مددگار یا مکار؟ جب محافظ ہی قاتل اور درندے بن جائیں

مددگار یا مکار؟

مظفرگڑھ اور فیصل آباد کے افسوسناک واقعات نے رشتوں کے خلوص اور تحفظ کے دعوؤں کو بے نقاب کر دیا ہے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جنہیں ہم اپنا محافظ اور ہمدرد سمجھتے ہیں، وہ حقیقت میں مددگار ہیں یا مکار؟

بلوچستان نیشنل موومنٹ کی جنیواکانفرنس میں ریاست مخالف بیانیے کی گونج

بلوچستان کانفرنس میں ریاست مخالف بیانے کو بڑھا چڑھا کر پیش کیا گیا جو مُلکی سلامتی کے لیے خطرے کا باعث بن سکتی ہے
بلوچستان کانفرنس میں ریاست مخالف بیانے کو بڑھا چڑھا کر پیش کیا گیا جو مُلکی سلامتی کے لیے خطرے کا باعث بن سکتی ہے

بلوچستان نیشنل موومنٹ نے مہرنگ بلوچ کے اغوا کے خلاف ایمسٹرڈیم میں احتجاج کیا

September 16, 2025

جینوا میں بلوچ نیشنل موومنٹ نے پیر کے روز جنیوا پریس کلب میں انٹرنیشنل کانفرنس کا انعقاد کیا۔ تقریب کا عنوان تھا بلوچستان کی جدوجہد: حقوق، مزاحمت اور علاقائی اہمیت۔
اس منعقدہ تقریب میں جہاں دیگر مسائل کو اجاگر کیا گیا وہیں ریاست مخالف بیانیہ بھی پیش کیا گیا۔

اگرچہ بی این ایم اس کانفرنس کو ایک سیاسی و سفارتی سرگرمی قرار دے رہی ہے لیکن حقیقتِ حال کو دیکھا جائے تو اصل مقصد بلوچستان میں جاری علیحدگی پسند اور ریاست مخالف بیانے کو بڑھا چڑھا کر پیش کرنا ہے۔

شدت پسند تنظیموں سے روابط کے الزامات

بلوچستان نیشنل موومنٹ پر طویل عرصے سے یہ الزام عائد کیا جارہا تھا کہ انکے کالعدم تنظیموں سے گہرے روابط ہیں۔ اور ایسے افراد کو سامنے لایا جا رہا ہے جن پر ریاست مخالف سرگرمیوں میں ملوث ہونے کے الزامات ہیں۔ جیسے ماہ رنگ بلوچ جس پر الزام عائد ہے کہ غیر ملکی ایجنسیوں سے دس ملین ڈالر کے عوض پاکستان میں ریاست مخالف بیانیے پر گامزن ہیں۔

سیاست کی آڑ میں شدت پسندی کا فروغ

اگرچہ بلوچستان نیشنل موومنٹ بظاہر ایک سیاسی جماعت نظر آتی ہے لیکن اس جماعت کی سرگرمیاں بلوچ یکجہتی کمیٹی جیسی تنظیموں سے کافی مطابقت رکھتی ہیں جنہیں ادارے ریاست دشمن قرار دے چکے ہیں۔

بلوچستان نیشنل موومنٹ کے سیکریٹری اطلاعات داد محمد ریحان نے حال ہی میں آپریشن بام کی کھل کر حمایت کی جس میں 9 شہری جاں بحق ہوئے تھے۔

کانفرنس میں شرکت کرنے والے مقررین میں نیشنل ڈیموکریٹک موومنٹ کے صدر اور پشتون تحفظ موومنٹ کے محسن داوڑ بھی شریک تھے جن پر طویل عرصے سے ریاست مخالف عناصر کو سیاسی تحفظ فراہم کرنے کے الزامات لگتے رہے ہیں۔

ترقیاتی منصوبے خطرے میں

سیکیورٹی حکام کا کہنا ہے کہ اس قسم کے بیانیے نہ صرف بلوچستان میں جاری ترقیاتی سرگرمیوں کے لیے خطرے کا باعث ہیں بلکہ ملکی سلامتی کو بھی خطرات لاحق ہوسکتے ہیں۔ سی پیک سمیت متعدد اہم منصوبوں کو سنگین خطرات لاحق ہوسکتے ہیں۔

دیکھیں: باجوڑ، مہمند اور دیر میں ہلاک ٹی ٹی پی جنگجوؤں کی لاشیں افغانستان کے حوالے کر دی گئیں

متعلقہ مضامین

پاکستان، ترکیہ، قطر اور انڈونیشیا کا بدر ایم او یو دفاعی صنعت، ٹیکنالوجی اور مشترکہ پیداوار میں تعاون بڑھانے کی اہم پیش رفت ہے۔

November 6, 2026

سعودی اتحاد نے مکہ ریجن کی جانب آنے والے ڈرون کو تباہ کرنے کا دعویٰ کیا ہے، پاکستان نے سعودی عرب کے ساتھ یکجہتی کا اعادہ کیا ہے۔

November 6, 2026

چین نے ڈی ایف 61 بین البراعظمی میزائل کو راکٹ فورس میں شامل کرلیا، شمالی کوریا کے نئے تجربات اور جاپان کی جوہری پالیسی بھی عالمی توجہ کا مرکز بن گئی۔

November 6, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *