ایران کے شہر بندر عباس میں رہائشی عمارت میں دھماکے سے دو منزلیں تباہ، ریسکیو کارروائیاں جاری

January 31, 2026

اٹھارہ جنوری کو غزنی کے ضلع مالستان سے علماء کونسل کے سابق نائب صدر جان علی اکبری کو حراست میں لے کر غائب کر دیا گیا

January 31, 2026

سکیورٹی فورسز نے فتنہ الہندوستان کے 12 بیک وقت حملے ناکام بنائے، بھارتی میڈیا کا دہشت گردوں کے ساتھ گٹھ جوڑ بے نقاب

January 31, 2026

فیلڈ مارشل عاصم منیر سے ترک چیف آف جنرل اسٹاف جنرل سلجوق بائراک تروغلو کی اہم ملاقات، پاک ترکی دفاعی تعلقات کو مزید مضبوط بنانے اور خطے میں سلامتی و استحکام کے فروغ پر اتفاق

January 31, 2026

افغان طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے حالیہ انٹرویو میں افغانستان میں اتحاد، امن اور معاشی استحکام کے دعوے کیے ہیں، تاہم سکیورٹی، اقتصادی اور حکومتی صورتحال اس دعوے کے برعکس ہے

January 31, 2026

افغانستان سے متصل سرحدی علاقوں میں بڑھتے ہوئے سکیورٹی خطرات کے پیشِ نظر CSTO تاجکستان کی سرحدی فورسز کو جدید ترین فوجی سازوسامان فراہم کرے گا، جس کا ہدف عسکریت پسندی اور منشیات اسمگلنگ کو روکنا ہے

January 31, 2026

خلیجی ممالک میں اسرائیلی جارحیت اور عالمی برادری کی مجرمانہ خاموشی

قطر پر حملے نے عالمی برادری کو چونکا دیا ہے۔ یہ محض ایک خودمختار ریاست پر حملہ نہیں بلکہ بین الاقوامی قوانین کی کھلی خلاف ورزی ہے۔
خلیجی ممالک میں اسرائیلی جارحیت اور عالمی برادری کی مجرمانہ خاموشی

اسرائیل نے گزشتہ 24 گھنٹوں میں فلسطین، لبنان، شام، تیونس اور قطر پر حملے کیے ہیں۔ اس کے علاوہ ایران سمیت دیگر کئی ممالک اسرائیلی جارحیت کا نشانہ بن چکے ہیں۔

September 10, 2025

قطر کے دارالحکومت دوحہ پر اسرائیلی فضائی حملہ محض ایک فوجی کارروائی نہیں، بلکہ خطے کی سیاست اور عالمی طاقتوں کے توازن پر گہرا سوال ہے۔ یہ پہلا موقع ہے کہ اسرائیل نے ایک ایسے ملک کو نشانہ بنایا ہے جو نہ غزہ کی طرح بے بس ہے اور نہ ایران کی طرح عالمی پابندیوں میں جکڑا ہوا ہے۔ قطر امریکہ، برطانیہ اور فرانس کا اہم شراکت دار ہے اور اس کا شمار دنیا کی دس بڑی معیشتوں میں شمار ہوتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ ایسی اسٹریٹیجک ریاست اپنی خودمختاری کے خلاف اس کھلی جارحیت پر مؤثر جواب کیوں نہیں دے پا رہی؟

امریکہ اور اسرائیل: طاقت کا کھیل

غزہ میں جاری ہولناک جنگ کو روکنے کیلئے جب بھی امریکہ، خاص طور پر صدر ڈونلڈ ٹرمپ، مذاکرات کے لیے فریقین کو اکٹھا کرتے ہیں، اسرائیل ایک نئی کارروائی کر کے حالات کو مزید بگاڑ دیتا ہے۔ کیا اس کا مطلب یہ ہے کہ نیتن یاہو خود کو دنیا کا سب سے طاقت ور حکمران مانتے ہیں؟ کیا ٹرمپ یا دیگر امریکی و عالمی قیادت محض اسرائیلی پالیسی کے ہاتھوں کٹھ پتلی بن چکے ہیں؟ سوال یہ بھی ہے کہ کیا امریکہ کی پشت پناہی حاصل کر کے کوئی بھی ملک عالمی قوانین اور انسانی حقوق کی دھجیاں بکھیر سکتا ہے؟

قطر کی عسکری صلاحیت اور سوالیہ نشان

قطر کے پاس دنیا کے جدید ترین جنگی طیارے ہیں اور وہ خطے میں سب سے بڑے امریکی فوجی اڈے کی میزبانی کرتا ہے۔ اس کے باوجود اسرائیل کے حملے کے بعد قطر کی عسکری صلاحیت پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔ خلیجی تعاون کونسل کی مشترکہ ’’جزیرہ نما شیلڈ فورس‘‘ جس کا مقصد ہی جی سی سی کے ارکان ممالک بحرین ، کویت ، عمان ، سعودی عرب ، قطر اور متحدہ عرب امارات میں سے کسی کے خلاف فوجی جارحیت کو روکنا اور اس کا جواب دینا ہے، بھی برسوں سے کمزور تاثر دے رہی ہے۔ کیا یہ فورس اب حرکت میں آئے گی یا ایک بار پھر خاموش رہے گی؟

اگلا نشانہ کون؟

اسرائیل نے گزشتہ 24 گھنٹوں میں فلسطین، لبنان، شام، تیونس اور قطر پر حملے کیے ہیں۔ اس کے علاوہ ایران سمیت دیگر کئی ممالک اسرائیلی جارحیت کا نشانہ بن چکے ہیں۔ ان تمام حملوں پر جہاں اسرائیل کو امریکی پشت پناہی حاصل ہوتی ہے وہیں عالمی برادری بھی سوائے مذمت کے کوئی عملی اقدام نہیں کرتی۔ سوال یہ ہے کہ اب اگلا نشانہ کون ہوگا؟ کیا یہ جارحانہ اسرائیلی پالیسی خطے کو مزید عدم استحکام کی طرف دھکیلنے کی سوچی سمجھی حکمت عملی ہے؟

عالمی برادری کی ذمہ داری

قطر پر حملے نے عالمی برادری کو چونکا دیا ہے۔ یہ محض ایک خودمختار ریاست پر حملہ نہیں بلکہ بین الاقوامی قوانین کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ اب وقت آگیا ہے کہ دنیا اسرائیلی جارحیت پر محض مذمتی بیانات سے آگے بڑھ کر عملی اقدامات کرے۔ بصورت دیگر، خطے کا امن اور عالمی استحکام ایک ایسے بحران کا شکار ہو سکتا ہے جس کے اثرات پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے لیں گے۔

دیکھیں: اسرائیل کا قطر میں حماس کی قیادت پر فضائی حملہ، عالمی برادری کی شدید مذمت

متعلقہ مضامین

ایران کے شہر بندر عباس میں رہائشی عمارت میں دھماکے سے دو منزلیں تباہ، ریسکیو کارروائیاں جاری

January 31, 2026

اٹھارہ جنوری کو غزنی کے ضلع مالستان سے علماء کونسل کے سابق نائب صدر جان علی اکبری کو حراست میں لے کر غائب کر دیا گیا

January 31, 2026

سکیورٹی فورسز نے فتنہ الہندوستان کے 12 بیک وقت حملے ناکام بنائے، بھارتی میڈیا کا دہشت گردوں کے ساتھ گٹھ جوڑ بے نقاب

January 31, 2026

فیلڈ مارشل عاصم منیر سے ترک چیف آف جنرل اسٹاف جنرل سلجوق بائراک تروغلو کی اہم ملاقات، پاک ترکی دفاعی تعلقات کو مزید مضبوط بنانے اور خطے میں سلامتی و استحکام کے فروغ پر اتفاق

January 31, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *