کو خالصتانی قیادت ایک مثال کے طور پر پیش کرتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ تحریک کے رہنما اکثر اپنی تقاریر اور بیانات میں پاکستان کی جرات کو حوالہ بناتے ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ خالصتانی رہنما کا یہ بیان ظاہر کرتا ہے کہ بھارت کے خلاف آواز بلند کرنے والی تحریکیں پاکستان کو حوصلے اور عزم کی علامت سمجھتی ہیں۔ 1965 کی جنگ نے یہ پیغام دیا تھا کہ اصل طاقت ایمان، قربانی اور حوصلہ ہے، نہ کہ صرف وسائل۔

دیکھیں: !! ہمسایہ کا سکھ اپنا سکھ اور ہمسایہ کا دکھ اپنا دکھ

متعلقہ مضامین

ڈیرہ اسماعیل خان میں سکیورٹی فورسز کے انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کے دوران فتنہ الخوارج کے تین اہم سرغنہ سمیت آٹھ دہشت گرد ہلاک ہو گئے۔

October 4, 2026

گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے کہا ہے کہ صوبے کو بچانے کے لیے ایمرجنسی لگانا پڑی تو ضرور لگائیں گے، اور اس صورت میں پی ٹی آئی کے لیے وہ اکیلے ہی کافی ہیں۔

October 4, 2026

حکومت اور پی ٹی آئی مذاکرات میں بنیادی تعطل خیبر پختونخوا میں انسدادِ دہشت گردی پر تحریری تعاون نہ ملنے کی وجہ سے پیدا ہوا، جبکہ سویلین عمل سے متعلق الزامات کو مسترد کر دیا گیا۔

October 4, 2026

طویل مذاکرات میں حکومت کے بڑے پن کے باوجود پی ٹی آئی نے انسدادِ دہشت گردی اور نیشنل ایکشن پلان پر تعاون سے انکار کر کے انتشار کی راہ چن لی۔

October 4, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *